کراچی: گھریلو ملازمہ پر تشدد کے الزام پر پولیس نے ڈیفنس کے علاقے سے مالکان کو گرفتار کرلیا۔

پولیس کے مطابق قیوم آباد کی رہائشی 16 سال گھریلو ملازمہ کے مالکان نے گھر سے اشیا چوری کرنے اور ان کی چار سالہ بیٹی پر بُرا اثر ڈالنے کے شبے میں اسے مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا۔

درخشاں تھانے کے ایس ایچ او اورنگزیب خٹک نے دعویٰ کیا کہ ملازمہ کو اس کے مالکان کی جانب سے گرم لوہے سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

واقعے کے بعد ملازمہ کو علاج کے لیے سول ہسپتال کے ’بَرنز یونٹ‘ منتقل کیا گیا، تاہم زنانہ میڈیکو لیگل افسر کی عدم موجودگی کے باعث اس کا طبی معائنہ نہیں ہوسکا۔

سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) جنوب جاوید اکبر ریاض کا کہنا تھا کہ ملازمہ کا طبی معائنہ اب جمعرات کو کیا جائے گا۔

ایڈیشنل پولیس سرجن ڈاکٹر قرار احمد عباسی نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ لڑکی کے چہرے پر جلائے جانے کے نشانات ہیں جبکہ اس کے بال بھی کاٹے گئے ہیں۔

پولیس نے ملازمہ کے والد کی جانب سے پاکستان پینل کوڈ (پی پی سی) کی دفعات 324 اور 337 کے تحت مقدمہ کرائے جانے کے بعد تشدد کرنے والے جوڑے اور دیگر 3 افراد کو گرفتار کرلیا۔

انسپیکٹر جنرل (آئی جی) سندھ اے ڈی خواجہ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ایس ایس پی جاوید اکبر ریاض کو کیس کی تفصیلی تحقیقات پیش کرنے کی ہدایت کردی۔