چین کیوں مغرب کی بولی بولنے لگا؟

اپ ڈیٹ 08 ستمبر 2017

ای میل

اگر آپ زیادہ عرصہ حقیقت سے چھپتے پھریں گے تو ایک دن ایسے مقام پر آ پہنچیں گے کہ جہاں سے واپسی کا کوئی راستہ نہیں مل پائے گا۔

پاکستان کے ساتھ بھی شاید کچھ ایسا ہی ہو رہا ہے، جہاں چوتھائی صدی سے زیادہ عرصے سے ہماری ریاست ایک حقیقت کے ہاتھوں تقریباً یرغمال بنی ہوئی ہے لیکن ہم دنیا کے ہر فورم پر اس حقیقت سے انکار کرتے آئے ہیں۔ وہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے اندر، ریاستی پالیسی کے تحت ایسے گروہوں کی پرورش، تربیت، مدد اور آبادکاری کی جاتی رہی ہے تاکہ انہیں خفیہ جغرافیائی سیاسی کھیل میں اثاثوں کے طور پر استعمال کیا جاسکے، وہی کھیل جسے ہم اس خطے میں کھیلنے کی کوشش کر چکے ہیں۔

یہ تاریخ کافی بار ملک کے اندر اور باہر سنائی جاتی رہی ہے، اور ان گروہوں اور ان کے بڑے بڑے سماجی حلقوں کو حاصل ریاستی سرپرستی کا ثبوت تو اب اس حد تک واضح ہے کہ اس سے انکار کرنا جان بوجھ کر پاگل پن ہوگا۔ آخر ان لوگوں کو کس طرح سمجھایا جائے جو آج تک اس حقیقت سے بے خبر رہے ہیں؟

برسوں سے اس بات کو درست قرار دینے یا پھر اسے کوئی مسئلہ نہ گرادننے کے لیے ہمیں کئی منطقیں سننے کو ملیں۔ اب جب کہ برکس ممالک (برازیل، روس، چین، ہندوستان اور جنوبی افریقا) نے پاکستان میں تین خاص گروہوں کی نشاندہی کرتے ہوئے دہشتگرد قرار دیا ہے تو یوں انہوں نے صرف وہی بات دہرائی ہے جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل تقریباً 15 برس پہلے ہی کہہ چکی تھی۔

پھر بھی ایک منطق یا میٹھے جواز کے طور پر سامنے سے یہ جملہ آ جاتا ہے کہ "یہ گروہ پاکستان میں پہلے سے ہی کالعدم ہیں،" جس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ گروہ نہ صرف ملک میں موجود ہیں بلکہ آزادی کے ساتھ کام کرتے ہیں، معاشرے میں اپنے نظریات پھیلاتے ہیں، بڑی بڑی انتظامی کارروائیاں سر انجام دیتے ہیں، اور کچھ موقعوں پر تو نیک نیت سیاسی جماعتوں کی صورت میں معاشرے کے مرکزی دھارے میں داخل ہو رہے ہیں۔

پڑھیے: چین اور پاکستان کی گہری دوستی کی وجہ

پاکستان میں ایسی پابندی کا مطلب ہی کیا ہے کہ جس میں ایسے گروہ نام بدل کر اپنا معمول کا کام جاری رکھتے ہوں؟ لال مسجد کے مولانا عبدالعزیز کے خلاف کیس کو ہی دیکھ لیجیے، جنہوں نے تقریباً ایک دہائی قبل ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھا لیے تھے، اور ایک لڑائی کی ابتدا کی جس کے نتیجے میں کئی فوجی اہلکار اپنی جانوں سے گئے۔

کیس سرد خانے کے حوالے ہو گیا (کسی دن اس بات کا بھی جائزہ لیجیے کہ آخر یہ سب ہوتا کیسے ہے) اور مذکورہ مولانا اب بھی اسی مسجد میں قیام پذیر ہیں اور آزادی کے ساتھ اپنی تبلیغ بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اگر کسی قسم کی باضابطہ حمایت انہیں دستیاب نہیں تھی، تو یہ سب کیسے ممکن ہوا؟

ایک دوسرا جملہ بھی ہمیں کہا گیا کہ ہمیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ اس صورتحال پر جو ممالک احتجاج کر رہے ہیں وہ ہمارے خلاف متعصب رویہ رکھتے ہیں، اور انہیں اتحادیوں سے زیادہ دشمن سمجھنا چاہیے۔ لیکن اب تو ان ممالک میں چین بھی شامل ہے، جبکہ ہمیں تو بتایا گیا تھا کہ یہ ملک اس موقعے پر ہم پر انگلی اٹھانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا اور ہمیشہ ہمارے ساتھ کھڑا ہوگا۔ اور چین کے ساتھ سی پیک بھی تو جڑا ہے، جو کہ مستقبل میں ہمارے لیے ترقی کی راہ ہموار کرے گا، وہ ترقی جس کے خواب ہم نسل در نسل دیکھتے آئے ہیں، وہ اپنی ذہنی صلاحیت یا سخت محنت کے بجائے، بڑے بھیا کے ہاتھوں حاصل کر رہے ہیں۔

خیر اب تو چین بھی پاکستان میں انتہاپسند گروہوں کی موجودگی کی نشاندہی کرنے والے ممالک کی صف میں کھڑا ہو گیا ہے۔ اپنا مؤقف مضبوط بنانے کے لیے برکس ممالک نے ’جامع انداز میں دہشتگردی کے خلاف جنگ' کا نکتہ بھی پیش کیا، جس میں انتہا پسندانہ نظریات کی مخالفت، دہشتگرد جنگجوؤں کی نقل و حرکت اور ان کی بھرتی کو روکنا، ان کے مالی وسائل کا قلع قمع اور بہت کچھ شامل ہے۔ یہ ایک طویل فہرست ہے اور نوٹ کیجیے کہ برکس اعلامیہ میں جو باتیں موجود ہے وہ اقوام متحدہ کے فریم ورک کے اندر رہتے ہوئے کی گئی ہیں اور ایک عرصے سے دنیا کی اہم طاقتیں جو آواز اٹھا رہی ہیں، اسی میں ایک اضافہ ہے۔

اگر کسی نے یہ سوچا تھا کہ عالمی منظرنامے پر چین کے ابھرنے، اور ہمارے اڑوس پڑوس میں اس کے بڑھتے ہوئے مفادات، اور دوسرے ممالک کے 'اندرونی معاملات' میں دخل نہ دینے کی اس کی پالیسی کی وجہ سے ہمیں بالآخر اپنا گریٹ گیم کھیلنے کی کھلی آزادی مل گئی ہے، تو اسے ایک زبردست جھٹکے کے لیے تیار ہوجانا چاہیے۔

پڑھیے: حافظ سعید کی نظر بندی کے پیچھے امریکا ہے یا چین؟

ایسا شخص جو ابھی تک الفاظ کو توڑ مروڑ رہا ہو تاکہ ان کا مطلب حقیقی کے بجائے کچھ اور پیش کیا جائے، اسی شخص کی طرح ہے جس نے اپنی زندگی اس قدر جھوٹ میں گزاری ہے کہ وہ اب سچائی کا راستہ ڈھونڈنے میں ناکام ہے۔

اعلامیے میں جو کچھ بھی ہے وہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ برکس ممالک، جس میں روس اور چین بھی شامل ہیں، یورپی و امریکی ورلڈ آرڈر کے مرتب کردہ معیار کا کوئی متبادل پیش نہیں کریں گے۔ مثلاً دہشتگردوں کو ملنے والی امداد کا مقابلہ کرنے کے لیے وہ اقوام متحدہ کی قراردادوں اور فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے ساتھ کام کرنا چاہتے ہیں، فنانشل ایکشن ٹاسک فورس برسوں سے دہشتگردوں کے ہاتھوں پاکستان کے کمزور مالیاتی نظام کے استعمال کی طرف اشارہ کرتی رہی ہے، کیونکہ یہ گروہ پاکستان میں سزا سے مستثنیٰ ہو کر کام کرتے ہیں۔

جی ہاں ہم دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بڑی بڑی کامیابیاں حاصل کر چکے ہیں۔ تحریک طالبان پاکستان جیسے گروہوں کو سوات اور شمالی اور جنوبی وزیرستان سے باہر نکال دیا گیا ہے، اور اس راہ میں جو قربانیاں پاکستان کے فوجی جوانوں نے دی ہیں وہ قابل تعریف اور قابل تحسین ہیں۔ جی ہاں، سیکیورٹی کی صورتحال گزشتہ دہائی کے مقابلے میں بہتر ہوئی ہے، البتہ ہمیں ابھی بھی کئی جگہوں پر کامیابی حاصل کرنی باقی ہے۔

اور ہاں، یہ بات بھی کہی جانی چاہیے کہ مغرب، بالخصوص امریکا کا ہم پر انگلیاں اٹھانا بدنیتی ہے۔ امریکا کی افغانستان میں شکست پاکستان کی وجہ سے نہیں ہے۔ امریکا کے ہارنے کی ایک سادہ سی وجہ یہ ہے کہ افغان جنگ اپنے آغاز کے ساتھ ہی اپنی متعین سمت سے ہٹ گئی اور جنگ کا دائرہ کار عراق تک پھیلا دیا گیا۔ باقی سب تو تفصیلات ہیں۔

لیکن پاکستان دنیا کو یہ سادہ سی حقیقت کو تسلیم کروانے میں مشکلات کا شکار کیوں ہے، اس کی ایک وجہ ہے: کیونکہ ہم اس تمام جنگ کے دوران اس میں ہماری اپنی شرکت کے بارے میں خود سے اور اپنے اتحادیوں سے جھوٹ بولتے آ رہے ہیں۔ اگر ایبٹ آباد کا واقعہ یہ ثابت نہیں کرتا تو ملا منصور کی پاکستانی سرزمین پر پاکستانی پاسپورٹ کے ہمراہ ہلاکت اس بات کو ضرور ثابت کرتی ہے۔

یہ مضمون 7 ستمبر 2017 کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔