واشنگٹن: امریکن گورنمنٹ اکاؤنٹبلٹی آفس (جی اے او) کی نئی رپورٹ کے مطابق امریکا نے افغان فورسز کو مسلح کرنے کے لیے گذشتہ 16 سال کے دوران 76 ارب ڈالر خرچ کیے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تاہم اس قدر رقم خرچ کرنے کے باوجود امریکا، افغانستان میں اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ہے، جس کا مقصد افغان فورسز کو بغیر مدد کام کرنے کی صلاحیت فراہم کرنا تھا۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ تاہم امریکا افغانستان کی حمایت جاری رکھ سکتا ہے کیونکہ اس ملک کے ’استحکام اور سیکیورٹی کو طالبان کے تحت جاری عسکریت پسندی، جرائم کے نیٹ ورکس اور دہشت گرد تنظیموں، جس میں داعش کا گروپ خراسان بھی شامل ہے، سے مستقل خطرات لاحق ہیں‘۔

خیال رہے کہ 11 ستمبر 2001 میں امریکا میں ہونے والے دہشت گردی حملے کے بعد امریکا کی سربراہی میں عالمی طاقتوں نے افغانستان میں حملوں کا آغاز کیا تھا اور 2002 سے امریکا مستقل افغانستان کی سیکیورٹی فورسز کو ہتھیار، مواصلات کے آلات سمیت دیگر سیکیورٹی آلات فراہم کررہا ہے۔

رپورٹ میں امریکی محکمہ دفاع کی جانب سے دیئے گئے اعداوشمار کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ 76 ارب ڈالر میں سے 66 ارب ڈالر کی رقم 2005 میں قائم کیے گئے افغانستان سیکیورٹی فورسز فنڈ (ای ایس ایف ایف) کے تحت جاری کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق افغان سیکیورٹی فورسز کو فراہم کردہ ہتھیاروں میں 81 فیصد رائفلیں اور پستول شامل تھے، اس کے علاوہ 25 ہزار گرینیڈ لانچر جبکہ افغان باڈر پولیس کو 10 ہزار کے قریب راکٹ چلانے والے ہتھیار بھی فراہم کیے گئے۔

افغان فورسز کو فراہم کیے جانے والے ہتھیاروں میں ایک لاکھ 62 ہزار 6 سو 43 مواصلات کے آلات اور تقریبا 76 ہزار گاڑیاں شامل ہیں، ان گاڑیوں میں فارڈ رینجرز پک اپس اور کارگو ٹرکس جبکہ 22 ہزار بکتر بند گاڑیاں بھی شامل ہیں۔

اس کے علاوہ پینٹاگون نے 2007 سے اب تک 110 ہیلی کاپٹر اور 98 طیارے بھی افغانستان منتقل کیے ہیں، ان طیاروں کے ساتھ 3 لاکھ 14 ہزار راکٹس، 8 ہزار 7 سو بم اور ہیلی کاپٹر سے فائر کیے جانے والے 18 لاکھ 15 ہزار راؤنڈز بھی شامل تھے۔

یاد رہے کہ امریکی میڈیا میں آنے والے حالیہ رپورٹس میں تجویز دی گئی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جنہوں نے امریکا کی افغان حکمت عملی پر جائزہ لینے کا حکم دیا ہے، یقین رکھتے ہیں کہ امریکا اس قدر فنڈز مہیا کرنے کے باوجود افغانستان میں اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا۔

رپورٹس کے مطابق انہوں نے مبینہ طور پر اپنے معاونین کو اس بات کی وضاحت پیش کرنے کو کہا ہے کہ اربوں ڈالر خرچ کرنے اور دو ہزار سے زائد امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے باوجود افغان جنگ میں کامیابی حاصل کیوں نہیں کی جاسکی۔

ادھر امریکی قانون سازوں نے امریکا کی افغان حکمت عملی کے اثر انداز ہونے کی صلاحیت پر سوال اٹھائے ہیں اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر زور دیا ہے کہ وہ پالیسی میں تبدیلی کریں۔

رواں ہفتے کے آغاز میں امریکا کی سینیٹ آرمڈ سروسز کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر جان مکین نے نئے 2018 دفاعی بل کا اعلان کیا تھا جس کا مقصد ’افغان حکومت اور یہاں کی سیکیورٹی فورسز کی صلاحیت اور تعداد کو مضبوط کرنا ہے‘۔


یہ رپورٹ 13 اگست 2017 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی