اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان نے توہین عدالت کیس میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے۔

الیکشن کمیشن نے عمران خان کو 26 اکتوبر کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم دیا۔

چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) سردار رضا کی سربراہی میں عمران خان کے خلاف توہین عدالت معاملے کی سماعت ہوئی۔

تاہم سماعت کے آغاز پر خیبر پختونخواہ کی رکن کی عدم موجودگی کے باعث سماعت ایک گھنٹے کے لیے ملتوی کی گئی۔

بعدازاں سماعت کے دوبارہ آغاز پر الیکشن کمیشن نے عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے انہیں 26 اکتوبر کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

مزید پڑھیں: توہین عدالت کیس: عمران خان کے قابل ضمانت وارنٹ جاری

ذرائع کے مطابق عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کے حوالے سے الیکشن کمیشن نے 3-2 کی اکثریت سے فیصلہ دیا، جہاں الیکشن کمیشن کے پنجاب اور سندھ کے ارکان نے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کی مخالفت کی جبکہ چیف الیکشن کمشنر اور خیبرپختونخواہ اور بلوچستان کے ارکان نے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کی حمایت کی۔

الیکشن کمیشن نے گزشتہ سماعت پر آج (12 اکتوبر کو) فیصلہ سنانے کا اعلان کیا تھا۔

اس بات کا قومی امکان موجود ہے کہ پی ٹی آئی کی جانب سے الیکشن کمیشن کے خلاف ہائیکورٹ سے رجوع کیا جاسکتا ہے۔

واضح رہے کہ تحریک انصاف کے سابق بانی رکن اکبر ایس بابر نے الیکشن کمیشن میں عمران خان کے خلاف توہین عدالت کی پٹیشن دائر کی تھی، انہوں نے نومبر 2014 میں پاکستان تحریک انصاف کے خلاف غیر ملکی فنڈنگ لینے کے معاملے پر بھی ایک درخواست الیکشن کمیشن میں دائر کر رکھی ہے، جس کی سماعت جاری ہے۔

اس سے قبل گذشتہ ماہ 14 ستمبر کو الیکشن کمیشن نے توہین عدالت کیس میں عمران خان کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے انہیں 25 ستمبر کو دوبارہ طلب کیا تھا۔

تاہم 20 ستمبر کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کیے گئے پی ٹی آئی چیئرمین کے وارنٹ گرفتاری معطل کرتے ہوئے عمران خان کو الیکشن کمیشن کے شوکاز نوٹس کا جواب دینے کی ہدایت کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: پولیس کو عمران خان کو گرفتار کر کے پیش کرنے کا حکم

اس حوالے سے ڈان نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی ترجمان نعیم الحق کا کہنا تھا کہ 'الیکشن کمیشن کو وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کا کوئی اختیار نہیں، انہوں نے نالائقی کا مظاہرہ کیا ہے اور میں اس اقدام کی سخت مذمت کرتا ہوں'۔

نعیم الحق کا مزید کہنا تھا کہ 'الیکشن کمیشن کو اپنے اختیارات کا پتہ تک نہیں'۔

دوسری جانب الیکشن کمیشن کے فیصلے کے بعد تحریک انصاف کے وکیل بابر اعوان نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ 'پی ٹی آئی اور عمران خان کے خلاف فیصلے تعصب کی بنیاد پر ہوتے ہیں'۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارا بنیادی سوال یہ ہے کہ 'عمران خان کے خلاف نوٹسز کس قانون کے تحت جاری کیے گئے، جب تک اختیارِ سماعت کا فیصلہ نہیں ہوتا، جلدی میں جو بھی فیصلے کیے جائیں گے، اس کا مطلب یہی ہے کہ پی ٹی آئی اور عمران خان نشانے پر ہے'۔