خراٹوں سے نجات پانا بہت آسان

12 اگست 2017

Email


فوٹو/ شٹر اسٹاک—۔
فوٹو/ شٹر اسٹاک—۔

کیا آپ نیند کے دوران خراٹے لیتے ہیں؟ ویسے تو یہ اتنے نقصان دہ نہیں ہوتے تاہم ان کی شدت بڑھنے سے دماغی افعال پر اثرات مرتب ہوتے ہیں جن سے فالج، دل کے دورے اور ڈپریشن سمیت مختلف امراض کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

مگر یہ عادت گھر والوں کی نیند بھی متاثر کرتی ہے جن کے لیے کسی خراٹے لینے والے شخص کے قریب سونا آسان نہیں ہوتا۔

اگر آپ یا کوئی پیارا اس عادت کا شکار ہے تو ان آسان گھریلو ٹوٹکوں کو آزما کر دیکھیں، ہوسکتا ہے یہ کارآمد ثابت ہوں۔

سونے کا انداز بدلنا

اگر آپ پیٹھ کے بل چت لیٹ کر سوتے ہیں تو گلے کے مسلز کھچ جاتے ہیں اور نزدیک آجاتے ہیں، اس طرح سانس لینے پر وائبریشن پیدا ہوتی ہے جو خراٹوں کا باعث بنتی ہے، پہلو کے بل سونا آپ کے گلے کے مسلز کو قریب لانے سے روکنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے، جس سے خراٹوں کا مسئلہ بھی حل ہوسکتا ہے۔

ٹینس بال

کیا آپ کو معلوم ہے کہ اکثر لوگ خراٹے اُس وقت لیتے ہیں جب وہ چت یا بالکل سیدھے لیٹے ہوئے ہو، تو اس سے بچنے کے لیے ایک ٹینس بال خراٹے لینے والے شخص کے پاجامے یا شلوار سے ایک سیفٹی پن کی مدد سے لگا دیں۔ جب وہ شخص چت لیٹے گا تو ٹینس بال اس کے لیے بے آرامی کا باعث بنے گی اور وہ ایک بار پھر کروٹ لینے پر مجبور ہوجائے گا۔

سر اونچا کرنا

خراٹوں سے آسان نجات کے لیے اپنا سر بستر پر چار انچ تک اونچا کرلیں، یعنی موٹا تکیہ یا زیادہ تکیوں سے سر کو اونچا کرلیں، اس طرح زبان گلے کو بلاک نہیں کرسکے گی اور سانس کی گزرگاہ کھلی رہے گی۔

ناک کو صاف رکھیں

اپنے ناک کو صاف رکھنا خراٹوں سے نجات کا ایک سادہ حل ہے، ناک میں جمع ہونے والا کچرہ سانس کی گزرگاہ میں رکاوٹ بنتا ہے جس کے نتیجے میں منہ سے سانس لینا پڑتا ہے جو خراٹوں کا باعث بنتا ہے۔

بھاپ سے مدد لیں

اس بات کو یقنی بنائیں کہ آپ ناک کے ذریعے سانس ٹھیک طرح لے رہے ہوں، جیسا اوپر بتایا جاچکا ہے کہ بہتی ہوئی ناک گلے میں رکاوٹ کا باعث بنتی ہے، ہوسکتا ہے کمرے کی خشک ہوا ناک سے سانس لینے میں مشکلات بڑھائے تو بھاپ کے ذریعے اسے کھول کر خراٹوں سے بچا جاسکتا ہے۔ یہ طریقہ اس وقت مددگار ثابت ہوتا ہے جب خراٹے کسی الرجی یا نزلہ زکام کے باعث ہوں۔

بستر کی چادر بدلتے رہیں

اگر آپ دن بھر ٹھیک رہتے ہیں مگر رات کو ناک سے سانس لینے میں مسئلہ پیش آتا ہے تو ایسا ممکنہ طور پر الرجیز کے باعث ہوتا ہے، آپ کے بستر کی چادر میں الرجی کے اسباب سانس کی گزرگاہ کو بلاک کرکے خراٹوں کا راستے کھولتے ہیں، لہذا اپنے بستر کی چادر اور تکیوں کے کورز وغیرہ کو جلد بدلنے کی عادت اپنا کر آپ اس خطرے کو کم کرسکتے ہیں۔

پودینہ کا تیل

پودینے کا تیل یا اس کا ماﺅتھ واش ایسی چیزیں ہیں جو خراٹوں سے بچانے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہیں، پودینے کے تیل کو اپنے ناک کے ارگرد مل لیں تاکہ سانس کی گزرگاہ کھل جائے، جبکہ پودینے کا ماﺅتھ واش گلے کے ٹشوز کی خرابیوں کے خلاف مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

جسمانی وزن میں کمی

ایک تحقیق کے مطابق خراٹوں کے شکار افراد اگر اپنا جسمانی وزن 10 فیصد تک کم کرلیں تو ان کے منہ اور ناک کے مسائل بھی ختم ہوجاتے ہیں۔

تمباکو نوشی سے گریز

سگریٹ گلے کی جھلیوں کو سوجنے پر مجبور کردیتی ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق تمباکو نوشی کرنے والے 24 فیصد افراد بہت بلند آواز میں خراٹے لینے کے عادی ہوتے ہیں، لہذا اس عادت سے نجات خراٹوں سے بھی بچا دیتی ہے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔