کراچی کے علاقے شارع فیصل میں واقع ایک اپارٹمنٹ سے نابالغ گھریلو ملازم کی لاش برآمد ہوئی۔

پولیس کے مطابق 16 سالہ ثناء اللہ مرتضیٰ کی لاش شارع فیصل پر قائم سی بریز پلازہ کی اٹھارویں منزل پر موجود ایک اپارٹمنٹ سے ملی، جس کی لاش چھت سے منسلک پنکھے سے لٹکی ہوئی تھی۔

صدر ایس ایچ او پیر صابر حیدر کا کہنا تھا کہ ’مذکورہ اپارٹمنٹ ایک سینئر وکیل صلاح الدین گنڈاپور کی ملکیت ہے‘۔

مزید پڑھیں: کراچی: ملازمہ کی گھر سے پھندا لگی لاش برآمد

سب انسپکٹر طاہر مشتاق کا کہنا تھا کہ بظاہر یہ کیس خود کشی کا معلوم ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ثناء اللہ مرتضیٰ اپنے آبائی گاؤں ڈیرہ اسماعیل خان واپس جانا چاہتا تھا تاہم اس کے والدین اس پر کراچی میں قیام پر زور دے رہے تھے۔

مقتول کے ایک عزیز کے حوالے سے پولیس نے بتایا کہ انہوں نے اس کے والدین سے فون پر رابطہ کیا تھا اور بتایا کہ وہ خودکشی کرنے جارہا ہے، تاہم اس کے والدین نے اس دھمکی کو سنجیدہ نہیں لیا۔

یہ بھی پڑھیں: 12 سالہ گھریلو ملازمہ کے 'گینگ ریپ' میں ملوث 2 ملزمان گرفتار

بعد ازاں پولیس نے لاش جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر منتقل کی، جہاں ہسپتال کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر سیمی جمالی نے بتایا کہ ایک نابالغ لڑکے کی لاش جناح ہسپتال منتقل کی گئی ہے جس کا پوسٹ مارٹم کیا جارہا ہے۔

پولیس کا کہنا تھا کہ لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا تھا تاکہ ملازم کے موت کی وجہ معلوم کی جاسکے۔


یہ رپورٹ 25 ستمبر 2017 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی