کشمیر:بھارتی فورسز کا جیش محمد کے’مطلوب‘کمانڈر کی ہلاکت کا دعویٰ

اپ ڈیٹ 10 اکتوبر 2017

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز نے مشتبہ جھڑپ میں عسکریت پسند گروپ جیش محمد کے اہم کمانڈر کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کے مطابق بھارتی فورسز کا کہنا تھا کہ خالد نامی مشتبہ عسکریت پسند، وادی کے شمالی گاؤں لاڈورا میں موجود پولیس چیک پوائنٹ پر دستی بم پھینکے کے بعد ایک گھر میں چھپا ہوا تھا۔

خالد پر مقبوضہ کشمیر میں متعدد خودکش حملوں میں ملوث ہونے کا الزام تھا۔

کشمیر پولیس نے انسپیکٹر جنرل منیر احمد خان نے بتایا کہ ’خالد انتہائی مطلوب عسکریت پسند اور جیش محمد کا چیف آپریشنل کمانڈر تھا۔‘

انہوں نے کہا کہ ’عسکریت پسند نے پولیس چیک پوائنٹ پر دستی بم پھینکا جو پھٹ نہ سکا، پھر اس نے پستول سے فائرنگ کی اور پھر قریبی گھر میں پناہ لی جہاں اسے ہلاک کیا گیا۔‘

پولیس نے دعویٰ کیا کہ خالد نے وادی میں خودکش حملوں کا منصوبہ بنا رکھا تھا، جن میں سے ایک 3 اکتوبر کو سری نگر ایئرپورٹ کے قریب پیراملٹری کیمپ پر کیا گیا جس کے نتیجے میں ایک بھارتی فوجی ہلاک جبکہ 3 حملہ آور مارے گئے تھے۔

اگست میں جیش محمد کی جانب سے وادی کے جنوبی قصبے پلوامہ میں پولیس اڈے پر حملہ کیا گیا تھا جس میں 8 سیکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے۔

دو روز تک جاری رہنے والے فائرنگ کے تبادلے میں 3 حملہ آور بھی مارے گئے تھے۔

واضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں تقریباً 5 لاکھ فوجی اہلکار تعینات ہیں جنہوں نے علیحدگی پسندوں کے خلاف رواں سال آپریشن ’آل آؤٹ‘ کا آغاز کیا۔

پولیس کے مطابق آپریشن میں اب تک 160 علیحدگی پسند اور 59 سیکیورٹی اہلکار ہلاک ہوچکے ہیں۔

تبصرے (0) بند ہیں