خیبرپختونخوا کے علاقے شانگلہ میں ایک جوڑے کو مبینہ طورپر غیرت کے نام پر ہلاک کردیا گیا۔

کروڑاپولیس اسٹیشن کے ایس ایچ او بخت ظہیرکا کہنا تھا کہ شانگلہ کے علاقے دنائی کروڑا میں مکئی کے ایک کھیت سے 19 سالہ لڑکی اور 22 سالہ آدمی کی گولیوں سےچھلنی لاشیں برآمد ہوئیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی رپورٹ کے مطابق جوڑے کو لڑکی کے والد اور بھائی نے غیرت کے نام پر قتل کیا ہے۔

پولیس نے جوڑے کی لاشوں کو کروڑا کے قریبی مرکز صحت منتقل کر کے ایف آئی آر بھی درج کردی ہے۔

پولیس عہدیدار کا کہنا تھا کہ لڑکی کے اہل خانہ کا دعویٰ ہے کہ جوڑے کے آپس میں ناجائز تعلقات تھے جس کی انھیں سزا دی گئی ہے جبکہ اطلاعات کے مطابق دونوں کے درمیان کافی عرصے سے تعلقات تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ مزید تفتیش جاری ہے جبکہ مبینہ ملزمان تاحال آزاد ہیں۔

خیال رہے کہ گزشتہ ماہ بھی ضلع شانگلہ کے علاقے لیلونائی میں دو بچوں کی ماں کو مبینہ طور پر'غیرت کےنام' پر قتل کردیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں:خیبرپختونخوا:'غیرت کے نام' پر دو بچوں کی ماں کا قتل

الپوری پولیس اسٹیشن کے عہدیدار عارف خان کا کہنا تھا کہ لیلونائی کے علاقے میں زینب بی بی نامی لڑکی کو مبینہ طور پر ان کے دیور نے قتل کردیا۔

خیبر پختونخوا کے ضلع مانسہرہ میں تین ماہ قبل شہریوں نے ایک نوجوان کو سرعام غیرت کے نام پر قتل کیا تھا جبکہ رواں سال فروری میں ضلع شانگلہ میں ہی ایک شخص نے اپنی بہن کو مبینہ طور پر 'غیرت کے نام' پر قتل کردیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ پاکستان میں ہر سال عزت اور غیرت کے نام پر ایک ہزار سے زائد خواتین کو نشانہ بنایا جاتا ہے اور ایسا اکثر خاندان کے افراد کی جانب سے ہوتا ہے۔

عورت فاؤنڈیشن کی جانب سے جاری ہونے والی سالانہ رپورٹ میں اس بات کا انکشاف کیا گیا کہ 2016 میں خواتین کے خلاف تشدد کے تقریباً 7،852 کیسز ریکارڈ کیے گئے۔