حماس نے فلسطینی صدر محمود عباس کو غزہ کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے اپنے عہدیدار بھیجنے کی دعوت دے دی۔

حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ نے اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا گروپ فلسطین کی مغربی پٹی کے رہنما کو حکومت دینے کے لیے سنجیدہ ہے اور وہ عملی اقدامات کے ساتھ جواب دیں۔

خیال رہے کہ حماس اور الفتح کے درمیان دس برس اختلافات کے بعد علیحدگی ہوئی تھی جس کے بعد حماس کی حکومت غزہ کی پٹی تک محدود ہوگئی تھی جبکہ مغربی پٹی میں محمود عباس کی صدارت میں حکومت تھی۔

حماس کو غزہ میں اسرائیل اور مصر کی جانب سے کئی برسوں سے رکاوٹوں کے باعث مالی اور سیاسی مسائل کا سامنا ہے۔

غزہ میں حالیہ مہینوں میں حکومت کرنے والی کمیٹی کو برطرف کرنا محمود عباس کا بنیادی مطالبہ تھا۔

اطلاعات کے مطابق وہ حکومت کے تمام عہدے محمود عباس کو حوالے کرنے اور غزہ اور ویسٹ بینک میں انتخابات کرانے کے لیے تیار ہیں۔

مصر کی مصالحت کے نتیجے میں حماس کی جانب سے دی جانے والی دعوت پر الفتح تحریک کے سربراہ محمود عباس کی جانب سے خرمقدم کیا گیا تھا۔

دو روز قبل سرکاری ایجنسی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ حماس کی جانب سے حکومت منتقل کرنے ، اسرائیل اور مصر کی سرحد کے حوالےسے اب بھی مزید وضاحت کی ضرورت ہے۔

یاد رہے کہ حماس اور فتح 2014 میں بھی انتظامی سطح پر قومی مفاہمت پر متفق ہوگئے تھے لیکن تفصیلات پر یکسو نہ ہو سکے تھے۔

حماس کی 2006 کے انتخابات میں کامیابی کے بعد ایک متفقہ حکومت بنائی گئی تھی جو مختصر وقت تک برقرار رہی تھی جبکہ حماس کو دباؤ میں لانے کے لیے محمود عباس نے اسرائیل کو بجلی کے واجبات کی ادائیگی روک دی تھی جس کے بعد روزانہ چار سے چھ گھنٹے بجلی کی بندش ہوتی تھی۔

مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں دونوں جانب سے اس حوالے سے مذاکرات کیے گئے جس کے بعد دونوں اطراف کے رہنماؤں نے امید ظاہر کی ہے کہ ان اقدامات سے فلسطین میں اتحاد ممکن ہوگا۔