اسلام آباد: سپریم کورٹ میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سیکریٹری جنرل جہانگیر ترین کی نااہلی سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران عدالت عظمیٰ نے ریمارکس دیے کہ جہانگیر ترین کو ذریعہ آمدن پر 5 فیصد ٹیکس دینا چاہیے تھا۔

ساتھ ہی عدالت عظمیٰ نے واضح کیا کہ پنجاب کے زرعی ٹیکس ایکٹ میں کوئی ابہام نہیں، ایکٹ کے مطابق لیز پر لی گئی اراضی پر بھی ٹیکس بنتا ہے لیکن ابھی تک عدالت کو قائل نہیں کیا جاسکا کس طرح ٹھیکیدار ٹیکس سے مستثنیٰ ہے۔

خیال رہے کہ جہانگیر ترین کے خلاف الیکشن کمیشن (ای سی پی) میں اثاثے اور آف شور کمپنیاں ظاہر نہ کرنے سمیت بیرون ملک سے حاصل ہونے والے مبینہ فنڈز سے پارٹی چلانے کے الزامات پر مسلم لیگ (ن) کے رہنما حنیف عباسی نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر رکھی ہے۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے جہانگیر ترین کے خلاف کیس کی سماعت کی۔

سماعت کے دوران جہانگیر ترین کے وکیل سکندر بشیر مہمند نے تحریری گزارشات عدالت میں پیش کرتے ہوئے بتایا کہ جہانگیرترین نے کاغذات نامزدگی میں کچھ نہیں چھپایا، صرف ملکیتی زمین پر ادا شدہ ٹیکس کا پوچھا گیا تھا جس کا فارم میں جواب دیا گیا۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ جس شخص کی ذاتی زمین نہ ہو اور وہ لیز زمین سے 10 ارب کماتا ہے، ایسی صورت میں وہ شخص الیکشن فارم میں کیا لکھے گا؟

وکیل سکندر بشیر مہمند نے جواب دیا کہ ایسی صورت میں وہ شخص 'نِل' لکھے گا۔

انہوں نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ہمارا موقف ہے کہ لیز زمین پر ٹھیکیدار پر ٹیکس لاگو نہیں ہوتا، لیز زمین پر ٹیکس کے اطلاق کا معاملہ متعلقہ فورم پر زیرالتواء ہے جبکہ درخواست گزار چاہتا ہے کہ زیرالتواء معاملے کو نظرانداز کردیا جائے اور عدالت 184/3 کے مقدمے میں ٹیکس معاملات پرفیصلہ کردے۔

مزید پڑھیں: جہانگیرترین کے الیکشن کمیشن اور ایف بی آر گوشواروں میں فرق کیوں؟ سپریم کورٹ

جسٹس فیصل عرب نے ریمارکس دیے کہ متعلقہ فورم پر زیرالتواء مقدمات وفاقی قانون سے متعلق ہے، ایگری کلچرل ٹیکس کا ایشو صوبائی معاملہ ہے۔

ساتھ ہی انہوں نے استفسار کیا کہ کیا ایگریکلچرل اتھارٹی نے آپ کونوٹس جاری کیا؟

وکیل سکندر بشیر نے جواب دیا کہ کہ پنجاب ایگری کلچرل اتھارٹی نے کوئی نوٹس جاری نہیں کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ جہانگیر ترین نے ایف بی آر کو زرعی آمدن سمیت مجموعی آمدن بتائی۔

جس پر چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیے کہ زرعی زمین پر رینٹ آمدن ہوگی، زرعی زمین سے کاشتکاری کا ریونیو بھی آمدنی ہوگی جبکہ لیز زمین سے جو ریونیو حاصل کرے گا وہ اس کی زرعی آمدن ہوگی۔

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ 'ابھی ہم قانون کوسمجھنے کی کوشش کررہے ہیں، ابھی عدالت اپنی حتمی رائے نہیں دے رہی'۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ جہانگیر ترین کے پاس چاہے زمین لیز پر تھی لیکن انھیں آمدن مل رہی تھی، وہ 18 ہزار ایکڑ زمین پر کاشت کاری کررہے تھے، قانون کے تحت کاشتکار کو آمدنی ٹیکس دینا ہوتا ہے، لہذا جہانگیر ترین نے زرعی آمدن پر 5 فیصد کے اعتبار سے ٹیکس دینا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: نااہلی کیس: جہانگیر ترین نے تحائف سے متعلق اپنا جواب جمع کرادیا

جہانگیر ترین کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ پنجاب ایگری کلچرل قانون میں ابہام ہے جس کی وضاحت درکار ہے، جہانگیر ترین کے زرعی ٹیکس کے گوشوارے اب کھولے نہیں جاسکتے، زرعی زمین کے ٹیکس گوشوارے 2 سال کے اندر کھول سکتے ہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ جہانگیر ترین کو ہم ایمانداری سے ملا کر دیکھ رہے ہیں، انہوں نے اپنی مکمل زرعی آمدنی الیکشن کمیشن کونہیں بتائی۔

جس پر وکیل نے دلائل دیے کہ بے ایمانی تب ثابت ہوگی جب کسی فورم کا فیصلہ آئے گا، ہمارا موقف ہے کہ پہلے متعلقہ فورم کو فیصلہ کرنے دیا جائے۔

جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ 'ایمانداری کاکنڈکٹ سے پتہ چلتا ہے'۔

اس موقع پر جسٹس عمرعطا نے ریمارکس دیے کہ فرض کرلیں لیز زمین پرٹیکس لگتا تھا، اگرلیز زمین پر ٹیکس نہیں دیا تو قانونی اثرات کیا ہوں گے؟

تاہم وکیل نے جواب دیا کہ جہانگیر ترین کو نااہل نہیں کیا جاسکتا، وہ باقاعدگی سے ٹیکس ادا کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں: سپریم کورٹ نے جہانگیر ترین سے 5 سوالات کے جواب طلب کرلیے

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آپ مطمئن نہیں کرسکے کہ لیز زمین کی آمدن پر ٹیکس نہیں لگتا۔

بعدازاں چیف جسٹس نے جہانگیر ترین کے وکیل سے استفسار کیا کہ وہ یہ بتادیں کہ دلائل مکمل کرنے کے لیے مزید کتنا وقت لیں گے؟

جس پر سکندر بشیر نے جواب دیا کہ میری کوشش ہوگی جلدی دلائل مکمل کروں۔

جس کے بعد عدالت نے کیس کی سماعت منگل (17 اکتوبر) تک کے لیے ملتوی کردی۔