یہ دعویٰ ایک کینیڈین طبی تحقیق میں سامنے آیا— شٹر اسٹاک فوٹو
یہ دعویٰ ایک کینیڈین طبی تحقیق میں سامنے آیا— شٹر اسٹاک فوٹو

مانیں یا نہ مانیں مگر دانت صحت کے حوالے سے ہماری ترجیحات کی فہرست میں سب سے نیچے ہوتے ہیں یا ان کا خیال زیادہ نہیں رکھا جاتا۔

اور یہی وجہ ہے کہ بڑھاپے، اڈھیرعمری بلکہ جوانی میں ہی دانت ٹوٹنے کا امکان بھی بڑھ جاتا ہے۔

اور حیران کن طور پر ایک بہت عام اور بظاہر عام عادت اس کا خطرہ بڑھاتی ہے۔

مزید پڑھیں : دانتوں کو جگمگائیں ان 11 طریقوں سے

یہ دعویٰ ایک کینیڈین طبی تحقیق میں سامنے آیا۔

تحقیق کے مطابق اگر تو آپ صبح ناشتے یا رات کو کھانے کے فوری بعد برش کرنے کے عادی ہیں تو جان لیں کہ یہ عادت جلد دانتوں سے محروم کا باعث بن سکتی ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ جب لوگ کوئی ترش چیز جیسے مالٹے یا ٹماٹر کھاتے ہیں تو دانتوں کی سطح عارضی طور پر نرم ہوجاتی ہے اور اس دوران دانتوں پر برش کیا جائے خصوصاً سختی یا جلدبازی میں یہ سطح ہٹنے لگتی ہے۔

اس کے نتیجے میں دانت حساسیت کے شکار ہوسکتے ہیں اور عمر بڑھنے کے ساتھ صورتحال بدترین ہونے لگتی ہے کیونکہ عمر بڑھنے سے مسوڑے گھسنے لگتے ہیں اور جڑ سطح پر ابھرنے لگتی ہے۔

تو اگر آپ قبل از وقت دانتوں سے محروم نہیں ہونا چاہتے ، تو کھانے کے کم از کم آدھے گھنٹے بعد برش کرنے کو عادت بنائیں۔

یہ بھی پڑھیں : دانتوں میں چھپی بیماریوں کی علامات

تحقیق کے مطابق لعاب دہن کھانے کے نتیجے میں منہ میں پیدا ہونے والی تیزابیت کے اثرات کو کم کرتا ہے مگر اس کے لیے اسے وقت درکار ہوتا ہے۔

اسی طرح دودھ سے بنی کچھ مصنوعات کا استعمال منہ میں کیلشیئم اور دیگر اجزاءکو پیدا کرتا ہے جو کہ پلاک کے خلاف لڑتے ہیں۔

اسی طرح کلیاں کرکے بھی آپ کھانے کے دانتوں میں پھنسے ذرات کو نکال سکتے ہیں۔

محققین نے مشورہ دیا کہ کھانے کے بعد کی بجائے پہلے برش کرنے کی عادت کو اپنانا بھی ایک اچھا حل ہے۔