وفاقی حکومت نے دہشت گرد گروپ انصار الشریعہ پاکستان (اے ایس پی) پر پابندی لگانے کا فیصلہ کرلیا۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے اراکین کو بتایا کہ دہشت گرد گروپ کے سربراہ اور اس کے چار اہم کارندوں کو گرفتار کرلیا گیا ہے اور جلد گروپ کے پورے نیٹ ورک کو ختم کردیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گرد گروپ کے فرار کارندوں کی گرفتاری کی کوششیں جاری ہیں اور انہیں جلد گرفتار کرلیا جائے گا۔

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) رینجرز میجر جنرل محمد سعید نے گروپ سے متعلق بریفنگ دی ہے، جبکہ کسی گروپ یا پارٹی کو اشتعال انگیز کارروائیوں میں ملوث ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

خیال رہے کہ 2 ستمبر کو متحدہ قومی مومنٹ (ایم کیو ایم) کے رہنما اور رکن سندھ اسمبلی خواجہ اظہار الحسن پر قاتلانہ حملہ ہوا تھا تاہم وہ محفوظ رہے جبکہ حملے کے نتیجے میں خواجہ اظہار الحسن کا ایک محافظ اور ایک 12 سالہ لڑکا جاں بحق جبکہ ایک محافظ سمیت 2 افراد زخمی ہوئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: خواجہ اظہار کے حملہ آور پولیس کی ٹارگٹ کلنگ میں بھی ملوث نکلے

اس حملے کے بعد کراچی کے علاقے گلزار ہجری میں پولیس اور انٹیلی جنس اداروں نے سرچ آپریشن کیا جس میں مسلح مقابلے کے دوران ایک پولیس اہلکار جاں بحق، ایک زخمی جبکہ ایک دہشت گرد زخمی حالت میں فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا، جس پر الزام ہے کہ وہ خواجہ اظہار الحسن پر حملے کا ماسٹر مائنڈ ہے۔

پولیس کا دعویٰ تھا کہ فرار ہونے والا دہشت گرد کالعدم تنظیم انصار الشریعہ سے تعلق رکھتا ہے۔

ضلع ملیر کے سینئر سپریٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) راؤ انوار نے ڈان نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ شدید زخمی حالت میں فرار ہونے والے دہشت گرد کی شناخت کالعدم تنظیم انصار الشریعہ کے مرکزی کمانڈر عبدالکریم سروش صدیقی کے نام سے ہوئی۔

مزید پڑھیں: کراچی میں پولیس کارروائی، اہلکار جاں بحق، زخمی دہشت گرد فرار

خواجہ اظہار الحسن پر ہونے والے حملے کی ذمہ داری کالعدم تنظیم انصار الشریعہ پاکستان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر قبول کی تھی۔

بعد ازاں خواجہ اظہار پر حملے میں استعمال ہونے والے اسلحے کے فرانزک مشاہدے کے مطابق یہ اسلحہ سائٹ ایریا میں پولیس کلنگ، ڈی ایس پی ٹریفک عزیز آباد کی کلنگ، گلستان جوہر میں دو ایف بی آر سیکیورٹی گارڈز کی کلنگ، نادرن بائے پاس پر پولیس رضا کاروں کی کلنگ اور بہادر آباد میں پولیس موبائل پر فائرنگ کی وارداتوں میں استعمال ہوچکا ہے جن کی ذمہ داری ’انصار الشریعہ‘ نے قبول کی تھی۔