اسلام آباد: اپوزیشن جماعتوں نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے ریاستی اداروں کے درمیان بہترین تعلقات کے قیام کے لیے پیش کی گئی مذاکرات کی تجویز کو تو زیادہ اہمیت نہیں دی تھی تاہم انہوں نے سینٹ چیئرمین رضا ربانی کی جانب سے پیش کی جانے والی ایسی ہی ایک تجویز کا خیر مقدم کیا ہے۔

ایوان کی تینوں اہم اپوزیشن جماعتوں، پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی)، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور متحدہ قومی مومنٹ (ایم کیو ایم) اس قسم کے مذاکرات کی ضرورت پر متفقہ رائے رکھتی ہیں۔

لیکن اسی ایوان میں موجود دیگر جماعتوں نے زور دیا ہے کہ مجوزہ مذاکرات کی نوعیت اور طریقہ کار کو حتمی شکل دینے کے بعد اگر اس میں تمام جماعتوں کا اظہار بھی شامل کیا جائے تو بہتر ہوگا۔

خیال رہے کہ گذشتہ ماہ جولائی سے پاناما پیپرز کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے حوالے سے مسلم لیگ (ن) کے رہنما یہ کہتے آرہے ہیں کہ ’اب وقت آگیا ہے کہ ملک میں اسٹیک ہولڈرز کے درمیان آخری مذاکرات کیے جائیں۔

مزید پڑھیں: اپوزیشن کے بغیر سندھ اسمبلی میں سندھ احتساب بل پھر منظور

اسلام آباد کے پنجاب ہاؤس میں قیام کے دوران میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نے کئی مواقع پر اس خیال کا اظہار کیا تھا کہ وہ غیر متوازن سول فوجی تعلقات کے خاتمے کے لیے ملک کی سیاسی قیادت کے ساتھ بیٹھ کر مذاکرات کرنے کے لیے تیار ہیں، کیونکہ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں آج تک ایک بھی وزیراعظم اپنی مدت پوری نہیں کر سکا۔

میڈیا نمائندوں سے گفتگو کے دوران نواز شریف نے کہا تھا کہ ایسا لگتا ہے کہ ملکی نظام میں ایک ’وائرس’ ہے جو کسی بھی منتخب وزیر اعظم کو اس کی مدت پوری کرنے نہیں دیتا۔

ان کا کہنا تھا کہ سیاسی نمائندوں کو اس خرابی کا پتہ لگانا چاہیے، تا کہ ملک کو درست راستے پر گامزن کیا جا سکے۔

سابق وزیر اعظم نے اس بات کا بھی اظہار کیا تھا کہ ان کی جماعت میثاق جمہوریت پر قائم ہے اور اس معاہدے کو تمام سایسی جماعتوں کی مشاورت سے مزید بہتر بنایا جاسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اپوزیشن جماعتوں کا وزیراعظم آزاد کشمیر کے استعفے کا مطالبہ

دوسری جانب گذشتہ ہفتے چیئرمین سینٹ رضا ربانی کی جانب سے اداروں کے درمیان تصادم سے بچنے کے لیے پارلیمنٹ، فوجی اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ کے درمیان ادارتی مذاکرات کی تجویز پر تمام پارٹیوں سے تعلق رکھنے والے سینیٹ ارکان نے رضامندی کا اظہار کیا۔

ڈٖان سے بات کرتے ہوئے تحریک انصاف کے نائب چیئرمین شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ان کی پارٹی نواز شریف کی باتوں پر زیادہ دھیان نہیں دے رہی کیونکہ اب وہ سبکدوش ہو چکے ہیں لہٰذا ان کی بات کسی ساکھ کی حامل نہیں۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا، "نواز شریف کے پاس اب کون سی ساکھ بچی ہے؟ انہیں تو سپریم کورٹ نے بھی نااہل قرار دے دیا۔"

تاہم انہوں نے رضا ربانی کے حوالے سے کہا کہ وہ قابل بھروسہ شخص ہیں، لیکن انہیں اپنے مجوزہ پلان کے بارے میں تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لینا ہوگا۔


یہ خبر 13 اگست 2017 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی