فلم کو رواں ماہ 22 ستمبر کو ریلیز کیا گیا تھا—اسکرین شاٹ
فلم کو رواں ماہ 22 ستمبر کو ریلیز کیا گیا تھا—اسکرین شاٹ

رواں ماہ 22 ستمبر کو ریلیز ہونے والی بولی وڈ فلم ’نیو ٹن‘ کو بھارت کی جانب سے آسکر ایوارڈ کے لیے منتخب کیا گیا تھا، لیکن خبریں ہیں کہ یہ فلم بھی کاپی نکلی۔

’نیو ٹن‘ میں مرکزی کردار راج کمار راؤ نے ادا کیا ہے، جن کی فلم پہلی بار آسکر کے لیے بھارت کی جانب سے نامزد کی گئی تھی۔

فلم کی کہانی بھارتی ریاست چھتیس گڑھ میں ماؤ نواز باغیوں کے علاقے میں فیئر اینڈ فری انتخابات کے انعقاد کے ارد گرد گھومتی ہے۔

تشدد اور خانہ جنگی کے شکار علاقے میں منصفانہ انتخابات کرانے کے لیے راج کمار راؤ کو اس علاقے میں حکومت کی طرف سے بھیجا جاتا ہے۔

راج کمار راؤ اس میں ’نیو ٹن‘ نامی سرکاری کلرک کا کردار ادا کر رہے ہیں، جو منصفانہ انتخابات کے لیے چھتیس گڑھ پہنچتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: آسکرمیں نامزدگی کے لیے بولی وڈ فلم ’نیو ٹن‘ کا انتخاب

فیڈریشن فلم آف انڈیا (ایف ایف آئی) کی جانب سے ’ نیو ٹن‘ کو 2 دن قبل 22 ستمبر کو آسکر ایوارڈ کے لیے ہندوستان کی جانب سے نامزد کیا گیا تھا۔

لیکن فلم کو ایوارڈ کے لیے منتخب کرنے کے اگلے ہی روز یہ خبر سامنے آئی کہ ’نیو ٹن‘ ایرانی فلم ’سیکریٹ بیلٹ‘ کی کاپی ہے۔

ایرانی فلم ’سیکریٹ بیلٹ‘ کی کہانی بھی تشدد زدہ علاقے میں ایک سرکاری کلرک کی جانب سے منصفانہ انتخابات کرانے کی ذمہ داری کے ارد گرد گھومتی ہے۔

تاہم ’نیو ٹن‘ کی ٹیم نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بولی وڈ فلم کسی مووی سے متاثر ہوکر نہیں بنائی گئی۔

ڈی این اے انڈیا کے مطابق فلم کے ہدایت کار امت مسور کار نے فلم کی کاپی ہونے سے متعلق تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’نیو ٹن‘ فلم کو متعدد عالمی فلم فیسٹیول میں نمائش کے لیے پیش کیا گیا، اگر وہ کاپی ہوتی تو کوئی نہ کوئی اس کی نشاندہی کرتا۔

امت مسور کار کا کہنا تھا کہ انہوں نے ایرانی فلم پہلے کبھی نہیں دیکھی، لیکن ان کی فلم کی کاپی ہونے کی خبریں آنے کے بعد انہوں نے ایرانی فلم کے کچھ حصے دیکھے۔

مزید پڑھیں: راج کمار، کم معاوضہ اور ایشوریا رائے کی فلم

امت مسور کار نے دلیل دی کہ اگر ان کی فلم کاپی ہوتی تو عالمی فلم فیسٹیول میں ایوارڈ نہ جیت پاتی، ان کا کہنا تھا کہ یہ الزامات اس وقت سامنے آئے جب فلم کو بھارت میں ریلیز کیا گیا۔

دوسری جانب بھارتی فلموں کو آسکر کے لیے نامزد کرنے والے ادارے ایف ایف آئی کا کہنا ہے کہ فلم کی کاپی ہونے سے متعلق کوئی واضح پالیسی نہیں ہے، اور متعدد فلمیں ایک دوسرے سے متاثر ہوکر بنائی جاتی ہیں۔

ایف ایف آئی کے مطابق اصول کے تحت وہ فلم آسکر کے لیے منتخب ہوتی ہے جو 30 ستمبر 2017 کو پہلے ریلیز ہو۔