اسلام آباد: ورکنگ باؤنڈری پر 2 شہریوں کی ہلاکت اور دیگر 3 کے زخمی ہونے پر بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو دفتر خارجہ طلب کرکے شدید احتجاج کیا گیا۔

دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق جنوبی ایشیا اور سارک کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) ڈاکٹر فیصل نے بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر جے پی سنگھ کو دفتر خارجہ طلب کرکے بھارتی فورسز کی اشتعال انگیزی پر احتجاج کیا۔

ڈاکٹر فیصل نے بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو احتجاجی مراسلہ بھی حوالے کیا۔

مراسلے میں کہا گیا کہ شہری آبادی کو جان بوجھ کر نشانہ بنانا قابل مذمت، انسانی وقار اور بین الاقوامی قوانین کے منافی ہے۔

ڈاکٹر فیصل نے بھارت پر زور دیا کہ وہ 2003 کے جنگ بندی معاہدے کی پاسداری کرے اور اپنی فوج کو سیز فائر معاہدے کا احترام کرنے کی ہدایت دے۔

یہ بھی پڑھیں: ایل او سی پر شہری کی ہلاکت:پاکستان کا بھارت سے احتجاج

انہوں نے بھارت پر مزید زور دیا کہ اقوام متحدہ کے مبصر مشن کو سلامتی کونسل کی قراردادوں کی روشنی میں بھارت اور پاکستان میں اپنا کردار ادا کرنے کی اجازت دی جائے۔

مراسلے میں مزید کہا گیا کہ رواں سال اب تک بھارتی افواج 700 سے زائد بار لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کر چکی ہیں۔

بلااشتعال فائرنگ کے نتیجے میں 32 معصوم شہری جان سے ہاتھ دھو بیٹھے اور 110 سے زائد زخمی ہوئے۔

مزید پڑھیں: پاکستان کا بھارت سے جنگ بندی کی خلاف ورزی پر احتجاج

سال 2016 میں بھارت نے 382 بار لائن آف کنٹرول پر سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کی تھی۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز ورکنگ باؤنڈری کے پھکلیاں سیکٹر میں شہری آبادی پر بھارتی فوج کی بلااشتعال فائرنگ اور گولہ باری کے نتیجے میں گاؤں دیورا کے 35 سالہ محمد ظہور اور کاکران گاؤں کی ریشماں بی بی جاں بحق اور دیگر افراد زخمی ہوئے تھے۔