کیا جناح کیپ کی فروخت ختم ہورہی ہے؟

اپ ڈیٹ 16 اگست 2017

ای میل

ان فنکاروں میں سے ایک محمد سلطان ہیں — ۔
ان فنکاروں میں سے ایک محمد سلطان ہیں — ۔

کراچے کے بھول بھلیاں جیسے علاقے تین ہٹی میں تین کمروں کا ایک چھوٹا سا گھر موجود ہے، جو باہر سے نہایت معمولی نظر آتا ہے لیکن اس گھر میں ایک نہایت قابل انسان اپنے چھوٹے سے خاندان کے ہمراہ زندگی گزار رہا ہے۔

اس گھر میں مقیم محمد سلطان ان دو یا تین بچے فنکاروں میں سے ایک ہیں، جو قائد اعظم محمد علی جناح کی جانب سے پہنی جانے والی ٹوپی ’جناح کیپ‘ بناتے ہیں، اور جناح کیپ بیچنے والوں کے مطابق محمد سلطان ان فنکاروں میں سب سے بہترین کام کرتے ہیں۔

کراچی میں اس روایتی ٹوپی خریدنے والوں کی تعداد نہایت کم رہ چکی ہے، اس ٹوپی کو خریدنے کی کھوج کا آغاز صبح سویرے صدر کے علاقے میں کیا، جہاں ایک دکان دار نے مجھے دوسری دکان بھیجا جو ٹوپی بنانے کے بجائے ٹھیک کرنے کا ماہر تھا، تاہم اگلی دکان پر مجھے جیسے سونا مل گیا۔

رحمٰن کیپ اینڈ ہیٹ کمپنی کے مالک الطاف الرحمٰن نے بتایا کہ جناح کیپ بنانے والے محمد سلطان تین ہٹی ہے علاقے میں رہتے ہیں، یہ دکان 1948 سے یہاں موجود ہے، پہلے یہاں اسٹالز موجود تھے تاہم 1978 میں عمارت تیار ہوگئی جس کے بعد دکانیں بنادی گئیں۔

جہاں محمد سلطان رہتے ہیں وہاں گاڑیاں جانے کی جگہ نہیں صرف موٹر بائیک پر جایا جاسکتا ہے۔

ان کے گھر کا راستہ بالکل صحیح بتایا گیا، پڑوس میں ہر کوئی جانتا تھا کہ سلطان بھائی کہاں رہتے ہیں اور ان کے گھر تک کیسے پہنچا جاسکتا ہے۔

جب پہلی بار ان کے گھر پہنچے تو معلوم ہوا کہ سلطان بھائی گھر پر موجود نہیں تھے اور ان کی بیٹی نے بتایا کہ وہ شام تک واپس آئیں گے۔

اس وقت معلوم ہوا کہ شاندار جناح کیپ بنانے والے محمد سلطان ایک اسکول میں آفس اسسٹنٹ کے طور پر ملازمت کررہے ہیں، اس ختم ہوتے کرافٹ کے بچے کچھے فنکار ان ٹوپیوں کی فروخت سے اپنے گھر کا خرچ چلاتے لیکن یہ ان کا بنیادی ذریعہ نہیں۔

محمد سلطان نے بتایا کہ ’میرے والد نے ان ٹوپیوں کو بنانے میں اپنی بینائی کھو دی، یہ کام نسل در نسل چلا آرہا ہے، میرے دادا بھی یہی کرتے تھے‘۔

محمد سلطان کے خاندان کا تعلق دہلی سے ہے، اور ان کے مطابق ان کی آبائی دکان کشمیر گیٹ پر موجود تھی، تاہم سلطان نے خود کبھی ہندوستان کا دورہ نہیں کیا، وہ 1961 میں کراچی میں پیدا ہوئے، وہ خاندان کی جناح کیپ بنانے کی روایت کو آگے لے کر بڑھے۔

لیکن ایسا محسوس ہورہا ہے کہ اس روایت کا اختتام سلطان پر ہی ہوجائے گا۔

ان کے پاس اس فن کا کوئی وارث نہیں اور نہ ہی وہ اپنے بچوں کو جناح کیپ بنانے کی تربیت دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ’پہلے میں ایک دن میں 20 جناح کیپ تیار کرلیتا تھا، لیکن اب میں اسے جزوی وقت میں کررہا ہوں تو اس کا کام کم ہوگیا ہے، اور اب اس کیپ کے آرڈرز کو دیکھتے ہوئے انہیں تیار کرتا ہوں‘۔

موضوع تبدیل ہوا تو محمد سلطان نے بتایا کہ ’کیا آپ جانتے ہیں کہ محمد علی جناح نے کبھی کوئی ایسی ٹوپی نہیں پہنی جو پاکستان میں تیار ہوئی ہو، وہ ہندوستان سے اپنے ساتھ تمام کیپس لے کر آئے تھے‘۔

جناح کیپ کا مقابلہ اس کیپ سے بھی کیا جاتا ہے جو لیاقت علی خان پہنا کرتے تھے، تاہم دونوں میں فرق ہے، جہاں جناح کیپ اوول شیپ میں ہوتی ہے وہیں لیاقت علی خان کی کیپ ترکش کیپ سے مشابہت رکھتی ہے۔

محمد سلطان نے یہ کام اپنے والد محمد سلام سے سیکھا، وہ اسکول تو گئے لیکن تعلیم حاصل کرنے کا کچھ زیادہ شوق نہیں تھا، ’میں 12 یا 14 سال کا تھا جب میں نے اسکول چھوڑ دیا اور اپنے والد کی مدد کرنا شروع کی، کام کا آغاز کیا تو میرے والد چمڑے کو کاٹتے تھے جبکہ میں اس کی سلائی کرتا تھا‘۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ’ایک وقت تھا جب ہر سرکاری ملازم کو عید پر تحفے کے طور پر ایک جناح کیپ دی جاتی تھی، تاہم اب یہ عمل بند ہوگیا ہے، اب صرف گورنر ہاؤس، وزیر داخلہ ہاؤس اور کچھ فوجی دفاتر میں ہی ان کیپس کی ضرورت ہوتی ہے‘۔

جناح کیپس کو کرکول کا نام بھی دیا جاتا ہے، سلطان کے مطابق ’کرکول ایک مخصوص قسم کے بھیڑ کے اون سے بنا جاتا ہے جو صرف افغانستان میں دستیاب ہے، امریکیوں کے وہاں آنے کے بعد انہوں نے اونی کوٹ بنانے کا آغاز کیا جس میں 40 حصے درکار ہیں جبکہ کرکول ٹوپی میں صرف ایک حصے کی ضرورت پڑتی، اس لیے بھی یہاں جناح ہیٹ بنانے کا عمل کم ہورہا ہے‘۔

اب جناح کیپس مارکیٹوں میں بہت کم ہی دستیاب ہوتی ہیں اور ان کی ڈیمانڈ بھی کافی کم کی جاتی ہے اور اون کی جگہ کپڑے کا استعمال بھی کیا جانے لگا ہے جس کی وجہ سے اس طرح کی ہیٹ پسند کرنے والوں نے ان کو خریدنا چھوڑ دیا ہے۔

محمد سلطان کے مطابق ’اونی کرکول 8 ہزار روپے میں فروخت ہوتی ہے اور ہر کوئی اتنی مہنگی ہیٹ نہیں خرید سکتا، جبکہ نئی نسل اس طرح کی ہیٹ میں دلچسپی ہی نہیں لیتی، وہ پاکستانی اور مسلمان ہونے کی علامت کے طور پر اسے بیرون ملک پہنتے ہیں‘۔

انہوں نے بتایا کہ پہلے ایک ماہ میں 300 سے 400 کیپس فروخت ہوجاتی تھیں لیکن اب 12 بھی فروخت ہوجائیں تو کسی کامیابی سے کم نہیں۔

محمد سلطان کی طرح رحمٰن کے خاندان والے بھی جناح ہیٹس بنانے کا کام نسل در نسل سے کررہے ہیں۔

رحمٰن کا کہنا تھا کہ ’جب تک قائد اعظم محمد علی جناح کا چہرہ پاکستانی کرنسی نوٹ پر موجود ہے، تب تک جناح کیپس موجود رہیں گی‘۔

جبکہ سلطان کا ماننا ہے کہ ’جب کوئی آرٹسٹ باقی ہی نہیں رہے گا تو فن کیسے باقی رہ سکتا ہے؟‘

یہ مضمون 13 اگست 2017 کے ڈان اخبار میں شائع ہوا