کراچی میں جب بھی پکنک کا ذکر ہوتا ہے تو نہ صرف ذہن میں سب سے پہلے ساحل ابھرتا ہے بلکہ اِس کی بپھرتی موجوں میں نہانے اور ریت پر بیٹھ کر سمندر کو دیکھتے رہنے کا خیال اور تصور بھی ذہن میں اُبھر آتا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ ایسا ہی کچھ سوچا ہوگا 9 ستمبر کو کراچی کے ساحل ہاکس بے پر پکنک کے لیے جانے والے سمن آباد کے رہائشی خاندان کے افراد نے مگر اُنہیں کیا معلوم تھا کہ یہ پکنک اُن کے لیے بھیانک خواب ثابت ہوگی اور دیکھتے ہی دیکھتے 12 رشتہ دار موت سے بغل گیر ہوجائیں گے۔

9 ستمبر کی شام رونما ہونے والے اِس حادثے نے ماضی میں ساحل پر ڈوب کے جاں بحق ہونے والے افراد اور حادثات کی یاد پھر سے تازہ کر دی۔ ماضی قریب پر نظر ڈالی جائے تو اگست 2014 کو عید کے موقع پر کلفٹن کے ساحل پر 40 افراد کے ڈوبنے کا واقعہ ابھی تک ذہن نشین ہے، لیکن ان بڑے واقعات سے ہٹ کر دیکھا جائے تو ساحلوں پر ڈوب کے کر مرنے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ صرف رواں سال جون، جولائی اور اگست کے تین ماہ میں 55 سے زائد افراد ساحلوں پر تفریح مناتے ہوئے ڈوب کر اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

ایدھی ویلفیئر کے مطابق ہاکس بے کے سمندر میں سب سے زیادہ 40 شہری ڈوبے، جبکہ منوڑا، حب ڈیم اور گڈانی میں 15 افراد سمندر کی لہروں کی نظر ہو گئے۔ اگست میں ہی ہاکس بے پر سعودی ڈپٹی قونصل جنرل کے بیٹے سمیت 3 افراد نہاتے ہوئے ڈوب کر ہلاک ہو گئے تھے۔

لیکن یہاں سوال یہ ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ کراچی کے ساحل پر لوگ زیادہ ڈوب کر جاں بحق ہوتے ہیں؟

میری ٹائم ماہرین اِس کا سادہ سا جواب دیتے ہیں اور وہ ہے "سی بلائنڈنیس۔" اگر اِس کو لغوی معنی میں لیا جائے تو ترجمہ ہوگا "سمندری اندھا پن۔" اِس اصطلاح کا مطلب یہ ہے کہ عوام کو سمندر سے متعلق اِس قدر کم معلومات ہیں کہ وہ تقریباً سمندر کے بارے میں ایسے ہیں جیسے کہ کوئی اندھا شخص۔ کراچی میں یہ بات ہر طرح سے پوری اترتی ہے کیونکہ ساحل پر آباد ہونے کے باوجود شہریوں کا سمندر پر انحصار کم سے کم ہے۔ دنیا کے دیگر ساحلی شہروں کے برعکس کراچی سمندر کی خوراک پر انحصار نہیں کرتا اور سمندر کی آلودگی سے بھی کراچی کے شہریوں کو زیادہ دقت نہیں ہے۔

پڑھیے: 'مجھ سے میرا سی ویو مت چھینو'

اِس تمام تر لاعلمی کے ساتھ ساتھ سمندر پر پکنک منانے والوں کو سمندر کے پانی کے رویے کا بھی نہیں پتہ ہے۔ سمندر ہر وقت تلاطم رہتا ہے اور سمندر میں اُٹھنے والی لہروں اور موجوں کے علاوہ جوار بھاٹے بھی آتے ہیں۔ جوار بھاٹے میں ساحلوں پر سمندر کا پانی مقررہ اور مخصوص اوقات میں اترتا اور چڑھتا ہے۔ شام کے وقت سمندر اندر کی طرف سمٹتا ہے اور ساحل سے پانی دور ہٹنے لگتا ہے۔ ایسے میں آنے والی لہریں چیزوں کو اندر کی طرف کھینچتی ہیں اور زیادہ تر ڈوبنے کے واقعات شام کے وقت ہی ہوتے ہیں۔

ایسا ہی 9 ستمبر کے حادثے میں ہوا، جبکہ اگست 2014 میں ڈوبنے کے واقعات بھی شام کے وقت ہی پیش آئے۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب سمندر پانی کے ساتھ ساتھ بہہ کر آنے والی چیزوں کو بھی اپنے ساتھ لے جاتا ہے اور اُسی وقت میں بے احتیاطی حادثات کا سبب بنتی ہے۔ اِسی جوار بھاٹے کی وجہ سے ساحل پر مستقل اور عارضی گڑھے پڑ جاتے ہیں جن میں پیر پڑنے سے کوئی بھی فرد اپنا توازن کھو سکتا ہے اور ڈوب جاتا ہے۔

پانی کے ساتھ ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ اُس کی سطح ہمیشہ برقرار رہتی ہے اور نیچے کتنی گہرائی ہے اُس کا قطعی طور پر علم نہیں ہوسکتا، صرف یہی نہیں بلکہ اطراف میں اچانک کوئی گڑھا ہو تو اُس کا بھی مشکل سے ہی پتہ چلتا ہے۔ اِس کے لیے ضروری ہے کہ ساحل پر اُن مقامات جہاں پر اچانک گہرائی بڑھ رہی ہے یا کوئی گڑھا موجود ہو تو وہاں کی نشاندہی کی جائے اور ایسے مقامات پر خطرے کے نشانات آویزاں کیے جائیں۔

کراچی کے ساحل کی سب سے اہم بات اِس کی فوری گہرائی ہے۔ دنیا بھر میں وہ ساحلی مقامات جہاں عوام پکنک کے لیے آتے ہیں وہاں زیادہ تر ایسے ہوتے ہیں جہاں پر پانی کی گہرائی کم اور لہروں کی براہِ راست تکرار نہ ہو۔ مگر کراچی میں دیکھا جائے تو ساحل کے فوری بعد سمندر کی گہرائی قدم آدم سے تجاوز کر جاتی ہے، اور ساحل پر اچانک بڑھتی ہوئی اِس گہرائی کی وجہ سے ہی لوگ اکثر تفریح کے دوران سمندر کی لہروں کی نذر ہو جاتے ہیں۔

پڑھیے: ریو ڈی جنیرو میں کراچی کا سی ویو

کراچی کے شہری سمندر سے ناواقف ہونے کی وجہ سے اِس میں ہونے والی تبدیلیوں اور اُن کے اثرات سے بھی پوری طرح آگاہ نہیں ہیں۔ مگر مچھیروں کا کہنا ہے کہ ساحل کے اطراف اوشین کرنٹ میں تبدیلی ہو رہی ہے جس سے نہ صرف "کے پی ٹی" چینل میں پانی کی سطح بڑھ گئی ہے بلکہ اِس کے اثرات اطراف کے جزائر اور ساحلی پٹی پر بھی مرتب ہو رہے ہیں اور اِس کی وجہ ہے کراچی کے ساحل پر قائم ہونے والا نیا کنٹینر ٹرمینل۔ ایس اے پی ٹی ٹرمینل کو کراچی کی بندرگاہ پر کلفٹن کے ساحل کی طرف اِس طرح تعمیر کیا گیا ہے کہ چینل کی کھدائی کے لیے لاکھوں ٹن مٹی نکالی گئی ہے۔

اِس کے علاوہ چینل کی حفاظت کے لیے ایک طویل واٹر بریک لائن بھی بنائی گئی ہے جس کے بارے میں مچھیروں اور جزائر پر آباد افراد کا دعویٰ ہے کہ اِس ٹرمینل کی تعمیر سے اوشین کرنٹ میں تبدیلی واقع ہوئی ہے۔ اِس ٹرمینل کی واٹر بریک لائن سے ٹکرانے کی وجہ سے لہروں کا رخ تبدیل ہو جاتا ہے اور وہ لہریں اب بابا اور بھٹ جزائر سے زیادہ شدت سے ٹکرا رہی ہیں اور زمین کو نگل رہی ہیں بلکہ اِس سے سینڈز پٹ اور ہاکس بے پر بھی منفی اثرات پڑ رے ہیں اور وہاں بھی لہروں کی شدت میں اضافہ ہو گیا ہے۔

ہمارے ایک سرمایہ کار ساتھی کا سینڈز پٹ پر تقریحی ہٹ موجود تھا، جو کہ اب مکمل طور پر کھنڈر بن چکا ہے۔ جب اُن سے پوچھا گیا کہ کیا وجہ ہے کہ ہٹ کی مرمت نہیں کروا رہے ہیں تو اُن کا کہنا تھا کہ پہلے ہر دو سال بعد ہٹ کی معمولی مرمت کرنے کی ضرورت پیش آیا کرتی تھی، مگر اب صورتحال یہ ہے کہ سال میں دو مرتبہ مرمت کی ضرورت پڑتی ہے۔ اب لہریں براہِ راست ہٹ سے ٹکرا رہی ہیں جس کی وجہ سے ہٹ کو اصل شکل میں برقرار رکھنا مہنگا اور مشکل ترین کام ثابت ہو رہا ہے۔

اِس حوالے سے کوئی سائنسی تجزیہ تو دستیاب نہیں ہے مگر ہاکس بے اور کلفٹن پر ڈوبنے والوں کی تعداد میں اضافے کے پیشِ نظر اور سمندر کی مہارت رکھنے والے مچھیروں کی بات توجہ طلب ضرور ہے۔

لاپرواہی اور بے احتیاطی بھی سمندر میں ڈوبنے کی وجوہات میں سے ایک ہے۔ لوگ جب پکنک کے لیے ساحل کا رخ کرتے ہیں تو وہ احتیاط کا دامن چھوڑ دیتے ہیں اور یہی لاپرواہی نقصان کا سبب بھی بن جاتی ہے۔ رواں ماہ ڈوبنے والے 12 افراد میں بھی یہی لاپرواہی کا عنصر دکھائی دے رہا ہے۔

مقامی تھانے کے مطابق حادثے کے شکار خاندان کو گشت پر معمور پولیس پارٹی نے سمندر میں نہانے سے منع کرتے ہوئے پانی سے باہر نکال دیا تھا۔ اب چونکہ پولیس کے پاس اختیارات اور وسائل محدود ہیں اور ہر مقام پر مستقل نفری تعینات نہیں کر سکتی، اِس لیے پولیس اُن لوگوں کو باہر نکال کر آگے چلی گئی، لیکن جیسے ہی وہاں سے پولیس آگے گئی تو وہ لوگ دوبارہ سمندر میں چلے گئے اور یوں ایک بچہ لہروں کی نظر ہو گیا جسے بچانے کے لیے جانے والے 12 افراد لقمہ اجل بن گئے۔

پڑھیے: ساحل بھی، منظر بھی

پاکستان میں ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں لوگ تفریح کے لیے ساحلوں کا رخ کرتے ہیں، مگر وہاں پر جان بچانے کے لیے اور عوام کی سہولت کے لیے مقامی حکومتوں اور انتظامیہ کی جانب سے بنیادی انفرااسٹرکچر قائم کیا جاتا ہے۔ جیسے ہر ترقی یافتہ ممالک میں ساحل کے ہر اُس خطرناک مقام پر مخصوص نشانات آویزاں کیے جاتے ہیں جہاں اوشین کرنٹ تبدیل ہوتا ہو یا اچانک سمندر کی گہرائی زیادہ ہو جاتی ہو۔ صرف یہی نہیں بلکہ ساتھ ساتھ لائف گارڈز بھی تعینات کیے جاتے ہیں۔

چونکہ تھائی لینڈ ساحلی تفریحی کے حوالے سے کافی مشہور ہے اِس لیے وہاں کی مثال لینا بہت ضروری ہے۔ تھائی لینڈ وہ جگہ ہے جہاں ساحلوں پر تفریح کی غرض سے دنیا بھر سے لاکھوں سیاح آتے ہیں۔ تھائی لینڈ کا فوکیٹ شہر ساحلی تفریحی سرگرمیوں کے لیے بہت مشہور ہے۔ اِس ساحل پر جان بچانے کے لیے ایک فوکیٹ لائف گارڈ کلب قائم کیا گیا ہے جس میں جان بچانے کی تربیت کے لیے اعلیٰ پیشہ ور ماہرین کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں۔

فوکیٹ میں ہی لائف گارڈز کے عالمی مقابلے بھی منعقد کیے جاتے ہیں۔ گزشتہ سال ہونے والے مقابلوں میں آسٹریلیا، نیوی لینڈ اور بھارت سمیت 12 ممالک کے ایک سو سے زائد لائف گارڈز نے حصہ لیا۔ اِس مقابلے کا بنیادی مقصد فوکیٹ کے لائف گارڈز کی قابلیت کا معیار دیگر ملکوں کے مقابلے میں جانچنا اور دیگر ملکوں میں استعمال ہونے والے لائف گارڈ تکنیک کا بھی جائزہ لینا ہے۔

کراچی کے ساحلوں پر تفریح کے لیے آنے والوں کی حفاظت کے لیے سال 2001 میں ہاکس بے کے ساحل پر ایک ایمرجنسی رسپانس سینٹر قائم کیا گیا تھا۔ اِس وقت ہاکس بے ایمرجنسی رسپانس سینٹر پر 46 لائف گارڈز موجود ہیں جو کہ مبارک ویلیج، سنہرا بیچ، کیپ ماؤنٹ، نیلم پوائنٹ، پیراڈائز پوائنٹ، سینڈز پٹ، گولڈن پوائنٹ، ہاکس بے اور ٹرٹل بیچ پر فرائض سرانجام دیتے ہیں۔

اِن لائف گارڈز کو نہ صرف سمندر بلکہ شہر میں نالے، ندی، کنوئیں یا کسی اور جگہ ڈوبنے والے افراد کی تلاش کے کام پر بھی معمور کیا جاتا ہے۔ بلدیہ کراچی کے ماتحت مبارک ویلیج سے لے کر ٹرٹل بیچ تک 12 کلومیٹر کی ساحلی پٹی پر تو اب بھی لائف گارڈز تعینات ہیں مگر افسوس اور خطرناک ترین بات یہ کہ کراچی کے کسی اور مقام پر مستقل لائف گارڈز موجود نہیں اور 64 کلو میٹر طویل ساحلی پٹی پر چاہے وہ کنٹونمٹ کلفٹن ہو، کنٹونمنٹ کورنگی کریک ہو، کنٹونمٹ منوڑا ہو، کے پی ٹی ہو، پورٹ قاسم ہو یا ابراہیم حیدری فش ہاربر کا علاقہ، کہیں کوئی لائف گارڈ تعینات نہیں ہے۔

اِس ایمرجنسی رسپانس سینٹر کو فائر برگیڈ کے ماتحت کر دیا گیا، اِس لیے جس طرح فائر بریگیڈ سہولتوں اور آلات کے بغیر کام کر رہی ہے بالکل اِسی طرح یہ سینٹر بھی قائم تو کر دیا گیا مگر اِس کو مطلوبہ سہولتیں فراہم نہیں کی گئیں۔ کسی بھی ساحلی مقام پر ڈوبنے والوں کو بچانے اور ڈوبنے کے بعد لاشیں نکالنے کے لیے کوئی جدید آلات موجود نہیں ہیں۔ اِس سینٹر میں اگرچہ لائف گارڈز کے پاس کشتیاں تو ہیں مگر چپو والی ہیں جو ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کے لیے بہت وقت لے لیتی ہیں۔ ایسی کشتیاں نہیں ہیں جن میں ساحل کے قریب پیٹرول کیا جاسکے۔

اِس کے علاوہ ساحل پر گشت کے لیے اور متاثرہ مقام پر فوری مدد یا کشتی پہنچانے کے لیے کوئی مخصوص گاڑی بھی موجود نہیں ہے۔ ساحل پر ریتیلی زمین ہونے کی وجہ سے دنیا بھر میں مخصوص ڈیزائین شدہ گاڑیاں استعمال کی جاتی ہیں جن میں اے ٹی وی (All Terrain Vehicle) اور فور بائی فور جیسی گاڑیاں شامل ہیں۔ مگر اِس قسم کی کوئی سہولت بلدیہ عظمیٰ کراچی کے ساحل پر موجود ایمرجنسی رسپانس سینٹر کے پاس موجود نہیں ہے۔

ڈوبنے والوں کی تلاش کے لیے باڈی فائنڈر اور خصوصی کیمرے استعمال ہوتے ہیں مگر بدقسمتی سے وہ بھی سینٹر کے پاس موجود نہیں۔ اِس سینٹر پر تعینات افسران کا کہنا ہے کہ متعدد مرتبہ بلدیہ عظمیٰ کو تجویز دی گئی کہ ہاکس بے کی طرح کلفٹن اور دیگر تفریحی مقامات پر الگ الگ رسپانس سینٹر قائم کیے جائیں، ہاکس بے پر لائف گارڈز کی تعداد کم از کم ایک سو کی جائے اور جدید آلات بھی فراہم کیے جائیں مگر ہر بار یہ تجویز محض تجویز ہی رہ گئی اور سرکاری فائلوں میں دب گئی۔ جو بلدیہ شہر سے کچرا صاف نہ کر سکے وہ کس طرح شہر کے تفریحی مقامات پر کوئی سرمایہ کاری کر سکتی ہے؟

پڑھیے: ساحل سمندر برد ہونے لگے، حکومت اب تک خاموش

ساحل پر حفاظت کے حوالے سے ایدھی ویلفیئر ٹرسٹ نے اپنے لائف گارڈ بھی بھرتی کیے ہیں اور اُنہوں نے متعدد واقعات میں لوگوں کی جان بھی بچائی ہے۔ سال 2014ء میں جب کلفٹن پر بڑے پیمانے پر لوگ ڈوب کر جان کی بازی ہارے تو ایک این جی او نے واچ ٹاورز بنانے، ساحلی پٹی پر لائف گارڈز تعینات کرنے اور ایمرجنسی رسپانس سینٹر کے قیام کے لیے کمشنر کراچی سے معاہدہ کیا مگر یہ منصوبہ این جی او فنانس نہیں کرسکی اور ایک ہی واچ ٹاور کے قیام کے بعد پیش رفت نہ ہوسکی اور منصوبہ بند کردیا گیا۔

ساحل پر ڈوبنے کی دیگر وجوہات میں عوام کا تیراکی کے فن سے ناآشنائی بھی ہے۔ مغربی ممالک میں تعلیمی اداروں اور کمیونٹی کی سطح پر سوئمنگ پول دستیاب ہوتے ہیں اور چھوٹی ہی عمر میں بچوں کو تیراکی کی بنیادی تربیت دیدی جاتی ہے۔ ایک لائف گارڈ نے کا کہنا ہے کہ اگر عوام کو تھوڑی سے بھی سمجھ ہو کہ ڈوبنے سے کیسے بچنا ہے تو اکثر لوگوں کی جانیں بچائی جاسکتی ہیں۔

پانی میں پاؤں اکھڑنے کے بعد اگر حواس پر قابو رکھا جائے اور سانس کو روک کرجسم ڈھیلا چھوڑ دیا جائے تو لہر انسان کو اپنے ساتھ کھینچ کر لے جانے کے بجائے ساحل کی طرف پھینک دیتی ہے۔ مگر جیسے ہی سمندر کی لہر میں پاؤں اکھڑتے ہیں تو ڈوبنے والا جان بچانے کے لیے ہاتھ پاؤں مارنا شروع کر دیتا ہے جس سے اُس کی تمام تر توانائی ختم ہو جاتی ہے اور لہر کی شدت کم ہونے پر بھی وہ خود کو باہر نکالنے میں کامیاب نہیں ہو پاتا اور یوں وہ اس جہاں سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے رخصت ہو جاتا ہے۔

پیپلز پارٹی اور سندھ کی حکمران جماعت کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے واقعے پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور یہی افسوس سندھ کی انتظامیہ سے وابستہ وزیر اعلیٰ، گورنر سندھ سمیت تمام وزراء اور عوامی نمائندوں جیسے میئر اور ڈپٹی میئر نے بھی کیا ہے۔ مگر نہ تو متاثر خاندان کی کفالت کے لیے حکومتی سطح پر کوئی اعلان ہوا ہے اور نہ ہی مستقبل میں ایسے واقعات سے نمٹنے کے لیے کوئی لائحہ عمل تجویز کیا گیا ہے۔

محسوس یوں ہوتا ہے کہ حکومت عوام کو تفریحی مقامات پر کوئی سہولت پہنچانے میں دلچسپی رکھتی ہی نہیں کیونکہ ایک تلخ حقیقت تو یہ بھی ہے کہ شہر میں نہ پارکس باقی ہیں اور نہ ہی دیگر تفریحی مقامات، جس کی وجہ سے عوام کوشش کرتی ہے کہ چلو ساحل پر جاکر ہی دل بہلادیا جائے، مگر افسوس کہ حکومت نے یہاں بھی کوئی انتظام نہیں کیا، اِس صورت میں عوام تو بس یہی کہتی ہے کہ آخر وہ جائیں تو جائیں کہاں؟

اِس حوالے سے سیدھی اور صاف بات یہ ہے کہ عوام ساحل جائے ضرور جائے مگر احتیاط کے ساتھ، کیونکہ اب یہاں یہی اصول رہ گیا ہے کہ اپنی جان کی حفاظت خود کرنا ہوگی اگر ریاست سے زیادہ توقع رکھی گئی تو خدشہ ہے کہ مزید جانوں کا ضیاع نہ ہوجائے۔