ڈکار: سینیگال کی حکومت نے فٹبال میچ کے دوران تصادم کے سبب ہلاکتوں اور ملک میں رواں ماہ ہونے والے انتخابات کے تناظر میں جولائی کے اختتام تک کسی بھی قسم کی کھیلوں اور ثقافتی سرگرمیوں کو موخر کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

سینیگال میں رواں ماہ 30 جولائی کو قانون ساز انتخابات منعقد کیے جائیں گے جس کے لیے ملک میں حریف جماعتوں کے درمیان صورتحال کشیدہ ہے۔

سینیگال کے وزیراعظم کے ترجمان سیدو گوئے کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں انتخابی مہم کے دوران ہر قسم کی کھیلوں اور ثقافتی سرگرمیوں پر پابندی لگادی گئی ہے۔

مزید پڑھیں: فٹبال میچ سے قبل بھگدڑ مچنے سے چار افراد ہلاک

واضح رہے کہ ہفتہ (15 جولائی) کو سینیگال کے دار الحکومت ڈکار میں اسٹاڈے ڈی بور اور یو ایس اوکام کے درمیان لیگ کپ کے فائنل کے دوران مخالف ٹیموں کے حامیوں میں تصادم ہوگیا جس کے نتیجے میں اسٹیڈیم کی ایک دیوار گرنے سے 8 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

واقعے کے بعد اسٹیڈیم میں بھگدڑ مچ گئی جس کے نتیجے میں 60 سے زائد تماشائی زخمی بھی ہوئے۔

وزیراعظم کے ترجمان نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس کی جوڈیشل انکوائری کرائی جائے گی اور ذمہ داروں کا تعین کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: فٹبال میچ میں اسٹینڈ سے نیچے پھینکا جانے والا فین ہلاک

دوسری جانب سینیگال کے صدر نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ انہیں انسانی جانوں کے ضیاع پر نہایت افسوس ہے جبکہ انہوں نے ملک بھر کے اسٹیڈیم میں بہتر سیکیورٹی کی فراہمی اور واقعے میں ہلاک ہونے والے افراد کے خاندانوں کے لیے انصاف کی فراہمی کی بھی یقین دہانی بھی کرائی۔

یاد رہے کہ براعظم افریقہ میں فٹبال کے مقابلوں کے دوران نا مناسب حفاظتی اقدامات کی وجہ سے تماشائی کے درمیان تصادم اور بھگدڑ کے واقعات عام ہیں۔

رواں سال فروری میں افریقی ملک انگولا میں ایک میچ کے دوران بھگدڑ مچنے سے 17 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔


یہ خبر 17 جولائی 2017 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی