ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ قطر اور عرب ممالک کے درمیان شدت اختیار کرتا ہوا تنازع 2018 یا اس سے بھی زائد عرصے تک جاری رہ سکتا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کے مطابق بدھ کے روز سعودی عرب کی قیادت میں خلیجی ممالک کے بلاک کو قطر کے بائیکاٹ کے 100 روز مکمل ہوجائیں گے۔

برطانیہ کی ڈرہم یونیورسٹی کے مشرق وسطیٰ کے ماہر کرِسٹوفر دیوڈسَن نے ’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ ’اگر حالات اسی طرح چلتے رہے تو میرے خیال میں یہ تنازع آئندہ سال تک جاری رہ سکتا ہے۔‘

سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر نے 5 جون کو، اسلامی شدت پسندوں کی حمایت کا الزام عائد کرتے ہوئے اور ایران سے قریبی تعلقات پر قطر سے ہر سطح پر تعلقات منقطع کردیئے تھے۔

ان ممالک نے قطر کے ساتھ ملنے والی سرحدیں بند کردی تھیں، اس کی سرکاری ایئرلائن کو فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دینے سے انکار کردیا تھا اور بحری روابط بھی معطل کردیئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: قطر تنازع: سعودی عرب کا مطالبات سے پیچھے ہٹنے سے انکار

عرب ممالک کے ان ڈرامائی اقدامات کے بعد مبصرین کا خیال تھا کہ قطر کے پاس اب کوئی راستہ نہیں ہے اور وہ اپنے تجارتی پارٹنرز کے دباؤ میں آتے ہوئے ان کے مطالبات تسلیم کرلے گا۔

تاہم قطر نے الزامات کو مسترد کردیا اور خلیجی ممالک کے بائیکاٹ کو اس کی خود مختاری پر حملہ قرار دیا۔

گزشتہ روز قطر کے وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمٰن الثانی نے عرب بلاک پر قطر سے زبردستی ’اعتماد کے اظہار‘ کی کوششوں کا الزام عائد کیا، جو ان کے 7 جون کے ہی معاملے پر ابتدائی ردعمل کی جھلک تھی۔

مزید پڑھیں: خلیج تنازع: آخر قطر ہی کو نشانہ کیوں بنایا گیا؟

انوکھا تعطل

تاہم قطر کے خلاف فوجی مداخلت کی ابتدائی افواہ نے انتہائی انوکھے تعطل کو جنم دیا، جس میں سرکاری میڈیا اداروں اور رائے عامہ فرمز نے اہم کردار ادا کیا۔

اگست میں سعودی عرب کے گمنام قطری شیخ سے روابط نے اس افواہ کو جنم دیا کہ وہ قطری قیادت کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔

قطر کے جلاوطن اپوزیشن رہنما خالد الحیل جمعرات کے روز لندن میں ’قطر، عالمی سیکیورٹی اور استحکام‘ کے عنوان سے منعقد ہونے والی پراسرار کانفرنس میں بات کریں گے۔

امریکی بیسڈ رائس یونیورسٹی کے بیکر انسٹیٹیوٹ میں خلیجی تجزیہ کار کرسچین الرِچسن کا کہنا تھا کہ اس تنازع کے جلد ختم ہونے کے امکانات نہیں ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ نے قطر کو ’خلیج تنازع‘ کا ذمہ دار قرار دے دیا

انہوں نے کہا کہ ’دونوں طرف سے بدمعاشی اور دھوکہ دہی کا احساس بہت زیادہ ہے اور کوئی بھی معاملے کے حل کے لیے پہل نہیں کرنا چاہتا۔‘

کرسچین الرِچسن نے کہا کہ ’2014 کی سفارتی جھڑپ (جس میں بحرین، یو اے ای اور سعودی عرب نے قطر سے اپنے سفرا بلا لیے تھے) آٹھ ماہ تک جاری رہی تھی اور موجودہ تنازع شدت میں 2014 کے تنازع سے بڑا ہے، اس لیے اس کے زیادہ عرصے تک چلنے کے امکانات ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’موجودہ تنازع سے خلیجی ممالک کا دنیا بھر میں تاثر بھی خراب ہورہا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’خلیجی ممالک کے رہنما یہ بات مکمل طور پر نہیں سمجھ پارہے کہ تنازع کس طرح مغرب کے بااعتماد سیکیورٹی پارٹنرز کے طور پر ان کا تاثر خراب کر رہا ہے۔‘