سری سانتھ کو 27 ٹیسٹ اور 53 ون ڈے میچوں میں بھارت کی نمائندگی کا اعزاز حاصل ہے— فائل فوٹو: اے ایف پی
سری سانتھ کو 27 ٹیسٹ اور 53 ون ڈے میچوں میں بھارت کی نمائندگی کا اعزاز حاصل ہے— فائل فوٹو: اے ایف پی

نئی دہلی: بھارتی کرکٹ بورڈ نے میچ فکسنگ میں سزا یافتہ کرکٹر سری سانتھ کی تاحیات پابندی کے خاتمے کے خلاف اپیل کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے اور آئندہ ہفتے ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی جائے گی۔

آئی پی ایل کے چھٹے ایڈیشن میں اسپاٹ فکسنگ کیس میں راجھستان رائلز کے سری سانتھ اور انکیت چون پر تاحیات پابندی عائد کردی گئی تھی۔

ان کھلاڑیوں پر الزام تھا کہ انہوں نے ایک اوور کے دوران جان بوجھ کر زیادہ رنز دینے کے لیے تقریباً ساٹھ لاکھ ہندوستانی روپے تک وصول کیے۔

تاہم جولائی 2015 میں ان پر عائد پابندی عدالت نے ختم کر دی تھی لیکن بی سی سی آئی نے ان پر عائد پابندی پٹانے سے انکار کردیا تھا جس پر انہوں نے کیرالہ ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی جس نے گزشتہ دنوں ان پر عائد پابندی ختم کرنے کا اعلان کردیا تھا۔

تاہم بھارتی کرکٹ بورڈ کے ایک آفیشل نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ بھارتی کرکٹ بورڈ کیرالہ ہائی کورٹ کے فیصلے سے اتفاق نہیں کرتا جس نے سری سانتھ کو ثبوتوں کی کمی کی بناید پر بری کردیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس فیصلے کو یقیناً چیلنج کیا جائے گا اور آئندہ ہفتے کیرالہ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی جائے گی، اس معاملے پر ہمارا موقف واضح ہے کہ کرپشن اور میچ فکسنگ کو کسی بھی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔

ادھر 34سالہ سری سانتھ نے ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف بورڈ کی ممکنہ اپیل کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے دوبارہ ملک کی نمائندگی کا عزم ظاہر کیا ہے۔

انہوں نے بورڈ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ اس سے بدتر کسی بھی شخص کے ساتھ نہیں کر سکتے خصوصاً ایک ایسے شخص کے ساتھ جو صرف ایک مرتبہ نہیں بلکہ بار بار بے گناہ ثابت ہوتا رہا ہے۔

فاسٹ باؤلر نے کہا کہ میں بھیک نہیں مانگ رہا، میں میں صرف اپنی روزی روٹی واپس مانگ رہا ہوں، یہ میرا حق ہے۔ آپ لوگ خدا سے بڑھ کر نہیں۔ میں دوبارہ ضرور کھیلوں گا۔

2005 میں انٹرنیشنل ڈیبیو کرنے والے سری سانتھ کو 27 ٹیسٹ اور 53 ون ڈے میچوں میں بھارت کی نمائندگی کا اعزاز حاصل ہے۔