اسلام آباد: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے دبئی ریئل اسٹیٹ میں پاکستانیوں کی 8 ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کی نشاندہی کے بعد وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو تحقیقات کا حکم دے دیا۔

چیئرمین ایف بی آر نے قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ دبئی ریئل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری کرنے والے پاکستانیوں کی معلومات حاصل کرنے کے لیے دبئی اتھارٹی کو خطوط لکھے گئے تاہم ان کی جانب سے اب تک جواب موصول نہیں ہوا۔

ایف بی آر حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے ساتھ معاہدے کے تحت کمپنی کسی فرد کے نام پر رجسٹرڈ ہو تو اسی صورت میں معلومات حاصل کی جاسکتی ہیں جبکہ تمام لوگوں کا جنرل ڈیٹا حاصل کرنا ممکن نہیں ہے۔

مزید پڑھیں؛ یو اے ای میں پاکستانی سرمایہ کاری کم ہونے لگی

قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے ایف بی آر کی جانب سے موصول ہونے والی معلومات پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے معاملہ ایف آئی اے کے سپرد کر دیا۔

ادھر اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے حکام نے واضح کیا کہ گزشتہ چار سالوں کے دوران دبئی ریئل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری کے لیے کسی بھی پاکستانی نے ان سے باقاعدہ اجازت نہیں لی۔

کمیٹی نے معاملے کی مزید تحقیقات کے لیے شزہ منصب علی خان کی سربراہی میں 3 رکنی ذیلی کمیٹی قائم کر دی۔

قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے اجلاس کے دوران پاکستان میں ریئل اسٹیٹ سیکٹر کو درپیش مسائل کا بھی جائزہ لیا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستانیوں کی دبئی میں 85 ارب روپے مالیت کی پراپرٹی

دوسری جانب ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان درآمدات اور برآمدات کے لیے ایل سی کا عمل زیر التواء ہے جس کے حوالے سے وفاقی کابینہ پہلے ہی منظوری دے چکی ہے تاہم اس کی تاخیر ایران حکومت کی جانب سے ہو رہی ہے۔

ڈپٹی گورنر نے کمیٹی کو یقین دہانی کرائی کہ اس معاملے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا۔

یار رہے کہ گزشتہ چار سالوں کے دوران دبئی ریئل اسٹیٹ میں پاکستانیوں نے 8 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی جبکہ 2013ء اور 2014ء کی درمیانی مدت میں پاکستانیوں نے دبئی میں تقریباً 4 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی۔