قاہرہ: مصر کی اعلیٰ عدالت نے سابق صدر محمد مرسی کی قطر کے لیے جاسوسی کیس میں عمر قید کی سزا کو برقرار رکھنے کا حکم سنا دیا۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کے مطابق سابق صدر نے وکیل عبدالمنیم عبدالمقصود نے بتایا کہ اعلیٰ عدالت نے غیر قانونی گروپ کی سربراہی کے الزام میں محمد مرسی کو جون 2016 میں پہلی بار سنائے جانے والی عمر قید کی سزا کو برقرار رکھا، تاہم خفیہ دستاویزات چرانے کے الزام میں سنائی گئی 15 سال کی سزا کو ختم کردیا گیا ہے۔

مصر میں عمر قید کی مدت 25 سال ہوتی ہے اور عدالت کے احکامات کے خلاف درخواست دائر نہیں کی جاسکتی۔

مصری حکام کا کہنا تھا کہ عدالت نے ڈاکیومنٹری پروڈیوسر احمد علی عبدو، سرکاری ایئرلائن کے عملے کے رکن محمد عادل کیلانی اور یونیورسٹی میں ٹیچنگ اسسٹنٹ احمد اسمٰعیل تھابت کی سزائے موت کو بھی برقرار رکھا ہے۔

مصر کی ٹرائل کورٹ کی جانب سے ان افراد پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ انہوں نے محمد مرسی کی اسلامی حکومت میں، ان کے اتحادی قطر کو ملک کی خفیہ دستاویزات حوالے کیں۔

تاہم قطر کی جانب سے ان الزامات کی تردید کی گئی تھی۔

واضح رہے کہ حسنی مبارک کے دور اقتدار کے خاتمے کے بعد 2012 میں مصر کے پہلے آزادانہ طور پر منتخب ہونے والے صدر محمد مرسی کو اقتدار کے صرف ایک سال بعد استعفے کے مطالبے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

استعفے کے مطالبے میں شدت آنے اور ملک گیر مظاہروں کے بعد جولائی 2013 میں اس وقت کے آرمی چیف اور مصر کے موجودہ صدر عبد الفتح السیسی نے محمد مرسی کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا۔

مرسی کی جماعت اخوان المسلمون کے خلاف موجودہ فوجی حکومت کی جانب سے کارروائیوں کا سلسلہ اب بھی جاری ہے اور اس جماعت کو بلیک لسٹ کیا جاچکا ہے۔

محمد مرسی کو دسمبر 2012 میں صدارتی محل کے باہر مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان خونی تصادم کے دوسرے مقدمے میں بھی الگ سے 20 سال قید کی سزا سنائی جاچکی ہے۔

سابق صدر کے خلاف جیل توڑنے اور تشدد کے تیسرے مقدمے میں عدالت نے ان کی سزائے موت کو منسوخ کرتے ہوئے ان پر دوبارہ مقدمہ چلانے کا حکم دیا تھا، تاہم ان کے خلاف دوبارہ ٹرائل زیر التوا ہے۔