بورڈ سے تعاون نے کرنے پر خالد لطیف کو شرجیل خان سے سخت سزا سنائی جا سکتی ہے— فوٹو: فائل فوٹو: اے ایف پی
بورڈ سے تعاون نے کرنے پر خالد لطیف کو شرجیل خان سے سخت سزا سنائی جا سکتی ہے— فوٹو: فائل فوٹو: اے ایف پی

پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے اسپاٹ فکسنگ کی تحقیقات کیلئے قائم ٹریبونل خالد لطیف کیس کا فیصلہ بدھ کو سنائے گا۔

پی سی بی زرائع کے مطابق شرجیل خان کی طرح خالد لطیف پر بھی چار سے پانچ الزامات ثابت ہوئے ہیں اور ان پر بھی پانچ سے سات سال کی پابندی کا خدشہ ہے۔

رواں سال پاکستان سپر لیگ کے دوسرے ایڈیشن کے پہلے ہی میچ میں اسپٹ فکسنگ کی باز گشت سنائی دی اور شرجیل خان اور خالد لطیف کو بورڈ نے معطل کردیا تھا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس اصغر حیدر کی سربراہی میں تین رکنی ٹریبونل قائم کیا کس میں سابق وکٹ کیپر وسیم باری اور سابق پی سی بی چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ توقیر ضیا بھی شامل تھے۔

اس کے بعد اینٹی کرپشن یونٹ نے اسپاٹ فکسنگ ملوث ہونے کے جرم میں محمد عرفان، شاہ زیب حسن اور ناصر جمشید کو معطل کردیا تھا۔

محمد عرفان نے اپنی غلطی کا اعتراف کیا اور ان پر مختصر پابندی اور جرمانہ کیا گیا جبکہ شرجیل خان کو پانچ سال کی پابندی کا سامنا ہے۔

ذرائع کے مطابق خالد لطیف کی جانب سے بار بار عدالت میں پٹیشن دائر کرنے اور عدم تعاون پر ان کے خلاف شرجیل خان سے زیادہ سخت سزا لاگو کی جاسکتی ہے۔

کرکٹ بورڈ کے مطابق خالد لطیف کے ساتھ کرپشن کے لیے روابط کیے گئے، جب کہ ان پر پی سی بی کے محکمہ نگرانی کے ضابطوں کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا گیا۔

خالد لطیف اور ان کے وکلا نے ممکنہ پابندی کی صورت میں شرجیل کی طرح فیصلے کو چیلنج کرنے کی تیاری کررکھی ہے۔

خیال رہے کہ خالد لطیف پر پی سی بی کے اینٹی کرپشن ایکٹ 2015 کے تحت الزامات عائد کیے گئے۔

خالد لطیف پر عائد الزامات

خالد لطیف پرآرٹیکل 2.1.1 کے تحت میچ فکسنگ میں ملوث ہونے، کرپشن کے معاملات کو نظر انداز کرنے یا کسی بھی طرح غلط طریقے سے کرپشن کے معاہدے کرنے یا اس حوالے سے اثرانداز ہونے کے الزامات لگائے گئے ہیں، جن کی وجہ سے ڈومیسٹک میچز سمیت دیگر میچز میں جان بوجھ کر غیر تسلی بخش کاکردگی جیسے عوامل رونما ہوئے۔

آرٹیکل 2.1.1 ڈومیسٹک میچز کے دوران کرپشن کے واقعات رونما نہ ہونے کو یقینی بنانے سے متعلق ہے۔

آرٹیکل 2.1.3 کے تحت خالد لطیف پر کسی بھی طرح کی رشوت لینے، قبول کرنے، پیش کش کرنے یا اس کے لیے رضامندی ظاہر کرنے کے الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں۔

خالد لطیف پر آرٹیکل 2.4.4 کی خلاف ورزی کا الزام بھی لگایا گیا، اس آرٹیکل کے تحت کرکٹر پر میچ فکسنگ سے متعلق کسی طرح کی بھی معلومات کرکٹ بورڈ کے محکمہ نگرانی کو نہ بتانے کا الزام لگایا گیا۔

کرکٹر پر آرٹیکل 2.4.5 کی خلاف ورزی کا الزام لگاتے ہوئے کہا گیا کہ خالد لطیف کرپشن یا میچ فکسنگ سے متعلق کسی بھی واقعے کی معلومات پی سی بی کے سیکیورٹی اور محکمہ نگرانی کو بتانے میں ناکام ہوئے،اور یہ عمل کرکٹ بورڈ کے اینٹی کرپشن قوانین کی خلاف ورزی ہے۔