اسلام آباد: سابق وزیراعظم نواز شریف نے پاناما پیپر کیس کے فیصلے کی روشنی میں قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے دائر 3 ریفرنسز کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرلیا۔

نواز شریف کی جانب سے دائر کی گئی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ نیب نے مختلف اثاثوں پر احتساب عدالت میں تین ریفرنسز دائر کیے جبکہ نیب قوانین کے سیکشن 9 کی ذیلی شق 5 کے تحت اثاثے جتنے بھی ہوں ریفرنس ایک ہی فائل ہوتا ہے۔

نیب کی جانب سے دائر کیے گئے 3 ریفرنسز کو 'غیر قانونی اور آئین و قانون کی خلاف ورزی' قرار دیتے ہوئے نواز شریف نے سپریم کورٹ سے استدعا کی کہ نیب کو تینوں ریفرنسز کو ایک ریفرنس میں بدلنے کا حکم دیا جائے اور جب تک اس درخواست پر فیصلہ نہیں ہو جاتا، تب تک احتساب عدالت کی کاروائی روکی جائے۔

پٹیشن کے مطابق 'کسی ملزم کے خلاف ایک ہی جیسے الزامات کے تحت متعدد ریفرنسز فائل کرنا اس کی سزا کو دوگنا کرسکتا ہے'۔

سابق وزیراعظم کی جانب سے دائر درخواست میں وفاق، وزارت قانون اور نیب کو فریق بنایا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: نیب کی کارروائی دھوکاہے، پیش نہیں ہوں گے،نواز شریف کا جواب

یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے رواں برس 28 جولائی کو پاناما پیپرز کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے نواز شریف کو بطور وزیراعظم نااہل قرار دے دیا تھا جبکہ نیب کو شریف خاندان اور وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کے خلاف ریفرنسز دائر کرنے کا حکم دیا تھا۔

جس کے بعد سپریم کورٹ کی ہدایات کی روشنی میں قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے شریف خاندان کے خلاف 3 ریفرنسز دائر کیے گئے تھے، نواز شریف اور ان کے صاحبزادوں حسن اور حسین نواز کا نام تینوں ریفرنسز جبکہ مریم نواز اور ان کے شوہر کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کا نام ایون فیلڈ ایونیو میں موجود فلیٹس سے متعلق ریفرنس میں شامل ہے۔

دوسری جانب اسحٰق ڈار کے خلاف آمدن سے زائد اثاثے رکھنے کے الزام میں ایک ریفرنس دائر کیا گیا تھا۔