سوئیڈن یونیورسٹی کے محققین نے 8 ویں صدی کے لگ بھگ بنائے گئے ایک ’سلک بینڈ‘ پر عربی رسم الخط ’کوفیک‘ میں اللہ اور علی کا نام دریافت کیا ہے۔

’اپسلا‘ یونیورسٹی نے اپنی ویب سائٹ پر انکشاف کیا کہ دوران تحقیق انھیں ہاتھ میں پہنے والا ایک بینڈ ملا، جسے انتقال کرجانے والے شخص کے ساتھ دفن کیا جاتا تھا اور اس پر عربی رسم الخط موجود ہے۔

ایک آرٹیکل کے مطابق یونیورسٹی کے محققین ’وائکنگ کوچر‘ نامی نمائش کے لیے ٹیکسٹائل نمونے تلاش کررہے تھے جب انہیں وائکنگ عہد کا بینڈ ملا، جس پر عربی زبان کندہ تھی۔

واضح رہے کہ’ وائکنگ عہد‘ یورپین تاریخ میں 8 ویں صدی کے آخر اور 11 صدی کے وسط کے دور کو کہا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں: 3700 سال پرانا مصری شہزادی کا مقبرہ دریافت

محققین کا کہنا ہے کہ وائکنگ عہد میں جغرافیائی اعتبار سے سینٹرل ایشیا میں بھی عربی رسم الخط ’کوفیک‘ یادگاروں اور مزاروں پر تحریر کی جاتی تھی۔

اپسلا یونیورسٹی کے شعبہ ٹیکسٹائل، آثار قدیمہ اور تاریخ کی ماہر انیقا لارسن نے بتایا کہ ان کی ٹیم کو عربی رسم الخط میں لفظ ’اللہ‘ دیکھ کر بہت حیرت ہوئی۔

اس ضمن میں محققین نے بتایا کہ وائکنگ عہد میں قبروں پر کوفیک رسم الخط کے کتبے ملے ہیں، ان کا مزید کہنا تھا کہ سوئیڈن کے وسطی حصوں سمیت گمالا اپسلا میں دریافت ہونے والی ’کشی کی قبروں‘ پر بھی عربی تحریریں موجود تھیں۔

یہ بھی پڑھیں: 2 ہزار سال بعد گمشدہ شہر دریافت

اس آرٹیکل میں انیقا لارسن نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمیں یہ خیال بہت متاثر کن لگا کہ مغرب بھی مسلمانوں کی توجہ کا اہم مرکز تھا جہاں رائج معاشرتی روایات اپنائی جاتی تھیں اور اس کی مثال ہمارے پاس موجود ہاتھ میں پہنے جانے والا بینڈ ہے‘۔

انہوں نے امکان ظاہر کیا کہ ایسی مقدس تحریروں کا مقصد انہیں دائیں جانب سے پڑھ کر یاد کرنا مقصود ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ 8ویں صدی کے بعد تدفین کی روایات میں اسلامی رنگ ملتا ہے جس سے یہ بات واضح ہے کہ اس وقت بھی موت کے بعد جنت کی زندگی کا تصور موجود تھا۔


یہ خبر 13 اکتوبر 2017 کے ڈان اخبار میں شائع ہوئی