حکومت اور آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن کے درمیان مذاکرات ناکام

25 جولائ 2017

ای میل

— فائل فوٹو
— فائل فوٹو

اسلام آباد: حکومت اور آل پاکستان آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن (اے پی او ٹی اے) کے درمیان مذاکرات ناکام ہونے کے بعد ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کے بحران کا خطرہ پیدا ہوگیا۔

گزشتہ روز آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن نے متعدد مطالبات کی منظوری تک ملک گیر ہڑتال کرتے ہوئے ٹینکرز کھڑے کردیئے اور ملک بھر میں تیل کی فراہمی معطل کر دی تھی۔

آل ٹینکرز ایسوسی ایشن نے کرایوں میں اضافے، سانحہ احمد پور شرقیہ کے بعد اوگرا کی جانب سے سخت قوانین کے فوری نفاذ، سندھ اور پنجاب میں ہائے ویز پر دوران سفر مقامی اور موٹر وے پولیس سمیت انتظامیہ کی جانب سے بھاری جرمانوں اور چالان کے خلاف ہڑتال کا اعلان کیا تھا۔

ہڑتال کے باعث ملک بھر میں تقریباً 23 ہزار آئل ٹینکرز کی نقل و حمل رک گئی ہے، جس کے باعث پیٹرولیم مصنوعات کی پمپس کو فراہمی متاثر ہوئی ہے۔

مزید پڑھیں: بہاولپور سانحہ: اوگرا نے شیل پر 1 کروڑ روپے جرمانہ عائد کردیا

سیکریکٹری پیٹرولیم کی زیر صدارت منگل کے روز ہونے والے مذاکرات میں آئل ٹینکرز کانٹریکٹر ایسوسی ایشن (او ٹی او اے) کے چیئرمین میر محمد شہوانی کی جانب سے یہ مطالبات سامنے آئے۔


  • نیشنل لاجسٹک سیل کو ختم کیا جائے۔

  • ٹینکرز کو کوہاٹ ٹنل سے گزرنے کی اجازت دی جائے۔

  • پشاور تک آئل کی ترسیل کے لیے صرف ٹینکرز ہی ذریعہ ہونے چاہیے۔

  • موجودہ ریگولیشن سسٹم کو جاری رکھا جائے اور ان میں سختی نہ کی جائے۔

  • ٹینکرز کے ٹیرف میں اضافہ کیا جائے۔


مذاکرات ناکام ہونے کی وجہ آئل ٹینکرز اونرز ایسوسی ایشن (او ٹی او اے) کی جانب سے مطالبات سے پیچھے ہٹنے اور مطالبات پورے ہونے تک احتجاج جاری رکھنے پر بضد رہنے کی صورت میں سامنے آئی۔

تاہم اوگرا کے ترجمان عمران غزنوی نے میڈیا سے گفتگو کے دوران ان مطالبات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’اتھارٹی کو بلیک میلنگ کے ذریعے دیوار سے نہیں لگایا جاسکتا۔‘

انہوں نے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں پر ٹینکرز ایسوسی ایشن کی پشت پناہی کا الزام بھی عائد کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ٹینکرز ایسوسی ایشن اوگرا کے لائسنس یافتہ نہیں ہیں، جبکہ اوگرا کی لائسنسی آئل مارکیٹنگ کمپنیاں ہیں، کمپنیوں کی جانب سے قوانین سے راہ فرار کی کوشش کی جار ہی ہے اور حفاظتی قوانین پر عمل درآمد نہیں ہو رہا۔‘

عمران غزنوی نے کہا کہ ’اوگرا نے گزشتہ پانچ سالوں کے دوران آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو متعدد خطوط لکھے، تاہم کمپنیوں کی جانب سے ان خطوط کا کوئی جواب نہیں دیا گیا۔‘

انہوں نے کہا کہ ’آئل مارکیٹنگ کمپنیاں انسانی جانوں پر کمپرومائز کرنا چاہتی ہیں، تاہم اوگرا انہیں ایسا نہیں کرنے دے گا۔‘

ایک سوال کے جواب میں عمران غزنوی نے بتایا کہ وہ مارکیٹنگ کمپنیوں کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہیں اور کمپنیوں کو جلد مذاکرات کے لیے بلایا جائے گا۔