باجوڑ: وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے (فاٹا) کی باجوڑ ایجنسی میں سڑک کنارے نصب ریموٹ کنٹرول بم دھماکے کے نتیجے میں 3 افراد جاں بحق جبکہ 26 زخمی ہوگئے۔

پولیٹیکل انتظامیہ کے مطابق ریموٹ کنٹرول بم باجوڑ ایجنسی کی تحصیل ناوگئی کے علاقہ چہارمنگ مٹاک میں نصب کیا گیا تھا۔

زخمیوں کو طبی امداد کے لیے ایجنسی ہیڈ کوارٹر ہسپتال خار منتقل کردیا گیا جبکہ سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تفتیش کا آغاز کردیا۔

اےایف پی سےبات کرتے ہوئے مقامی انتظامیہ کے عہدیدار مصطفیٰ خان نے کہا کہ' سڑک کنارے نصب بم ٹرک کے گزرتے ہی پھٹ گیا جس کےباعث 3 افراد جاں بحق اور 26 زخمی ہوگئے'۔

مقامی انتظامیہ کے ایک اور سینئر عہدیدار انوارالحق نے ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ زخمیوں کا مقامی ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔

دھماکے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو ادارے اور سیکیورٹی فورسز کے اہلکار جائے وقوع پر پہنچے جبکہ علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن کا آغاز کردیا گیا۔

مزید پڑھیں: باجوڑ میں دھماکا، 2 قبائلی رہنما ہلاک

باجوڑ ایجنسی پاک-افغان سرحد کے ساتھ فاٹا کا قبائلی علاقہ ہے جہاں قبائلی قوانین نافذ ہے۔

تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سمیت دیگر دہشت گرد تنظیموں کی شدت پسندی کے باعث یہ علاقہ ایک عرصے سے دہشت گردی کا شکار ہے تاہم اس واقعے کی ذمہ داری تاحال کسی گروپ نے قبول نہیں کی۔

پاک فوج نے فاٹا کی ایجنسی شمالی وزیرستان میں 2014 میں آپریشن 'ضرب عضب' کا آغاز کیا تھا، خیبرایجنسی میں بھی آپریشن 'خیبر ون' اور 'خیبر ٹو' کیے جاچکے ہیں جبکہ حال ہی میں فوج نے آپریشن ردالفساد کے تحت آپریشن 'خیبر فور' کا آغاز کیا۔

یہ بھی پڑھیں: باجوڑ ایجنسی: ریمورٹ کنٹرول بم دھماکا، چھ ہلاک

آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) میجر جنرل آصف غفور نے 16 جولائی کو اپنی پریس کانفرنس کے دوران راجگال آپریشن کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا تھا کہ ’اس آپریشن کا مقصد سرحد پار داعش کو پاکستان میں کارروائی سے روکنا ہے‘۔

یاد رہے کہ پاک فوج نے فوجی آپریشن کا آغاز 2009 میں کیا تھا، جس میں پہلے باجوڑ، سوات اور اب مہمند ایجنسی کو کلیئر کیا گیا، تاہم دہشت گرد ان فوجی آپریشنز کے ردعمل میں مختلف علاقوں میں حملے کرتے رہتے ہیں۔