لاہور: پاکستان سپر لیگ کے اسپاٹ فکسنگ کیس میں معطل اوپننگ بلے باز شرجیل خان کے کیس کے ٹرییونل میں فریقین کے حتمی دلائل کے بعد سماعت مکمل ہوگئی ہے اور فریقین کی جانب سے 29 جولائی کو تحریری دلائل جمع کرانے کے 30 دن بعد ٹریبونل کا فیصلہ متوقع ہے۔

پی ایس ایل کے دوسرے ایڈیشن میں منظر عام پر آنے والے اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل کی تحقیقات کیلئے بنائے گئے ٹریبونل کے سامنے پیر کو فریقین نے حتمی دلائل دیے جس کے ساتھ ہی مقدمے کی سماعت مکمل ہو گئی اور اب 29جولائی کو دونوں فریقین تحریری دلائل جمع کرائیں گے۔

سماعت کے بعد شرجیل خان کے وکیل شیغان اعجاز نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے بہتر دلائل دیے اور ثبوتوں سے ثابت کردیا کہ ہمارا کیس مضبوط ہے۔

شیغان اعجاز نے کہا کہ ہم یہ تسلیم کر چکے ہیں کہ بکی کے رابطے پر شرجیل خان پی سی بی حکام کو آگاہ کرنے میں ناکام رہے لیکن فیصلہ آنے کے بعد پتہ چلے گا کہ کونسا فریق چیلنج کرتا ہے۔

پی سی بی کے قانونی مشیر تفضل رضوی نے کہا کہ کارروائی اختتام پذیر ہوگئی ہے اور ٹریبیونل نے فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے فریقین کو تحریری دلائل 29 جولائی تک جمع کروانے کی ہدایت کی ہے جس کے 30 دن بعد ٹریبیونل اپنا فیصلہ سنائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ٹرییبونل میں یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ ڈاٹ بالز میرٹ پر نہیں بلکہ پلاننگ کے تحت کھیلی گئیں اور فیصلہ ہمارے حق میں آئے گا۔

ادھر ناصر جمشید کے وکیل حسن وڑائچ نے الزام عائد کیا کہ پی سی بی اپنے آفیشلز کو بچانے کے لئے قومی کرکٹرز کو قربانی کا بکرا بنا رہا ہے۔

ناصر جمشید کے وکیل نے پی سی بی کے ثبوت مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسا تو بنانا ری پبلک میں بھی قابل قبول نہیں ہوتا، پی سی بی کے ثبوت دیکھ کر سوائے ہنسی کے کچھ نہیں آتا۔

البتہ پی سی بی کے قانونی مشیر تفضل رضوی نے کہا کہ کسی کو بھی قربانی کا بکرا نہیں بنایا جا رہا، زبانی باتوں اور الزامات کے بجائے ثابت کیا جائے کہ کس آفیشل پر اعتراض ہے۔

انہوں نے کہا کہ پی سی بی کی کسی سے کوئی ذاتی رنجش نہیں ہے اور ہمیں آخر پانچ ٹیموں میں سے صرف انہی کھلاڑیوں کو کیوں ٹارگٹ کرنا تھا، اس میں آخر ہمارا کیا مفاد ہو سکتا ہے۔