عالمی دہشت گرد تنظیم 'القاعدہ' کی جانب سے 9 ستمبر 2011 کو نیویارک میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملوں کے 16 ویں سال کی یاد میں ایک فوٹو مونٹاج جاری کیا گیا جس میں سابق سربراہ اسامہ بن لادن کا چہرہ دونوں عمارتوں کے درمیان شعلوں سے گھرا ہوا نظر آرہا ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اسی تصویر میں اسامہ بن لادن کے بیٹے حمزہ بن لادن کو دیکھا جا سکتا ہے۔

یہ نوجوان لڑکا اب 28 برس کا ہو چکا ہے اور اپنے والد کے قائم کیے ہوئے پروپیگنڈا نیٹ ورک میں اپنے بچپن کے دنوں سے دکھائی دے رہا ہے۔

تجزیہ کار اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ وہ القاعدہ کی قیادت سنھبالنے اور شام و عراق میں داعش کو ہونے والی شکست کو استعمال کرتے ہوئے عالمی دہشت گردوں کو القاعدہ کے پرچم تلے متحد کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔

مزید پڑھیں: حمزہ بن لادن کا بشار الاسد کے خلاف نئی مسلح لڑائی کا مطالبہ

کومبیٹنگ ٹیرارزم سینٹر (سی ٹی سی) کی جانب سے جاری ہونے والی ایک رپورٹ میں امریکی تحقیقاتی ایجنسی فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی) کے نمائندہ خصوصی اور القاعدہ امور کے ماہر علی سوفان نے لکھا کہ حمزہ بن لادن کی عمر تقریباً 30 برس ہے اور انہیں اپنے والد کی بنائی گئی جماعت میں سربراہ بنانے کے لیے تیار کیا جارہا ہے۔

علی سوفان نے مزید لکھا کہ بن لادن خاندان سے تعلق ہونے کی وجہ سے حمزہ کو اعلیٰ عہدہ دیے جانے کے سلسلے میں حمایت حاصل ہے۔

داعش کی خلافت کے ساتھ جو ممکنہ طور پر اب گرنے والی ہے، حمزہ بن لادن عالمی دہشت گردوں کو متحد کرنے کی جگہ دھونڈ رہے ہیں۔

فتح یا شہادت

اسامہ بن لادن کا تیسری بیوی سے تمام بچوں میں 15ویں نمبر پر موجود بیٹا حمزہ اپنے والد کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے بڑا ہوا ہے۔

ایک آن لائن ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ نیویارک حملے سے قبل افغانستان میں حمزہ نے کس طرح ہتھیاروں کو چلانا سیکھا، اس کے علاوہ ایک ویڈیو میں وہ اپنی باریک آواز میں امریکیوں، یہودیوں اور صلیبیوں کو للکار رہے ہیں۔

امریکی شہر نیویارک میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر اور واشنگٹن میں پینٹاگون آفس پر حملوں کے بعد حمزہ اپنے والد سے علیحدہ ہو گئے تھے جس کے بعد دونوں نے کبھی بھی ایک دوسرے کو نہیں دیکھا۔

یہ بھی پڑھیں: اسامہ بن لادن کا بیٹا دہشت گردوں کی فہرست میں شامل

انہیں ان کے گھر والوں کے ہمراہ جلال آباد پہنچایا گیا، پھر انہیں ایران بھیجا گیا جہاں وہ کئی برس تک نظر بند رہے، تاہم اس وقت حمزہ کا پتہ کسی کو معلوم نہیں ہے۔

پیغام رسانی کے سادہ اور نفیس نظام کے تحت اسامہ بن لادن اور ان کے بیٹے حمزہ بن لادن میں خطوط کے ذریعے رابطہ کیا جاتا تھا، ان میں سے کچھ خطوط ایبٹ آباد کے اُس کمپاؤنڈ سے بھی ملے تھے جہاں امریکی فورسز نے اسامہ بن لادن کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

ان خطوط میں حمزہ نے اپنے والد کو یقین دلایا تھا کہ وہ ایک فولادی شخص بن چکے ہیں اور ’فتح‘ یا ’شہادت‘ کے لیے تیار ہیں۔

جولائی 2009 میں لکھے گئے ایک خط میں انہوں نے اپنے والد سے کہا کہ ’مجاہدین کا نیا لشکر تشکیل دیا گیا جس میں، میں شامل نہیں ہوا، یہ چیز مجھے غمزدہ کر رہی ہے۔‘

مزید پڑھیں: اُسامہ کا بیٹا والد کے قتل کا بدلہ لینے کیلئے پرعزم

حمزہ بن لادن نے 2015 میں اپنے ایک آڈیو پیغام میں اپنے والد کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ’شہید‘ قرار دیا اور اپنے بڑے بھائی خالد کو بھی خراجِ عقیدت پیش کیا جو اپنے والد کا دفاع کرتے ہوئے ایبٹ آباد کے کمپاؤنڈ میں امریکی فوجیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوگیا تھا۔

اپنے ویڈیو پیغام میں حمزہ بن لادن نے پوری دنیا میں موجود دہشت گردوں سے کابل سے بغداد تک، غزہ سے واشنگٹن تک اور لندن، پیرس اور تل ابیب تک حملے کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

حمزہ بن لادن نے ایک سال قبل ’ہم سب اسامہ ہیں‘ کے عنوان سے جاری کردہ اپنی ایک تنقیدی ڈائری میں انتقام کا ارادہ کیا اور دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’اگر تم سوچتے ہوئے کہ ایبٹ آباد میں کیے گئے جرم پر تمھارا حساب نہیں لیا جائے گا تو تم غلطی پر ہو۔‘

حمزہ بن لادن کی ان اپیلوں کے 18 ماہ بعد امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے بین الاقوامی دہشت گردوں کی فہرست میں ان کا نام ڈال کر دہشت گرد حلقوں میں ان کی قابلیت کو مزید تقویت دے دی۔

جیسا باپ، ویسا بیٹا

ایف بی آئی کے نمائندہ خصوصی کا کہنا ہے کہ حمزہ ویسے ہی الفاظ اور جملے دہرا رہے ہیں جو ان کے والد 90 کی دہائی میں دہرایا کرتے تھے۔

انہوں مزید بتایا کہ حمزہ اپنے والد کی طرح دھیمے لہجے اور ہلکی آواز کے ساتھ الفاظ ادا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

علی سوفان کے مطابق شدت پسند تنظیم داعش کے خاتمے کے بعد اب اس تنظیم سے تعلق رکھنے والے دہشت گرد ایک چھتری کی تلاش میں ہیں جس کے سائے میں رہ کر وہ اپنی کارروائیاں کر سکیں اور کئی عوامل یہ بتارہے ہیں کہ حمزہ ان لوگوں کے لیے مؤثر ترین رہنما ہوں گے۔

علی سوفان کے مطابق اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ یہ تنطیم کس طریقے سے اس شخص کا استعمال کر سکتی ہے، تاہم یہ واضح ہے کہ بن لادن خاندان کے اس فرد کا ستارہ بلندیوں پر ہے۔