آزاد کشمیر کے ضلع کوٹلی میں لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے قریب بھارتی فوج کی 'بلااشتعال' فائرنگ کے نتیجے میں 3 خواتین سمیت مزید 5 افراد زخمی ہوگئے۔

پاکستان اور بھارت کے ڈائریکٹر جنرل آپریشنز(ڈی جی ایم اوز) کے درمیان اتوار کو وادی نیلم میں مارٹر گولے کے حملےکے بعد ہاٹ لائن پر معمول کے مطابق ہفتہ وار رابطہ ہوا جبکہ آزاد کشمیر کے ضلع کوٹلی کے سیکٹر نکیال میں علی الصبح بھارتی فوج کی فائرنگ کا واقعہ پیش آیا۔

مقامی حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز کے واقعے کے بعد ایل او سی پر بھارتی جارحیت میں کمی نہیں آئی۔

ڈان کو پولیس افسر خورشید احمد نےبتایا کہ 'نکیال سیکٹر کے تمام گاؤں کو نشانہ بنایا گیا ہے اور صبح سات بجے سے بلاامتیاز مارٹر گولے برسائے جارہے ہیں'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'اب تک زخمی ہونے والے 5 افراد کو تحصیل ہستپال نکیال لایا گیا ہے جنھیں کئی زخم آگئے ہیں لیکن مجھے خدشہ ہے مزید افراد بھی زخمی ہوسکتے ہیں'۔

ہسپتال میں موجود زخمی افراد کی شناخت 38 سالہ شاہین کوثر اور 32 سالہ نزاکت علی بابرجن کا تعلق اولی گاؤں سے ہے، 28 سالہ افتخاراحمد کا تعلق مرگ جھیر، 50 سالہ گل بیگم کا تعلق بالاکوٹ اور گاؤں کندا سے تعلق رکھنے والی 28 سالہ سفینہ کوثرکے نام سے ہوئی۔

ڈی جی ایم اوز کے رابطے میں پاکستان کے میجرجنرل ساحر شمشاد مرزا نے بھارتی ہم منصب لیفٹننٹ جنرل انیل کمار بھٹ سے 'پاک فوج کی گاڑی کو نشانہ بنانے جس کے نتیجے میں 4 فوجیوں کی شہادت اور ایک فوجی سمیت کئی افراد کے زخمی ہونے پر'احتجاج کیا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق پاکستانی ڈی جی ایم او میجر جنرل ساحر شمشاد مرزا نے بھارتی ڈی جی ایم او سے احتجاج کیا اور کہا کہ بھارتی فورسز کی جانب سے جان بوجھ کر پاک فوج کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا۔

ڈان نیوز کے مطابق انہوں نے بتایا کہ بھارتی فورسز کے حملے کے نتیجے میں 4 فوجی جوان شہید اور 1 فوجی سمیت دو افراد زخمی ہوئے۔

مزید پڑھیں:بھارتی فائرنگ:پاک فوج کے 4 جوان دریائے نیلم میں ڈوب گئے

آئی ایس پی آر کے مطابق میجر جنرل شمشاد مرزا نے بھارتی ہم منصب کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس قسم کے اقدامات کسی بڑے سانحے کا سبب بن سکتے ہیں جبکہ اس طرح کے واقعات کشیدگی میں اضافہ کرکے خطے میں امن و سلامتی کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

میجر جنرل شمشاد مرزا کا کہنا تھا کہ پاکستان اس حد تک نہیں جانا چاہتا جہاں پر ایک دوسرے کی سپلائی لائنیں بند کردی جائیں۔

پاکستانی ڈی جی ایم او نے انتباہ کی کہ بھارت کی جانب سے اس قسم کی خلاف ورزیاں نہ روکی گئیں تو پاکستان بھرپور اور سخت جواب دے گا۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز وادی نیلم میں ایل او سی کے قریب بھارتی فوج کی فائرنگ سے پاک فوج کی گاڑی دریا میں جاگری تھی اور چار فوجی بھی ڈوب گئے تھے۔

آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ بھارتی فوج کی فائرنگ کا واقعہ گزشتہ سال مسافر بس پر ہونے والی فائرنگ جیسا ہی واقعہ تھا جس میں 10 افراد جاں بحق اور 17 زخمی ہوگئے تھے۔