کراچی کے علاقے سائٹ میں قائم ایک مدرسے کے سربراہ (مہتمم) کا نام فورتھ شیڈول میں شامل ہونے کے باوجود ان کی غیرموجودگی پر پولیس نے اسسٹنٹ کمشنر کی مدد سے مدرسے کو سیل کردیا۔

اسسٹنٹ کمشنر(اےسی) کراچی غربی کی جانب سے رابطے کے بعد سائٹ پولیس اسٹیشن کے ہاؤس افسر(ایس ایچ او) نے اےسی غربی ڈاکٹر غلام محمد اور پولیس موبائل کے ساتھ مدرسے کا دورہ کیا۔

پولیس سے موصول ہونے والی دستاویزات کے مطابق سائٹ کے علاقے میں قائم مدرسہ الکریم اسلامک اکیڈمی کو سیل کردیا گیا۔

ان کا کہنا ہے کہ 'اے سی غربی نے مدرسے کے مہتمم مفتی شاکراللہ کی موجودگی کی اطلاع دی تھی لیکن وہ وہاں موجود نہیں تھے'۔

پولیس کو شبہ ہے کہ مفتی شاکراللہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان(ٹی ٹی پی) کی مالی معاونت کررہے تھے جس کے باعث انھیں فورتھ شیڈول میں رکھا گیا تھا۔

انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے سیکشن 11ای ای کےمطابق فورتھ شیڈول میں 'ہر اس شخص کو رکھا جائے گا جو کسی بھی دہشت گرد تنظیم یا فرقہ پرست تنظیم یا اس سے منسلک کسی تنظیم کا کارکن، عہدیدار یا ان سےمنسلک ہو'۔

فورتھ شیڈول میں شامل شخص کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی موجودگی سے مقامی پولیس کو آگاہ کرے جبکہ اس شخص پر کڑی نظر رکھی جاتی ہے۔

پولیس سے حاصل ہونے والی دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ 'ذرائع کی رپورٹ کے مطابق مفتی شاکراللہ ٹی ٹی پی کو فنڈنگ کررہا تھا اور ان کا نام فورتھ شیڈول میں شامل ہے جبکہ وہ موجود بھی نہیں ہیں'۔

جس کے بعد اے سی غربی کی جانب سے پولیس کےتعاون سے مدرسے کو بند کردیا گیا۔

یاد رہے کہ سندھ پولیس نے امن وامان کی صورت حال کو بہتر رکھنے کی غرض سے گزشتہ ماہ فورتھ شیڈول میں شامل فہرست کا ہرماہ جائزہ لینے کا فیصلہ کیا تھا۔