اسلام آباد: دفتر خارجہ کے مطابق جنرل (ر) پرویز مشرف کی جانب سے اپنی سوانح حیات میں حساس جوہری مواد کی ترسیل کے حوالے سے کیا جانے والا انکشاف ملک کو شرمندہ کرنے کا سبب بنا۔

جمعہ (11 اگست) کے روز سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے اجلاس میں دفتر خارجہ کے عہدیدار نے ان خیالات کا اظہار کیا۔

واضح رہے کہ جنرل (ر) مشرف نے 2006 میں اپنی کتاب میں کہا تھا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے حساس جوہری مواد شمالی کوریا کو فراہم کیا۔

ایڈیشنل سیکریٹری کا کہنا تھا کہ اس انکشاف نے دفتر خارجہ کو دفاعی پوزیشن اختیار کرنے اور یہ مؤقف دہرانے پر مجبور کیا کہ پاکستان جوہری پھیلاؤ کے سخت خلاف ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ خارجہ سفارت کاروں نے بھی اس بیان پر غیر یقینی کا اظہار کیا۔

واضح رہے کہ دفتر خارجہ کا یہ جواب سینیٹر فرحت اللہ بابر کی جانب سے اٹھائے جانے والے سوال کے بعد سامنے آیا۔

فرحت اللہ بابر نے سوال کیا تھا کہ پرویز مشرف کی جانب سے سوانح حیات 'اِن دی لائن آف فائر' میں کیے گئے اس انکشاف پر شمالی کوریا کی جانب سے کیا سرکاری ردعمل سامنے آیا؟

خیال رہے کہ جنرل (ر) مشرف نے اپنی سوانح حیات میں لکھا تھا کہ پاکستان میں فعال ایک خفیہ جوہری پھیلاؤ نیٹ ورک نے تقریباً 2 درجن سینٹری فیوج مشینیں، فلو میٹر اور چند خصوصی آئلز شمالی کوریا کو فراہم کیے۔

سینیٹر فرحت اللہ بابر کا کہنا تھا کہ 'اگر ایسا غیر ذمہ دارانہ انکشاف کسی سول وزیر یا بیوروکریٹ نے کیا ہوتا تو اسے پھانسی دے دی گئی ہوتی لیکن پرویز مشرف جنرل تھے تو وہ اس سے بچ نکلے'۔

سینیٹر کا کہنا تھا کہ پرویز مشرف کے اس انکشاف پر سامنے آنے والا سرکاری ردعمل، کمیٹی کو پاکستان اور شمالی کوریا کے تعلقات کی گہرائی کو بہتر انداز میں سمجھنے کا موقع فراہم کرے گا۔

علاوہ ازیں خارجہ تعلقات کمیٹی کو اسلام آباد اور ٹوکیو کے تعلقات پر بھی بریفنگ دی گئی۔

واضح رہے کہ سینیٹر نزہت صادق کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں سینیٹرز مشاہد حسین سید، مولانا فضل الرحمٰن، شبلی فراز، ڈاکٹر کریم خواجہ، طاہر حسین مشہدی اور فرحت اللہ بابر شریک تھے۔


یہ خبر 12 اگست 2017 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔