امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے پاک فوج کی جانب سے امریکی-کینیڈین جوڑے کی طالبان کی حراست سے بازیابی کو پاک امریکا تعلقات کے لیے 'مثبت قدم' قرار دے دیا۔

وائٹ ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان کا تعاون 'امریکا کی جانب سے خطے کی سیکیورٹی کے لیے ڈومور کی خواہش پر عمل کرنے کی عکاسی ہے'۔

قبل ازیں پاک فوج نے اعلان کیا تھا کہ اس نے ایک امریکی خاتون اور اس کے کینیڈین شوہر اور تین بچوں کو امریکا کی جانب سے حاصل ہونے والے معلومات کی بنیاد پر طالبان کی حراست سے بازیاب کرادیا ہے۔

مزید پڑھیں:پاک فوج کے آپریشن میں غیر ملکی جوڑا بازیاب

اے ایف پی کی رپورٹ کے مطا بق امریکی صدر نے بازیاب مغویوں کی شناخت کیٹلان کولمین اور جوشوا بوئل کے نام سے کی جنھیں 2012 میں افغانستان کے دورے سے واپسی کے موقع پر اغوا کیا گیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کی رہائی پاک-امریکا تعلقات میں ایک 'مثبت قدم' ہے۔

امریکی صدر نے کہا کہ 'امریکی خاتون کے تینوں بچوں کی پیدائش حراست کے دوران ہوئی اور آج وہ آزاد ہیں جو ہمارے ملک کے لیے پاکستان سے تعلقات کے حوالے سے مثبت اشارہ ہے'۔

انھوں نے کہا کہ اس خاندان کو حقانی نیٹ ورک نے اغوا کیا تھا جو 'ایک دہشت گرد تنظیم ہے جس کے تعلقات طالبان سے ہیں'۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ 'ہمیں امید ہے کہ اس طرح کےاغوا ہونے والے افراد کی بازیابی کے لیے مستقبل میں بھی مشترکہ انسداد دہشت گردی کارروائیاں جاری رہیں گی'۔

امریکی وزیرخارجہ ریکس ٹیلرسن کا کہنا تھا کہ امریکا اس قدم پر پاکستان کا 'بہت شکرگزار' ہے۔

کولمین اور ان کے میاں بوئل کی ایک ویڈیو گزشتہ سال دسمبر میں سامنے آئی تھی جس میں ان کے ساتھ دو بچے بھی دکھائے گئے تھے۔

یہ ویڈیو ایک ایسے وقت میں سامنے آئی تھی جب کابل میں حقانی نیٹ ورک کے بانی کے صاحبزادے انس حقانی کو حکومت کی جانب سے پھانسی دینے کی تیاری کی جارہی ہے جن کو 2014 میں گرفتار کیا گیا تھا۔