یہ وائرس عالمی سطح پر علاج کی بجائے صحت کے لیے بہت بڑے خطرے کی شکل میں دیکھا جاتا ہے— شٹر اسٹاک فوٹو
یہ وائرس عالمی سطح پر علاج کی بجائے صحت کے لیے بہت بڑے خطرے کی شکل میں دیکھا جاتا ہے— شٹر اسٹاک فوٹو

ایک خطرناک وائرس جو بچوں کے دماغ کو تباہ کن حد تک نقصان پہنچا سکتا ہے، حیران کن طور پر بالغ افراد میں برین کینسر کا علاج ثابت ہوسکتا ہے۔

یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

اب تک یہ وائرس زیکا عالمی سطح پر علاج کی بجائے صحت کے لیے بہت بڑے خطرے کی شکل میں دیکھا جاتا ہے۔

مگر اس نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ اس وائرس کو مخصوص بچوں اور بالغ افراد کے دماغ میں لگ بھگ ناقابل علاج کینسر زدہ خلیات کو ختم کرنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

تحقیق میں چوہوں پر کیے جانے والے تجربات کے دوران زیکا وائرس انجیکٹ کرنے سے بڑھتی ہوئی رسولیاں سکڑ گئیں جبکہ دیگر دماغی خلیات پر کوئی اثر مرتب نہیں ہوا۔

ابھی اس کے انسانوں پر ٹیسٹ تو کافی عرصے تک ہوتے نظر نہیں آرہے مگر ماہرین کا ماننا ہے کہ زیکا وائرس جان لیوا رسولیوں پر قابو پانے کے لیے فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے۔

زیکا سے علاج کا طریقہ کار لیبارٹری میں انسانی خلیات کے نمونوں پر کارآمد ثابت ہوا۔

ویسے برین کینسر کی مختلف اقسام ہیں تاہم بالغ افراد میں Glioblastomas سب سے عام قسم ہوتی ہے اور اس کا علاج بھی بہت مشکل ہوتا ہے۔

یہ بہت تیزی سے پھیلتا ہے اور دماغ میں ہر جگہ پنجے گاڑ لیتا ہے جس کی وجہ سے رسولیوں کو ختم کرنا مشکل ہوجاتا ہے اور طبی مسائل شروع ہوجاتے ہیں۔

ریڈیو تھراپی، کیمو تھراپی اور سرجری بھی کینسر زدہ حصوں کو نکالنے کے لیے اکثر ناکافی ثابت ہوتے ہیں۔

مگر اس نئی تحقیق میں زندہ چوہوں اور عطیہ کردہ انسانی دماغی ٹشوز کے نمونوں پر زیکا تھراپی کینسر زدہ خلیات کے خاتمے کے لیے موثر ثابت ہوئی جو کہ موجودہ طریقہ علاج کی مزاحمت کرتے ہیں۔

ایسا مانا جاتا ہے کہ Glioblastomas اسٹیم سیلز مسلسل بڑھتے اور تقسیم ہوکر نئی رسولیوں کو تشکیل دیتے ہیں چاہے علاج ہی کیوں نہ کرایا جارہا ہو۔

زیکا وائرس دماغ کے اسٹیم سیلز کو نشانہ بناتا ہے اور یہی وجہ ہے بچوں کے دماغ میں صحت مند اسٹیم سیلز کو نقصان پہنچا کر یہ تباہ کن ثابت ہوتا ہے مگر بالغ دماغ میں بہت کم اسٹیم سیلز ہوتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق یہی وجہ ہے کہ یہ وائرس صرف کینسر کے شکار دماغی اسٹیم سیلز کو تباہ کرتا ہے اور کوئی اور نقصان نہیں پہنچاتا۔

واشنگٹن یونیورسٹی اسکول آف میڈیسین اور کیلیفورنیا یونیورسٹی کی اس مشترکہ تحقیق کے نتائج طبی جریدے جرنل آف ایکسپیرمنٹل میڈیسین میں شائع ہوئے۔