Email


Your Name:


Recipient Email:



واشنگٹن کی مسجد میں قائم فلاحی کلینک


رپورٹ: حسین افضل

’ویسے تو یہ ایک فلاحی کلینک ہے، مگر ہم چاہتے ہیں کہ یہ کسی بھی دوسرے امریکی کلینک جیسا ہی دکھائی دے‘، یہ الفاظ ڈاکٹر راشد چھوٹانی کے ہیں، جو واشنگٹن ڈی سی میں مسلم کمیونٹی سینٹر (ایم سی سی) میڈیکل کلینک کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ہیں۔

امریکا کے دیگر کلینکس کی طرح ایم سی سی کلینک بھی جدید ترین طبی آلات و سہولیات سے لیس ہے، جس سے اس کا مقابلہ کسی بھی کلینک سے کیا جا سکتا ہے۔ مگر یہ اپنے آپ میں بالکل منفرد بھی ہے۔

لابی میں مختلف قومیتوں سے تعلق رکھنے والے مریض اپنی اپنی زبانوں میں گفتگو کر رہے ہیں۔ ان میں سے کئی مریض ایسے بھی ہیں جو انگلش بالکل نہیں بول سکتے۔ نہ صرف یہ کہ ایم سی سی کلینک کسی بھی قسم کی تفریق نہیں کرتا، بلکہ یہ ایک قدم اور آگے جاتا ہے۔ دنیا بھر سے تعلق رکھنے والے کلینک کے اسٹاف ممبران مریضوں سے ان کی اپنی زبانوں میں بات کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

ڈاکٹر چھوٹانی فخریہ انداز میں بتاتے ہیں کہ "ہمارے پاس افریقہ سے تعلق رکھنے والے بہت سے لوگ ہیں۔ اس کے علاوہ ہمارے پاس اردو، ہندی، بنگالی، ہسپانوی اور فرانسیسی، اور دیگر کئی زبانیں بولنے والے لوگ کام کرتے ہیں۔"

مِس لوری انڈینبام، جو یہاں پرسنل اسسٹنٹ اور انٹرن ہیں، اس کلینک کو اپنا 'طبی گھر' قرار دیتی ہیں، اور ان کے نزدیک یہاں کا ثقافتی طور پر گوناگوں ماحول ہر کسی کو کھلے دل سے خوش آمدید کہتا ہے۔

اس کلینک کی سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ ایک مسجد کے اندر قائم ہے۔ مگر پھر بھی یہاں آنے والے 50 فیصد سے زیادہ مریض دیگر مذاہب سے تعلق رکھتے ہیں۔

ڈاکٹر چھوٹانی ڈان سے بات کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ "یہاں ہم پوری برادری کی خدمت کرتے ہیں، صرف مسلمانوں کی نہیں۔"

ڈاکٹر چھوٹانی کلینک میں ایک مریض سے بات کر رہے ہیں۔
ڈاکٹر چھوٹانی کلینک میں ایک مریض سے بات کر رہے ہیں۔

ایک 'ناممکن' تصور

ڈاکٹر چھوٹانی اپنے ساتھ ڈاکٹر آصف قادری کی تعریف کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ کس طرح انہوں نے کلینک قائم کیا۔

14 سال قبل ڈاکٹر قادری ایم سی سی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے پاس ایک ایسے مفت کلینک کا تصور لے کر گئے جہاں علاج کی استطاعت اور انشورنس نہ رکھنے والے افراد کو طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

ابھی کلینک کا آغاز بھی نہیں ہوا تھا کہ کئی لوگوں نے کہنا شروع کر دیا کہ یہ کام نہیں کرے گا۔

مگر بورڈ رضامند ہوگیا اور سینٹر کے اندر ہی انہیں اپنے کام کے لیے زمین الاٹ کر دی۔ 2003 میں ڈاکٹر قادری نے باضابطہ طور پر کلینک کا آغاز کیا۔ شروع میں یہ رضاکارانہ بنیادوں پر اور ہفتے میں صرف ایک دن کام کرتا تھا۔ اس پورے سال میں کلینک میں 53 مریضوں کا علاج کیا گیا۔

آج کلینک کافی ترقی کر گیا ہے اور اب توقع ہے کہ یہ سال میں سترہ ہزار تک مریضوں کا علاج کرے گا۔ اب یہ ہفتے کے ساتوں دن، روز کے آٹھ گھنٹے کھلتا ہے، اور اتنا وسیع ہو چکا ہے کہ اس میں ہر طرح کے علاج کی سہولیات اور ڈاکٹرز موجود ہیں۔

کمیونٹی کے لیے کام کرنا اور تصورات تبدیل کرنا

ڈاکٹر چھوٹانی کمیونٹی کے لیے کام کرنے پر زور دیتے ہیں۔ اپنے اس عزم پر کام کرتے ہوئے شکاگو کی یونیورسٹی آف الینوائے کے میڈیکل اسکول سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ پاکستان واپس گئے تاکہ اپنے والد اور ان کے ساتھیوں کا ہاتھ بٹا سکیں جنہوں نے کھارادر جنرل ہسپتال نامی ادارہ قائم کر رکھا تھا۔

پھر وہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے امریکا واپس آئے، اور مشہور و معروف جان ہوپکنز اسکول آف پبلک ہیلتھ کا حصہ بن گئے۔

دنیا بھر میں گزارے گئے وقت کے دوران انہوں نے ملک سے باہر مقیم پاکستانیوں کو دیکھا جنہوں نے اپنے لیے تو بہت کچھ کر رکھا تھا، مگر وہ کمیونٹی کو کچھ نہیں دے رہے تھے۔ وہ پوچھتے ہیں، "پاکستانی دنیا بھر میں رہتے ہیں اور مالی طور پر نہایت مستحکم ہیں۔ آپ ان کے عالیشان گھر دیکھیں، ان کی خوبصورت گاڑیاں دیکھیں، مگر انہوں نے اس ملک، اس کمیونٹی کے لیے کیا کیا ہے جہاں وہ رہتے ہیں؟"

چنانچہ ڈاکٹر چھوٹانی نے اپنی کارپوریٹ پوزیشن چھوڑ دی اور ایم سی سی کلینک میں شمولیت اختیار کر لی۔ انہیں یہ سوچنا یاد ہے کہ "کسی نہ کسی طرح راہ نکل آئے گی۔" وہ کہتے ہیں، "میں چاہتا تھا کہ یہ کلینک ایک روشن مثال بنے۔ اب ہم امریکا کا سب سے بڑا مذہبی بنیادوں پر قائم کثیر اسپیشلٹی والا کلینک ہیں۔ لوگوں کو اپنا علاج کروانے کے لیے اس مسجد میں آنا پڑتا ہے؛ وہ جانتے ہیں کہ یہ ایک مسلم ادارہ ہے، وہ جانتے ہیں کہ یہ پاکستانی چلا رہے ہیں، ہمیں خود کچھ کہنا نہیں پڑتا، صرف انہیں نگہداشت فراہم کرنی ہوتی ہے۔"

ڈاکٹر چھوٹانی کو 2016 میں نیٹو کی جانب سے سائنٹیفک اچیومنٹ ایوارڈ دیا گیا۔ تصویر بشکریہ ڈاکٹر چھوٹانی
ڈاکٹر چھوٹانی کو 2016 میں نیٹو کی جانب سے سائنٹیفک اچیومنٹ ایوارڈ دیا گیا۔ تصویر بشکریہ ڈاکٹر چھوٹانی

"11 ستمبر سے اب تک ہم جو کام کر رہے ہیں، وہ مختلف برادریوں کے درمیان پلوں کی تعمیر ہے، ایک ایسے ماحول کی تعمیر، جس سے ہم اپنی اقدار میں رہتے ہوئے ہم آہنگ ہوں۔ ایسا کرنے کے لیے ہمیں کمیونٹی کے ساتھ میل جول رکھنا ہوگا۔"

گزشتہ سال ڈاکٹر چھوٹانی کی انہی کوششوں کا اعتراف ایک بڑے فورم پر کیا گیا۔ ان کا نام شہہ سرخیوں میں تب آیا جب انہیں نیٹو کی جانب سے 'سائنٹیفک اچیومنٹ ایوارڈ 2016' دیا گیا۔ ڈاکٹر چھوٹانی کو یہ ایوارڈ تباہی پھیلانے والے حیاتیاتی ذرائع کی روک تھام کے لیے تحقیق پر دیا گیا۔

ڈاکٹر چھوٹانی کہتے ہیں، "یہ ایک بہت ہی دلچسپ اور عاجزانہ تجربہ تھا، اور ایک بہت بڑا انعام بھی، میں نے کبھی بھی اس کی توقع نہیں کی تھی۔"

وہ بتاتے ہیں کہ یہ ایوارڈ ایسے وقت میں انہیں ملا جب ہر کوئی مسلمانوں اور پاکستانیوں کو دہشتگرد سمجھ رہا تھا، اسی دوران ایک پاکستانی کو انسدادِ دہشتگردی کے لیے کام کرنے پر یہ ایوارڈ دیا گیا۔

"اس کی ٹائمنگ بہت اچھی تھی۔ ایک مسلمان کو دہشتگرد قرار دینے کے بجائے انسدادِ دہشتگردی کے لیے کام کرنے پر ایوارڈ دیا گیا، ہر لحاظ سے یہ ایک بہترین تجربہ تھا۔"


انگلش میں پڑھیں (ترجمہ : بلال کریم مغل)