ای میل

ٹنڈو فضل، جہاں کبھی علم کا فضل برستا تھا

ابوبکر شیخ

بے وفا زندگی کی اس لازوال دھرتی پر سب سے بڑا سچ یہ ہے کہ، علم کے جلتے دیپ کی روشنی کو زوال کے اندھیرے کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی، سچ کو فطرت ہمیشہ دوام بخشتی ہے اور علم سچ اور روشنی کا دوسرا نام ہے۔

کبھی اپنی مصروف زندگی میں سے کُچھ پل نکال کر ٹھہریے اور سُکون سے ماضی کی پگڈنڈیوں کو دیکھیں کہ ان راہوں میں سے کتنے سچ اور علم کے قافلے گُزرے، ہم ان قافلوں کی وجہ سے ہی ہیں اور ان کے دوام کی وجہ سے ہی تہذیب کے ہرے بھرے آنگنوں کی ٹھنڈی چھاؤں میں جیتے ہیں، یہ چھاؤں بڑی تگ و دو کے بعد ملی ہے۔

دھوپ کافی تیز تھی اور روشنی آنکھوں میں چُندھیا رہی تھی۔ مگر شمال سے آتی ٹھنڈی ہواؤں کی وجہ سے ماحول میں کچھ فرحت کا احساس موجود تھا۔ میں ایک ٹیلے پر بنی ہوئی مسجد کے آنگن میں کھڑا تھا۔ میرے سامنے ایک وسیع منظر تھا۔ کچھ مقبرے تھے پھر اپنی شناخت کھوتی گلیاں تھیں، پُرانے محلات، حویلیوں اور گھروں کی خستہ حال دیواریں تھیں۔

آنگن تھے مگر خستہ حال، ان میں نہ کوئی نیم کا درخت تھا اور نہ کوئی منڈیر کہ جس پر بیٹھ کر کوا مہمان کے آنے کی خبر دیتا۔ پھر ان سے آگے چٹیل میدان ہے اور اس سے آگے ایک وسیع مدرسہ نظر آتا ہے، جہاں کسی زمانے میں سینکڑوں طالبعلم تعلیم حاصل کرتے تھے، وہاں اب موسموں کی ٹھنڈی اور گرم ہوائیں چلتی ہیں اور ایک ٹھنڈی خاموشی بسیرا کرتی ہے۔

ٹنڈو فضل میں بکھرے آثار قدیمہ —تصویر ابوبکر شیخ
ٹنڈو فضل میں بکھرے آثار قدیمہ —تصویر ابوبکر شیخ

ٹنڈو فضل میں بکھرے آثار قدیمہ—تصویر ابوبکر شیخ
ٹنڈو فضل میں بکھرے آثار قدیمہ—تصویر ابوبکر شیخ

آپ اگر حیدرآباد سے شیخ بھرکیو روڈ پر آئیں تو وہاں سے ایک لنک روڈ نکلتا ہے جو آپ کو ان تاریخی آثار تک لے آتا ہے، ان آثار قدیمہ کو مختلف ناموں سے پُکارا جاتا ہے، جیسے ’ٹنڈو فضل‘، ’ہنگورانی ماڑیوں‘ اور ’دھورا ہنگورا‘۔

’تحفتہ الکرام‘ کے مصنف میر علی شیر قانع رقم طراز ہیں، "یہ مشہور قصبہ ہے جہاں مٹیاری کے سادات کے کئی خاندان آباد ہیں۔ یہاں کے سید ہارون، سید شیر یزدان، سید الہیار، درویش ذکریا مشہور عالم اور بُزرگ ہیں۔" مگر میں حیران ہوں کہ ماضی کے کئی مؤرخین کی آنکھوں سے یہ اہم تاریخی قصبہ اوجھل کیسے رہا۔ انگریز نے اپنے حیدرآباد کے گزیٹیئر میں صرف اتنا لکھا کہ "ٹنڈو فضل، جسے ہنگورانی ماڑیوں بھی کہتے ہیں، اُن کے آثار ایک بیتے دور کی ایک اچھی یادگار ہیں جن کو مدد خان نے برباد کیا۔"

میں جنوبی سندھ کے جن آثارِ قدیمہ کے مقامات پر گیا ہوں، وہاں مُجھے مدد خان کی وحشت کی کہانیاں سُننے کو ملی ہیں۔ میں نے ٹنڈو فضل کے قرب و جوار میں آباد بستیوں کے باسیوں کے ساتھ کیکر یا پیلو کے گھنے درختوں کے نیچے بیٹھ کر کافی باتیں کیں، وہ مدد خان کی وحشتون سے زیادہ آشنا نہیں تھے مگر وہ یہ جملہ ضرور کہتے ہیں، "جڈھں کڈھں سندھڑی، توکھی قندھارؤں جوکھو" (سندھ کو ہر وقت قندھار سے نقصان پہنچے گا) اس کہاوت کی بنیاد یہ بھی ہو سکتی ہے کہ سندھ پر اکثر حملے افغانستان کی طرف سے ہوئے ہیں۔

18 ویں صدی نہ مغل سلطنت کے لیے بہتر ثابت ہوئی اور نہ سندھ کے کلہوڑا حکمرانوں کے لیے۔ محمد شاہ رنگیلے کے دنوں میں مُغل سلطنت بکھرنے لگی، نادر شاہ افشار جو 1736 سے 1747 تک ایران کا بادشاہ رہا اور افشار خاندان کی حکومت کا بانی تھا، وہ ایک طوفان کی طرح اُٹھا، کابل اور پنجاب کو لوٹتا، کرنال کی جنگ میں، مغلیہ لشکر کو شکست دے کر دہلی پہنچا جہاں لوٹ مار اور قتل و غارت گری کے بعد محمد شاہ رنگیلے سے عہدنامہ کرنے کے بعد کابل لوٹا۔

آخرکار 1747 میں اس کے محافظ دستے کے سپاہیوں نے اسے اس کے خیمے میں سوتے ہوئے قتل کر دیا۔ سیاسی طور پر یہ افراتفری کا زمانہ تھا جس میں حق و باطل کا فرق کسی بادشاہ کے کیے گئے شیریں واعدے کی ڈلی کی طرح گُھل گیا۔ جس کے پاس جتنی زیادہ طاقت تھی اور وہ لُوٹ کھسوٹ کر سکتا تھا اُس نے ’حق‘ کا جھوٹا لبادہ اوڑھ لیا اور جو تعداد میں کم اور کمزور تھا وہ ’ناحق‘ بن گیا۔

اب ڈھائی سو برس پہلے کے منظرنامے کو دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں، جب سندھ پر کلہوڑوں کی حکمرانی تھی اور ان ہی کے دورِ حکومت میں سردار مدد خان پٹھان کو افغانستان سے یہاں بربادی کے لیے بُلایا گیا۔ تاریخ کے اوراق بتاتے ہیں، "کلہوڑا دور کی تنزلی میاں محمد سرفراز خان کی تخت نشینی (1772) کے ساتھ شروع ہو چُکی تھی۔ کیونکہ میاں کا دربار سازشیں بُننے کا مرکز بن چکا تھا، آپس کی چپقلشوں نے ان کو خانہ جنگی کی دلدل کی طرف دھکیل دیا۔ وفادار سردار اور سپہ سلار بدگُمانی اور بے بسی کی وجہ سے جنگ کے لیے آمادہ ہوئے اور اپنے آقاؤں کا خود ہی خاتمہ کیا۔

میاں غُلام نبی خان، لانیاری جنگ (1776) میں مارا گیا۔ تالپوروں کے سردار میر بجار خان تالپور کی مرضی تھی کہ، خاندانی خانہ جنگی ختم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ، میاں سرفراز جو حیدرآباد کے قلعے میں قید ہیں، اُن کو پھر سے تخت و تاج دیا جائے۔ مگر میاں غلام نبی کے قتل کی خبر سُن کر اُس کا بھائی میاں عبدالنبی دیوانہ وار تلوار لے کر حیدرآباد کے قلعے جا پہنچا اور تخت نشین کلہوڑا شہزادوں کو قتل کردیا جن میں میاں سرفراز خان بھی شامل تھے، اسی طرح میاں عبدالنبی تخت و تاج کے مالک بنے۔

ٹنڈو فضل میں واقع حویلیوں اور گھروں کے آثار قدیمہ—تصویر ابوبکر شیخ
ٹنڈو فضل میں واقع حویلیوں اور گھروں کے آثار قدیمہ—تصویر ابوبکر شیخ

ٹنڈو فضل میں واقع حویلیوں اور گھروں کے آثار قدیمہ—تصویر ابوبکر شیخ
ٹنڈو فضل میں واقع حویلیوں اور گھروں کے آثار قدیمہ—تصویر ابوبکر شیخ

ٹنڈو فضل میں واقع حویلیوں اور گھروں کے آثار قدیمہ—تصویر ابوبکر شیخ
ٹنڈو فضل میں واقع حویلیوں اور گھروں کے آثار قدیمہ—تصویر ابوبکر شیخ

ٹنڈو فضل میں واقع دیائے سندھ کا قدیم بہاؤ جبکہ پس منظر میں مسجد (شمالی) اور مدرسہ کے آثار نظر آ رہے ہیں—تصویر ابوبکر شیخ
ٹنڈو فضل میں واقع دیائے سندھ کا قدیم بہاؤ جبکہ پس منظر میں مسجد (شمالی) اور مدرسہ کے آثار نظر آ رہے ہیں—تصویر ابوبکر شیخ

یہاں کچھ پل رُکتے ہیں۔ ہم جو برسوں کا قصہ کچھ لمحوں بھر میں بیان کر گئے، وہ شب و روز، صبح و شام اور پھر پہروں میں گُزرا ہوگا۔ میاں عبدالنبی کی وحشت کا سُکون اُس سُرخ خون میں تھا جس کو اُس نے بہایا۔ یہ جنگ کا میدان نہیں تھا جہاں انسان ذہنی طور پر مرنے مارنے کے لیے تیار ہوتا ہے۔ قید میں پڑے ہوئے بے بس اور لاچار انسان کا خُون بہانا ایک قبیح عمل ہے۔

ہوسکتا ہے تخت و تاج کی حاصلات کے سحر میں جکڑے ہوئے میاں عبدالنبی کو اس خون نے اُس وقت سکُون دیا ہو۔ مگر یہ سُرخ گاڑھا رنگ کوئی محبوب کا آنچل نہیں تھا جو تیز دھوپ سے تاحیات بچاتا رہے۔ یہ ٹھنڈا خون جو بہاتا ہے، وقت اُس بہانے والے کے دل و دماغ سے سُکھ اور سُکون کی ہریالی چھین لیتا ہے اور پھر وہاں اُگ آتی ہے پیلی آکاس بیل جو نہ چھاؤں دیتی ہے اور نہ کوئی سُکون کا میوہ۔

میاں عبدالنبی کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔ تاریخ کے اوراق لکھتے ہیں، "میاں عبدالنبی کا دل حسد اور کینہ پروری سے بھرپور تھا، وہ حد درجے کا خود غرض اور مطلبی تھا، اس کے ہاتھ پہلے ہی اپنوں کے خُون سے رنگے ہوئے تھے، اس سخت دل حاکم کو اپنی رعیت کی ذرا برابر بھی پرواہ نہیں تھی۔"

عبدالنبی نے میر بجار خان تالپور کو بھی قتل کروادیا جس نے میروں اور کلہوڑوں کی آپس میں چپقلش کو کم کروانا چاہا بلکہ میر بجار نے تو، عبدالنبی کو تخت پر بٹھانے کے لیے اُس کی سیاسی مدد بھی کی تھی۔ میر بجار کے قتل کے بعد عبدالنبی تخت و تاج چھوڑ کر قلات بھاگ گیا اور اپنے بیٹوں کو جودھپور بھیج دیا۔ یہاں سب نے مل کر سندھ کے تخت پر میاں صادق علی کلہوڑو کو بٹھا دیا۔

عبدالنبی کو پھر تخت کی یاد آئی اس لیے وہ اپنے دوست جودھپور کے راجا ’بجیسنگ‘ کے پاس گیا جس نے سندھ پر حملہ کیا مگر منہ کی کھائی، مگر ان ناکامیوں سے بھی یہ کُچھ نہ سیکھا آخر قلات سے ہوتا ہوا وہ افغانستان میں ’تیموُر شاہ دُرانی‘ کے پاس پہنچا اور پاؤں پر گر کر اپنا تخت واپس دلوانے کے لیے التجا کی۔ آخر امیر تیمور نے، پیسوں کی لین دین کی بات کر کے، اپنے فوجی سپہ سالار مدد خان پٹھان کو ایک بڑی فوج کے ہمراہ سندھ پر حملہ کرنے کے لیے بھیج دیا۔

آثار قدیمہ کے جنوب میں، ٹیلے پر بنی ایک قدیم مسجد—تصویر ابوبکر شیخ
آثار قدیمہ کے جنوب میں، ٹیلے پر بنی ایک قدیم مسجد—تصویر ابوبکر شیخ

آثار قدیمہ کے جنوب میں واقع قدیم مسجد—تصویر ابوبکر شیخ
آثار قدیمہ کے جنوب میں واقع قدیم مسجد—تصویر ابوبکر شیخ

آثار قدیمہ کے جنوب میں واقع قدیم مسجد—تصویر ابوبکر شیخ
آثار قدیمہ کے جنوب میں واقع قدیم مسجد—تصویر ابوبکر شیخ

ٹنڈو فضل میں واقع کسی بزرگ کی درگاہ—تصویر ابوبکر شیخ
ٹنڈو فضل میں واقع کسی بزرگ کی درگاہ—تصویر ابوبکر شیخ

چلیے ماضی سے لوٹ کر ایک بار پھر موجود ٹنڈو فضل کا ذکر کرتے ہیں، یہاں دو بڑی شاندار مساجد ہیں جن کی تعمیر 18 ویں صدی کے بلکل بیچ میں ہوئی ہوگی کیونکہ ان دونوں مساجد کی طرزِ تعمیر کلہوڑا دور کی ہے۔ ایک مسجد ان آثار کے جنوب میں واقع ہے جبکہ ایک ٹیلے پر بنی ہوئی ہے، وہ مسجد بھی کافی اچھی حالت میں موجود ہے۔ اگر کوئی ادارہ اس مسجد کی ذمہ داری سنبھالے تو یہ اتنی اچھی حالت میں ہے کہ اس میں نماز بھی ادا ہو سکتی ہے۔

اس مسجد کے آنگن سے آپ اگر شمال کی طرف دیکھتے ہیں تو ایک وسیع اراضی میں کسی بستی کے بکھرے ہوئے آثار دکھائی دیں گے۔ جنوب میں مسجد جس ٹیلے پر بنائی گئی ہے وہ پرانی گری ہوئی عمارتوں کے ملبے پر بنائی گئی ہے، جو ہوسکتا ہے کسی زلزلے کی وجہ سے منہدم ہو گئی ہوں اور پھر ان آثار پر ٹنڈو فضل کی بستی کو آباد کیا گیا ہو۔ چونکہ اس بستی کے مشرق میں ’لُہانو‘ کے نام سے دریائے سندھ کا قدیم بہاؤ بہتا تھا، اگر یہ بستی اُس بہاؤ پر آباد تھی تو پھر اس کی قدامت پر زیادہ کام کرنے کی شدید ضرورت ہے۔

جنوب میں بنی ہوئی مسجد سے نیچے اُتر کر، آپ شمال کی طرف چلنا شروع کریں تو پیلو کے درخت نظر آتے ہیں جو پرانی اینٹوں کی گری ہوئی دیواروں میں سے اُگ آئے ہیں۔ دیواریں ادھر اُدھر گرنے سے گلیوں کی نشاندہی میں کافی مشکل پیش آتی ہے، پھر آگے کسی بُزرگ کی درگاہ ہے اور درگاہ کے مغرب میں کُشادہ راستہ ہے اور راستے کے مغرب میں وہ ماڑیاں ہیں جن کے متعلق کہا جاتا ہے کہ یہ مٹیاری سیدوں کی ہیں۔

آثار قدیمہ کے شمال میں واقع مسجد اور مدرسہ—تصویر ابوبکر شیخ
آثار قدیمہ کے شمال میں واقع مسجد اور مدرسہ—تصویر ابوبکر شیخ

آثار قدیمہ کے شمال میں واقع مسجد اور مدرسہ—تصویر ابوبکر شیخ
آثار قدیمہ کے شمال میں واقع مسجد اور مدرسہ—تصویر ابوبکر شیخ

شمالی مسجد میں داخل ہونے کا گنبدی دروازہ—تصویر ابوبکر شیخ
شمالی مسجد میں داخل ہونے کا گنبدی دروازہ—تصویر ابوبکر شیخ

اپنے زمانے میں یہ دومنزلہ عمارتیں انتہائی شاندار اور خوبصورت رہی ہوں گی۔ اینٹوں کی اتنی صاف سُتھری اور خوبصورت چُنائی کم ہی نظر آتی ہے، اور ساتھ میں اینٹوں کی بناوٹ بھی دیگر عمارتوں سے کافی مختلف ہے، پھر آگے ایک میدان ہے، دراصل یہ میدان نہیں بلکہ دریا کا قدیم بہاؤ ہے جو اس بستی کو دو حصوں میں تقسیم کرتا ہے اور یہ بہاؤ اس بستی میں یقیناً خوبصورتی کا باعث رہا ہوگا۔

اس میدان (بہاؤ) کو پار کر کے آپ اُس عظیم الشان مسجد اور مدرسے میں داخل ہو جاتے ہیں جس کی شان و شوکت دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ آپ اندازہ کریں کہ دو سو برس سے یہ شاندار عُمارت یہاں کھڑی اترا رہی ہے، جب بن کر تیار ہوئی ہوگی تب اس کی کیا شان ہو گی۔ نہ جانے کتنے طالبعلم یہاں آئے ہوں گے۔

مسجد کے شمال میں ایک زینہ بنا ہوا ہے جس پر چڑھ کر آپ مسجد کی چھت پر پہنچ سکتے ہیں۔ اس مسجد کو بڑی ہی محبت اور مضبوطی کے ساتھ بنایا گیا ہے۔

میں نے مسجد کے تحفظ کے لیے جڑواں گنبد بہت ہی کم دیکھے ہیں، لیکن اس مسجد میں یہ جڑواں گبند نظر آئے، پہلا تو بالائی گنبد ہے اور دوسرا اس کے بالکل نیچے بنا ہوا ہے، یہ جڑواں گنبد فقط مضبوطی اور تحفظ کے لیے نہیں بلکہ گرم دنوں میں ان گنبدوں کے بیچ میں ہوا کی گزرگاہ کا انتظام بھی کیا گیا ہے، اسی وجہ سے مسجد کافی ٹھنڈی رہتی ہے۔ مسجد سے نیچے اگر آپ مدرسہ کا وسیع آنگن ہے، جہاں کھڑے ہو کر آپ دور دور تک پھیلے نظارے بھی دیکھ سکتے ہیں۔

مسجد کے شمال میں ایک زینہ بنا ہوا ہے جس پر چڑھ کر آپ مسجد کی چھت پر پہنچ سکتے ہیں—تصویر ابوبکر شیخ
مسجد کے شمال میں ایک زینہ بنا ہوا ہے جس پر چڑھ کر آپ مسجد کی چھت پر پہنچ سکتے ہیں—تصویر ابوبکر شیخ

مسجد میں بنے ہوئے جڑواں گنبد —تصویر ابوبکر شیخ
مسجد میں بنے ہوئے جڑواں گنبد —تصویر ابوبکر شیخ

افسوس کہ ایک وسیع اراضی پر پھیلے ان آثار قدیمہ کو وقت کی بے رحمی نگل رہی ہے۔ میں 1988 میں یہاں پہلی بار آیا تھا تب مسجد کے مغرب میں بھی اس بستی کے آثار موجود تھے اور دُور تک پھیلے نظر آتے تھے مگر اب وہاں گنے کے کھیت ہیں، اور وہ بھی دُور دُور تک پھیلے ہوئے ہیں۔

مشرق میں بھی ایک ویرانہ تھا اور اب وہاں بھی فصلوں کی ہریالی لہراتی ہے۔ خوراک اُگانا یقیناً اچھی بات ہے مگر یہ کیسی خوراک ہے جو آثارقدیمہ کو اپنی خوراک بناتی جا رہی ہے؟


ابوبکر شیخ آرکیولاجی اور ماحولیات پر لکھتے ہیں۔ انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر کے لیے فوٹوگرافی اور ریسرچ اسٹڈیز بھی کر چکے ہیں۔

ان کا ای میل ایڈریس [email protected] ہے۔


ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔