ایران کے دارالحکومت کو آپ کیسا پائیں گے؟

یہاں کی عرب و فارسی طرزتعمیر کی تاریخی عمارات کے ساتھ ساتھ مہمان نوازی سفر کو زندگی بھر یاد رہنے والا تجربہ بنا دیتی ہے۔
شائع ستمبر 27, 2017 06:28pm

ایران کے حوالے سے کافی عرصے سے عدم اعتماد اور غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں جبکہ یہاں عام طور پر مغربی ممالک سے لوگ سیاحت کے لیے آنا پسند نہیں کرتے۔

مگر اب ایران کو دنیا کے لیے مکمل طور پر کھول دیا گیا ہے، یہاں کی عرب و فارسی طرز تعمیر پر مشتمل تاریخی عمارات اور مہمان نوازی سفر کو زندگی بھر یاد رہنے والا تجربہ بنا دیتی ہے۔

اور ایسا ہی کچھ ان دو یورپی سیاحوں اسٹیو ہانیشک اور ڈیوڈ کے ساتھ بھی ہوا، جو ایران کی خوبصورتی کی کھوج میں اس تاریخی سرزمین پر پہنچے۔

مینار آزادی، تہران

ان دونوں نے تہران میں جس مقام کو سب سے پہلے دیکھا، وہ مینار آزادی تھا، جو ایران کی قومی یادگاروں میں سے ایک ہے۔

ڈیڑھ کروڑ آبادی پر مشتمل ایرانی دارالحکومت کی اس یادگار کی تعمیر 1971 میں اس وقت کے بادشاہ، شاہ رضا شاہ پہلوی نے بادشاہت کے ڈھائی ہزار سال مکمل ہونے پر کروائی تھی، جو کہ شہر کے مغربی داخلی راستے پر واقع ہے جبکہ یہ ثقافتی کمپلیکس کا حصہ ہے، جس کے تہہ خانے میں ایک میوزیم بھی موجود ہے۔

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

45 میٹر اونچے اس ٹاور کو مکمل طور پر سنگ مر مر سے تعمیر کیا گیا ہے، اس کا خوبصورت ڈیزائن آرکیٹیکٹ حسین امانت نے تیار کیا تھا۔

تہران میٹرو ٹرین سروس

فوٹو بشکریہ وکی میڈیا کامنز
فوٹو بشکریہ وکی میڈیا کامنز

تہران کی سیر کرنا ہو تو سب سے آسان اور سستا ذریعہ میٹرو سروس ہی ہے، جو کہ 7 آپریشنل میٹرو لائنز پر مشتمل ہے۔

میٹرو ٹرین کا نظام ترقی یافتہ ممالک جتنا اچھا نہیں تو کچھ زیادہ کم بھی نہیں جبکہ کرایہ بھی بہت کم ہے یعنی صرف 10 سینٹ ہے۔

گلستان محل

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

تہران کا ایک اور اہم مقام گلستان محل ہے، یعنی پھولوں کا محل، کیونکہ اس کے اندر کئی انتہائی خوبصورت باغات موجود ہیں۔

یہ لگ بھگ 200 سال پرانی لیکن ایک یادگار عمارت ہے، جس کی خوبصورتی اب بھی لوگوں کو مسحور کردیتی ہے ۔

خیابان تیر 30

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

یہ ایران کے دارالحکومت کی چند پرانی اور تاریخی جگہوں میں سے ایک ہے، جو اب سیاحوں کی توجہ کا مرکز بن چکا ہے جس کی وجہ یہاں کی جانے والی تبدیلیاں اور تزئین نو ہے۔

انقلاب ایران سے قبل اس جگہ کا نام کچھ اور تھا، مگر 1979 کے انقلاب بعد اس کا نام تبدیل کیا گیا، اسے ایرانی کیلنڈر کے سال 1331 کے چوتھے مہینے تیر کی 30 تاریخ (21 جولائی 1952) کو ایرانی بادشاہ کے خلاف عوامی احتجاج پر خیابان تیر 30 نام دیا گیا۔

یہاں گاڑیوں میں چھوٹے چھوٹے کیفے اور کھانے پینے کے کافی مقامات موجود ہیں، جبکہ تہران کا ایک مشہور آبگینہ میوزیم بھی اسی مقام پر قائم ہے۔

گرینڈ بازار

ایرانی دارالحکومت جائیں اور وہاں 11 کلومیٹر سے زائد رقبے پر پھیلے اس بازار کو نہ دیکھیں یہ تو ممکن ہی نہیں۔

بھول بھلیوں جیسا یہ بازار سیاحوں کے لیے بہت کشش رکھتا ہے، کیونکہ نہ صرف سستی خریداری بلکہ اور بھی دیگر دلچسپ تجربات کا سامنا ہوتا ہے۔

تہران کی چھت

تہران کی چھت یا بام تہران اس شہر کے نظارے کے لیے بہترین پہاڑی مقام ہے جو کہ توچال نامی پہاڑ پر واقع ہے۔

توچال پر بامِ تہران سے ایران کے دارالحکومت کے نظارے کے ساتھ پہاڑی مقام کی خوشگوار ہوا کے ساتھ کئی خوش کُن مناظر دیکھنے والوں کو دنگ کر دیتے ہیں، اس کے علاوہ متعدد ریسٹورنٹس، کیفے اور فاسٹ فوڈ کے مراکز بھی یہاں سیاحوں کی تواضع کے لیے موجود ہیں۔

یہاں سے سیاح توچال کے ایک ٹریک سے سلائیڈ کے ذریعے اترنے کا دلچسپ تجربہ بھی کرسکتے ہیں۔

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو


یہ تحریر ڈوئچے ویلے (ڈی ڈبلیو) کے اشتراک سے تحریر کی گئی