کراچی: نیشنل بینک آف پاکستان (این بی پی) آئندہ ماہ ستمبر میں وزیراعظم یوتھ پروگرام کے تحت سرمایہ کاری کے اسلامی طریقوں کے مطابق کاروباری قرض اسکیم کا دوبارہ آغاز کرے گا۔

نیشنل بینک ہیڈ کوارٹرز میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بینک کے صدر سعید احمد نے کہا کہ اس اسکیم کے تحت قرضوں کی فراہمی کی رفتار سست روی کا شکار ہے اور سود پر مبنی قرضے پریشانی کا باعث بن رہے ہیں۔

سعید احمد کا کہنا تھا کہ اس اسکیم پر کوئی سیاسی اثر و رسوخ نہیں تاہم اسے وزیراعظم ہاؤس میں تیار کیا گیا جس کی سربراہی ابتداء میں سابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے کی جنہیں بعد میں عدالتی احکامات پر اسکیم سے علیحدہ کردیا گیا۔

مزید پڑھیں: پرائم منسٹر یوتھ لون اسکیم میں پنجاب کا حصہ 75 فیصد

انہوں نے بتایا کہ نیشنل بینک فنڈ مختص کرنے، درخواستوں کی جانچ پڑتال کرنے اور قرض کی رقم کی واپسی کی دیکھ بھال کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔

نیشنل بینک کے سربراہ نے بتایا کہ چھوٹے اور بڑے کاروبار کے لیے فراہم کیے جانے والے قرضوں کے مقابلے میں مذکورہ اسکیم کی رقوم کی واپسی حیرت انگیز طور پر 92 سے 93 فیصد ہے۔

انہوں نے بتایا کہ گذشتہ 4 برس کے دوران بقایا جات 17 ارب روپے رہے جبکہ اس اسکیم کا ہدف 1 کھرب روپے ہے۔

بنگلہ دیش میں موجود نیشنل بینک کی برانچ کے 18 ارب کے اسکینڈل کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ان قرضوں کی تنظیم نو کا عمل جاری ہے۔

یہ بھی پڑھیں: صدرنیشنل بینک ماضی میں لندن میں نرسنگ ہوم چلاتے تھے: اسحٰق ڈار

سعید احمد نے بتایا کہ نیشنل بینک حکام بنگلہ دیش میں موجود 18 ارب کے اسکینڈل کی اصل رقم واپس حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس کے لیے ری شیڈیولنگ کی جارہی ہے اور اس کام کے لیے بنگلہ دیش کے مرکزی بینک کی مدد بھی لی جارہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ نیشنل بینک اس اسکینڈل کی رقوم پر سود کو واپس حاصل کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتا۔

واضح رہے کہ بنگلہ دیش میں موجود این بی پی کی برانچ نے 2003 سے 2012 تک جانچ پڑتال کیے بغیر مشکوک کمپنیوں کو قرضے فراہم کیے۔

نیشنل بینک پاکستان کے صدر نے یہ بھی بتایا کہ چین کے دارالحکومت بیجنگ میں قائم ہونے والی نئی برانچ جلد ہی فعال ہو جائے گی۔

خیال رہے کہ پاکستان میں 35 ہزار قابل اور با صلاحیت نوجوانوں کو ’یوتھ بزنس لون‘ اسکیم کے تحت قرض فراہم کرنے کے لیے نیشنل بینک نے حال ہی میں پوورٹی ایلی وی ایشن فنڈ (Poverty Alleviation Fund) نامی ادارے معاہدہ کیا ہے۔


یہ خبر 12 اگست 2017 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی