شمالی بھارت کے ایک ہسپتال میں گزشتہ تین روز کے دوران ہلاک ہونے والے 35 بچوں کے والدین نے الزام عائد کیا کہ بچوں کی اموات ہسپتال کے بچہ وارڈ میں آکسیجن کی کمی کی وجہ سے ہوئی۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ’اے پی‘ کے مطابق ضلعی مجسٹریٹ راجیو راٹیلا نے کہا کہ ریاست اتر پردیش کے شہر گورکھ پور کے بابا راگھؤ داس میڈیکل کالج ہسپتال میں مختلف بیماریوں کے باعث زیر علاج بچوں کی اموات طبعی طور پر ہوئی۔

انہوں نے ہسپتال میں آکسیجن کی سپلائی کی کمی کے الزام کو مسترد کردیا۔

بچوں کے والدین کا کہنا تھا کہ ہسپتال کے بچہ وارڈ میں جمعرات کی رات کو آکسیجن کی سپلائی بند ہوگئی تھی اور مریضوں کے اہلخانہ کو بچوں کی سانس کے لیے عارضی بیگز دے دیئے گئے تھے۔

اپنے سات ماہ کے بچے کو علاج کے لیے ہسپتال لے کر آنے والے مریتُنجیا سنگھ نے کہا کہ ’یہ وہ وقت تھا جب بچوں کی ہلاکتیں شروع ہوئیں۔‘

اتر پردیش کی حکومت نے واقعے کی تحقیقات کا حکم دے دیا۔

صحت سے متعلق ریاست کے اعلیٰ عہدیدار پراشانت تریویدی نے آکسیجن کی سپلائن لائن میں خرابی کا اعتراف کیا۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’صورتحال پر آکسیجن سلنڈرز کے ذریعے قابو پالیا گیا تھا، ہسپتال انتظامیہ کے پاس آکسیجن سلنڈرز کا وافر اسٹاک موجود تھام اس لیے بچوں کی اموات کو اس معاملے سے جوڑنا غلط ہے۔‘

بچوں کے والدین نے کہا کہ ہسپتال کو آکسیجن سپلائی کرنے والی کمپنی نے اپنے بقایاجات ادا ہونے تک آکسیجن کی سپلائی روکنے کی دھمکی دی تھی۔

ضلعی مجسٹریٹ راجیو راٹیلا کا کہنا تھا کہ ہسپتال پر کمپنی کے ایک لاکھ 6 ہزار ڈالر واجب الادا تھے، تاہم اس کے پاس آکسیجن سلنڈرز کی خطیر تعداد موجود تھی۔