— فوٹو: اے ایف پی
— فوٹو: اے ایف پی

کوئٹہ کے علاقے پشین اسٹاپ کے قریب دھماکےکے نتیجے میں سیکیورٹی اہلکاروں سمیت 15 افراد جاں بحق اور 32 زخمی ہوگئے۔

دھماکا انتہائی زوردار تھا جس کی آواز میلوں دور تک سنی گئی جبکہ قریب کھڑی گاڑیوں میں آگ لگ گئی جس پر فائر بریگیڈ کے عملے نے موقع پر پہنچ کر قابو پایا۔

دھماکےکی نوعیت فوری طور پر معلوم نہیں ہوسکی، تاہم عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ دھماکا سیکیورٹی فورسز کی گاڑی کے قریب ہوا۔

— فوٹو: اے ایف پی
— فوٹو: اے ایف پی

دھماکا ہائی سیکیورٹی زون میں ہوا جس کے قریب ایف سی ہاسٹل واقع ہے جبکہ بلوچستان اسمبلی، کوئٹہ لاء کالج اور نجی ہسپتال بھی دھماکے کی جگہ کے قریب واقع ہے۔

دھماکے کے بعد پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ٹیموں نے جائے وقوع پر پہنچ کر علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔

زخمیوں کو کوئٹہ کے سول ہسپتال منتقل کیا گیا جبکہ ہسپتال میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔

دھماکے کے بعد علاقے میں بجلی کی فراہمی بھی معطل ہوگئی، جس سے ریسکیو عملے کو امدادی کام میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

وزیر داخلہ بلوچستان سرفراز بگٹی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’دھماکے میں 15 افراد جاں بحق اور 30 زخمی ہوئے، جبکہ جاں بحق افراد میں سیکیورٹی فورسز کے جوان اور شہری شامل ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’واقعے کو سیکیورٹی کی خامی کہنا زیادتی ہوگا، دہشت گرد چاہتے ہیں کہ قوم آزادی کا جشن نہیں منا پائیں، جبکہ دھماکے میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔‘

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ دھماکے میں 8 سیکیورٹی اہلکار شہید ہوئے۔

آئی ایس پی آر کے بیان میں کہا گیا کہ ’دھماکے میں سیکیورٹی کی آن ڈیوٹی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ زخمیوں میں بھی 10 سیکیورٹی اہلکار شامل ہیں۔‘

بیان کے مطابق ’دھماکے میں بھاری مقدار میں بارودی مواد استعمال کیا گیا، جس سے قریب کھڑی گاڑیوں میں آگ لگی۔‘

’دھماکا جشن آزادی کی خوشیاں سبوتاژ کرنے کی کوشش‘

آرمی چیف نے کوئٹہ میں پاک فوج کے ٹرک کو نشانہ بنانے کے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ’دھماکا جشن آزادی کی خوشیوں کو سبوتاژ کرنے کی کوشش ہے، جبکہ اس قسم کے حملے ہمارے حوصلے پست نہیں کرسکتے۔‘

ابتدائی طور پر دھماکے کی ذمہ داری کسی نے قبول کرنے کا دعویٰ نہیں کیا۔

واضح رہے کہ رواں سال جون میں کوئٹہ میں ہونے والے خودکش کار بم دھماکے میں جمعیت علمائے اسلام (نظریاتی) کے رہنما، 7 پولیس اہلکاروں سمیت 13 افراد ہلاک جبکہ 24 زخمی ہوگئے۔

بم دھماکا کوئٹہ کے انتہائی حساس علاقے شہداء چوک پر قائم انسپکٹر جنرل (آئی جی) پولیس احسن محبوب کے دفتر کے قریب ہوا۔

قبل ازیں جون میں ہی بلوچستان کے ضلع قلات میں دھماکا خیز پھٹنے سے تین سیکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے۔

مئی میں سی پیک کے حوالے سے پاکستان کے اہم ترین صوبے بلوچستان کے شہر گوادر میں فائرنگ کا واقعہ پیش آیا تھا، جس کے نتیجے میں 10 مزدور ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔