اگر آپ مستقبل کی دنیا دیکھنا چاہتے ہیں تو جنوبی کوریا آجائیں، ویسے تو یہ مشورہ دینے کی بہت ساری وجوہات ہیں لیکن اہم ترین وجہ یہ ہے کہ یہ ملک ایشیاء کا جدید ترین ملک ہے، جہاں انٹرنیٹ اور اسمارٹ فونز استعمال کرنے والوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے، جہاں ہر جگہ لوگ ٹیکنالوجی سے گھرے نظر آتے ہیں۔

دکانوں پر پیسوں کی ادائیگی سے لے کر تفریح تک بیشتر کام اسمارٹ فونز پر ہی کیے جاتے ہیں، یہ جنوبی کوریا ہی ہے جس کا شمار سب سے زیادہ کریڈٹ کارڈ استعمال کرنے والے ممالک میں ہوتا ہے۔**

اگر جنوبی کوریا میں بسنے والے لوگوں کی بات کی جائے تو یہ کام سے بیزار نہیں ہوتے، بلکہ بہت زیادہ کام کرنا پسند کرتے ہیں اور مصروف رہنا چاہتے ہیں۔ یہاں کی سب سے اہم بات یہ کہ جدید ہونے کے بعد انہوں نے اپنی مقامی ثقافت کو پیچھے نہیں چھوڑا بلکہ آج کی اِس جدیدیت میں بھی مقامی ثقافت کے کچھ رنگ اب بھی نظر آجاتے ہیں۔

سیؤل، جنوبی کوریا— شٹر اسٹاک
سیؤل، جنوبی کوریا— شٹر اسٹاک

یہ سب باتیں میں آپ کو اِس لیے بتا رہی ہوں کہ میں ایک پاکستانی طالبِ علم ہوں اور اِس خوبصورت ملک کی ایک یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کر رہی ہوں اور ہاں میں اِس یونیورسٹی میں زیرِ تعلیم صرف دو پاکستانی طالب علموں میں سے ایک ہوں۔ میں نے سندھ یونیورسٹی سے ماس کمیونیکیشن میں بیچلرز کیا ہے۔ میرا تعلق جامشورو کے نزدیک واقع ایک پسماندہ گاؤں سے ہے لیکن تعلیم کی جستجو اور والد کی بے پناہ حمایت نے مجھے تعلیمی میدان میں آگے بڑھنے میں مدد کی۔ شاید یہی وجہ ہے کہ آج میں اپنے گاؤں کرن خان شورو سے کوریا کی یونیورسٹی پہنچ پائی ہوں۔

کوریا میں میری یونیورسٹی

میں یہاں کوریا نیشنل یونیورسٹی آف آرٹس سے ڈاکیومینڑی اینڈ براڈکاسٹنگ میں ماسٹرز کر رہی ہوں۔ جنوبی کوریا میں واقع یہ یونیورسٹی 1993 میں تعمیر ہوئی اور یہاں فنون یا آرٹس کے مختلف شعبہ جات کی تعلیم دی جاتی ہے، جن میں رقص، گلوکاری، آلاتِ موسیقی، فلم سازی اور میڈیا شامل ہیں۔

مطلب یہ کہ اگر آپ اِن میں سے کسی بھی فنون، خاص طور پر پرفارمنگ آرٹس میں دلچسپی رکھتے ہیں تو اِس یونیورسٹی میں آپ کے لیے سیکھنے کے کئی مواقع موجود ہیں۔

میں نے یہاں یہ بات خاص طور پر محسوس کی ہے کہ اِس یونیورسٹی میں اکثر طلباء کورین شوبز سے متاثر ہوکر پڑھنے آتے ہیں، کیونکہ کورین پاپ میوزک اور ڈرامے بین الاقوامی سطح پر کافی پسند کیے جاتے ہیں۔

یہ یونیورسٹی جنوبی کوریا کی وزارت برائے ثقافت، سیاحت و کھیل کی جانب سے قائم کی گئی ہے۔ اِس یونیورسٹی میں 26 مختلف شعبے ہیں اور 6 فیکلٹیز ہیں، جن میں اسکول آف میوزک، اسکول آف فلم، اسکول آف ڈانس، اسکول آف سنگنگ، اسکول آف وژؤل آرٹس اور اسکول آف کورین ٹریڈیشنل آرٹس شامل ہیں۔

کوریا نیشنل یونیورسٹی آف آرٹس— تصویر بشکریہ کوریا نیشنل یونیورسٹی آف آرٹس فیس بک پیج
کوریا نیشنل یونیورسٹی آف آرٹس— تصویر بشکریہ کوریا نیشنل یونیورسٹی آف آرٹس فیس بک پیج

یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ یہ یونیورسٹی ہر سال کوریا سمیت پوری دنیا کو سند یافتہ فن کاروں کی ایک بڑی تعداد فراہم کرتی ہے اور کیو ایس عالمی رینکنگ برائے پرفامنگ آرٹس جامعات میں "کوریا نیشنل یونیورسٹی" 51 ویں نمبر پر موجود ہے۔

کوریا نیشنل یونیورسٹی آف آرٹس میں مجھے اسکالرشپ کیسے ملی؟

یہ یونیورسٹی آرٹ میجر ایشین (اے ایم اے) اسکالرشپ کے نام سے پاکستان سمیت 17 ایشیائی ممالک کے طلباء کو اسکالرشپ فراہم کرتی ہے۔ اسکالرشپ کا اعلان ہر سال مارچ میں یونیورسٹی کی ویب سائٹ پر کیا جاتا ہے۔ درخواست فارم یونیورسٹی کی ویب سائٹ پر دستیاب ہوتا ہے، جس کے ساتھ ایک میڈیکل فارم، سابقہ تعلیمی ادارے سے 3 سفارشی لیٹرز درکار ہوتے ہیں۔ تمام اسناد و دیگر کاغذات کو نوٹرائز کروانا ہوتا ہے جس کے لیے آپ کسی وکیل کی خدمات حاصل کرسکتے ہیں۔ درخواست فارم اور اسناد، کاغذات کے ہمراہ یونیورسٹی کو بذریعہ ڈاک بھیجی جاتی ہے اور جون تک درخواستیں جمع کروانی ہوتی ہیں جبکہ ستمبر میں کامیاب امیدواروں کا اعلان کیا جاتا ہے اور اکتوبر میں کورین زبان سیکھنے کوریا جانا ہوتا ہے جبکہ سیمسٹر کا آغاز مارچ سے ہوتا ہے۔

یہ ایک مکمل اسکالرشپ پروگرام ہے۔ میں نے یہاں آکر دیکھا کہ اِس یونیورسٹی کی اسکالرشپ سے سب سے زیادہ قازقستان، چین، بنگلہ دیش اور منگولیا کے طلباء استفادہ کرتے ہیں، کیونکہ اِس اسکالرشپ میں ہوائی سفر کا خرچ، رہائش اور ماہانہ وظیفہ شامل ہوتا ہے۔

طلبہ و طالبات کو تین مرحلوں میں کورین زبان سیکھنی ہوتی ہے کیونکہ یہ زبان سیکھے بغیر آپ کو ڈگری نہیں مل سکتی، لہٰذا طلباء بڑی ہی عرق ریزی سے کورین زبان پر عبور حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

3 ماہ تک کورین زبان سکھائی جاتی ہے، جس کے بعد سیمسٹر کا بھی آغاز ہوجاتا ہے، لہٰذا سیمسٹر شروع ہونے کے بعد پھر طلبہ و طالبات کو کورین زبان خود سے ہی سیکھنی ہوتی ہے۔

کورین یونیورسٹی میں ایک پاکستانی کی زندگی

بطور مسلمان شروع شروع میں تو کھانے پینے کے حوالے سے کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن بعد میں زیادہ پریشانی نہیں ہوتی، اگرچہ دیگر حلال اشیاء کھانے کو بھلے ہی نہ ملیں لیکن آپ کے پاس سی فوڈ کا آپشن ہمیشہ موجود ہوتا ہے۔

مزے کی بات یہ ہے کہ اِس یونیورسٹی میں بوریت کبھی نہیں ہوتی کیونکہ آئے دن کسی نہ کسی طالب علم کا کنسرٹ ہو رہا ہوتا ہے، اور ویسے بھی جہاں مختلف فنون یکجا ہوں وہاں بوریت نامی شہ بھلا کیسے جنم لے سکتی ہے؟

اِس یونیورسٹی کی ایک جو سب سے اچھی 'خوبی’ ہے وہ یہ ہے کہ یہاں امتحان صرف کورین زبان کے لیے جاتے ہیں جبکہ میجر مضامین کے امتحان نہیں ہوتے، بلکہ اسائنمنٹس اور کارکردگی کا جائزہ لیا جاتا ہے۔

کوریا نیشنل یونیورسٹی آف آرٹس۔
کوریا نیشنل یونیورسٹی آف آرٹس۔

تعلیمی لحاظ سے بھی یہ یونیورسٹی کافی بہتر ہے، فیکلٹی ممبران بڑے ہی عمدہ انداز میں پڑھاتے ہیں، آخر فن کار جو ٹھہرے۔

ایم اے ایم اسکالرشپ کے تحت آنے والے طلبہ و طالبات کو کوریا کے مختلف مقامات کی سیر و سیاحت کروائی جاتی ہے، جبکہ پروجیکٹ ورک کے سلسلے میں کوریا سے باہر جیسے تھائی لینڈ، چین، ویت نام اور بنگلہ دیش کے دوروں پر بھی لے جایا جاتا ہے۔

مجھے اِس یونیورسٹی میں آئے ہوئے ابھی کچھ ہی مہینے گزرے ہیں لیکن ابھی تک جو بھی وقت گزرا ہے وہ بہت ہی زبردست گزرا ہے۔

جنوبی کوریا اور میں

جنوبی کوریا کی بات کریں تو یہ ایشیاء کا ایک ترقی یافتہ اور خوبصورت ملک ہے۔ یہاں کے مقامی لوگ اسلام کے بارے میں بہت سوال کرتے ہیں، میں نے دیکھا ہے کہ یہاں اکثر نوجوان طلباء غیر مذہبی ہیں، اور جب مذہب کا سوال پوچھیں تو جواب آتا ہے کہ ہمارا مذہب تو "انسانیت سے پیار" ہے۔

کوریا کے لوگوں کو پاکستان کے بارے میں زیادہ کچھ پتہ نہیں، لیکن زیادہ کچھ علم نہ ہونے کے باوجود بھی بدقسمتی سے اُن کے لبوں پر بم دھماکے اور ڈرون حملوں کے قصے ضرور آجاتے ہیں۔

میں نے دیکھا ہے کہ کوریائی معاشرے میں چہرے کے حسن پر بڑا دھیان دیا جاتا ہے، دنیا میں سب سے زیادہ پلاسٹک سرجری جنوبی کوریا میں ہی ہوتی ہے، جبکہ دنیا میں سب سے زیادہ میک اپ بھی اِسی ملک میں استعمال ہوتا ہے۔

کورین دوست بتاتے ہیں کہ یہاں کسی خاتون نے اگر میک اپ نہ کیا ہو تو اُس کے بارے میں 3 رائے باآسانی قائم ہوجاتی ہیں. پہلی یہ کہ "یا تو وہ پاگل ہے"، "یا اُس کا بریک اپ ہوا ہے" یا پھر "اُس کو ابھی تک ایسا کوئی ملا ہی نہیں جس کے لیے میک اپ کیا جائے۔"

میں نے دیکھا کہ ہر کورین شخص کا خواب ہے کہ وہ اپنی زندگی میں کم از کم ایک بار تو ضرور چھٹیاں گزارنے امریکا جائے، اِس کی وجہ شاید یہی ہے کہ کوریا کے لوگ امریکا کو جنون کی حد تک پسند کرتے ہیں۔

کوریا نیشنل یونیورسٹی آف آرٹس۔
کوریا نیشنل یونیورسٹی آف آرٹس۔

یہاں کی حیران کن بات ایک یہ بھی ہے کہ مقامی طلباء آپ سے اُس وقت تک بات نہیں کرتے جب تک آپ خود اُن سے گفتگو کا سلسلہ شروع نہیں کرتے، جبکہ یہاں لڑکے بھی لڑکیوں کی طرح کافی شرمیلے مزاج کے مالک ہیں۔

دوستی کرنے میں ایک مشکل زبان کی رکاوٹ بھی ہے۔ مقامی طلباء انگریزی بولنے سے بالکل ویسے ہی کتراتے ہیں جیسے پاکستان میں عام یونیورسٹیوں کے طلباء انگریزی بولنے سے کتراتے ہیں، کیونکہ وہاں بھی لوگوں کو یہی خوف ہوتا ہے کہ کہیں وہ غلط انگریزی نہ بول بیٹھیں.

لیکن بہرحال اِس حقیقت کا اعتراف کرلینا چاہیے کہ کوریا کے لوگوں کو اپنی زبان سے بھی کافی محبت ہے، کوئی مجھ جیسا غیر ملکی اگر اُن سے ٹوٹی پھوٹی کورین میں بھی بات کرے تو وہ بہت ہی خوشی کا اظہار کرتے ہیں اور حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ کلاس کے دوران پروفیسرز اور طلباء کا رویہ بہت ہی دوستانہ اور ملنسار ہوتا ہے اور ہم جیسے غیر ملکی طلبہ و طالبات کو کوئی پریشانی نہیں ہوتی۔

یہ سب بیان کرنے کا بنیادی مقصد تو یہ بیان کرنا ہے کہ پاکستان کے ایک چھوٹے سے علاقے سے اُٹھ کر بیرون ملک تعلیم حاصل کرنا قطعی طور پر ناممکن نہیں ہے، اگر طلبہ و طالبات دلجمعی کے ساتھ محنت کریں تو وہ بھی تعلیم کے حصول کے لیے کہیں بھی جاسکتے ہیں۔ ایک اور اہم بات یہ کہ میں ذاتی طور پر یہ سمجھتی ہوں پاکستانی طلباء کو اِس اسکالرشپ سے بھی استفادہ کرنا چاہیے خاص طور پر وہ طلباء جنہیں آرٹس میں دلچسپی ہے۔