صوبہ پرانہ کی اسٹیٹ اسمبلی کی رکن 25 سالہ ماریہ وکٹوریہ برازیل کے وزیر صحت کی صاحبزادی ہیں۔—فوٹو: یوٹیوب/اسکرین شاٹ
صوبہ پرانہ کی اسٹیٹ اسمبلی کی رکن 25 سالہ ماریہ وکٹوریہ برازیل کے وزیر صحت کی صاحبزادی ہیں۔—فوٹو: یوٹیوب/اسکرین شاٹ

برازیلیا: برازیلین سیاستدان ماریہ وکٹوریہ کو ان کی شادی کے موقع پر ہاتھوں میں انڈے لیے موجود سیکڑوں مظاہرین نے بکتر بند گاڑی میں رخصت ہونے پر مجبور کردیا۔

برطانوی روزنامے 'دی انڈپینڈنٹ' کی رپورٹ کے مطابق برازیلین سیاستدان کے لیے صورتحال نے اس وقت تشویش ناک رخ اختیار کیا جب جمعہ (14 جولائی) کی شام سیکڑوں کی تعداد میں مظاہرین اُس چرچ کے باہر جمع ہوگئے جہاں ان کی شادی کی تقریب جاری تھی۔

چرچ کے باہر جمع ہوجانے والے مظاہرین نے ہاتھوں میں حکومت مخالف بینرز اٹھا رکھے تھے اور وہ نعرے بازی کررہے تھے۔

مظاہرین نے خاتون سیاستدان پر انڈے پھینکے اور اس صورتحال میں ماریہ وکٹوریہ کو بکتربند گاڑی میں چرچ سے جانا پڑا۔

مزید پڑھیں: خاتون نے شادی کی تقریب سے دولہا اغوا کرلیا

ماریہ وکٹوریہ کی جانب سے ان کی شادی میں شرکت کے لیے آنے والے مہمانوں کے ساتھ جسمانی اور زبانی بدسلوکی کا الزام بھی لگایا گیا۔

واضح رہے کہ صوبہ پرانہ کی اسٹیٹ اسمبلی کی رکن 25 سالہ ماریہ وکٹوریہ برازیل کے وزیر صحت کی صاحبزادی ہیں۔

ماریہ وکٹوریہ کے مطابق ان کے ساتھ ایسا برتاؤ اس لیے کیا گیا کیونکہ ان کا خاندان صدر مائیکل ٹیمر کی حمایت کرتا ہے۔

یہ بھی دیکھیں: شادی کی پیشکش کا انوکھا انداز

خیال رہے کہ گذشتہ ماہ صدر مائیکل ٹیمر پر گوشت پیکنگ کرنے والی ایک بڑی کمپنی کی جانب سے رشوت وصول کرنے کے الزامات عائد کیے گئے تھے، تاہم مائیکل ٹیمر نے ان تمام الزامات کو مسترد کردیا تھا۔

پرانہ اسٹیٹ کیپیٹل میں ہونے والی اس پرتعیش شادی میں صوبے کا بااختیار سیاسی طبقہ شامل تھا جن میں ماریہ کے والد ریکارڈو بروس، والدہ سیدا بورغیٹی بھی شامل تھیں۔

برازیلین کانگریس کے 30 افراد کو بھی دارالحکومت سے شادی میں شرکت کے لیے مدعو کیا گیا تھا۔