پاکستان میں گلیشئیرز ’بڑھنے‘ کی بات ٹھیک نہیں

اپ ڈیٹ 16 اکتوبر 2017

ای میل

قراقرم کے بیافو گلیشیئر میں ایک گلیشیائی ندی۔ — فوٹو ضیغم اسلام۔
قراقرم کے بیافو گلیشیئر میں ایک گلیشیائی ندی۔ — فوٹو ضیغم اسلام۔

پچھلے ہفتے برطانوی نشریاتی ادارے میں ایک خبر شائع ہوئی جس میں بتایا گیا کہ پاکستان کے گلیشیرز بڑھ رہے ہیں جس کے باعث دریاؤں میں پانی کم ہوجائے گا۔

یہ خبر نہایت تشویش سے پڑھی گئی کہ پاکستان میں پانی کی کمی ہونے والی ہے۔ پاکستان جیسے زرعی اور موسمیاتی تغیر کے خطرات کے حوالے سے اولین نمبروں پر موجود ملک میں پانی کی کمی کا مطلب معاشی پسماندگی اور معاشرے میں مزید ابتری اور انتشارہے۔

اِس خبر نے نہ صرف اِس غلط فہمی کو جنم دیا کہ پاکستان کے تمام گلیشیرز بڑھ رہے ہیں بلکہ اِس حوالے سے خاصی سراسمیگی بھی پھیلی کہ دریاؤں میں پانی کی کمی ہوجائے گی، جبکہ عام افراد نے یہ بھی سوال کیے کہ جب گلیشیرز بڑھ رہے ہیں تو پانی میں بھی اضافہ ہونا چاہیے؟ پانی کم کیسے ہوجائے گا؟

اِس حوالے سے ہماری محکمہءِ موسمیات کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر غلام رسول صاحب سے تفصیلی بات چیت ہوئی جس کا لب لباب یہ ہے کہ یہ خبر مکمل طور پر درست نہیں ہے، بلکہ اِس خبر کے حوالے سے مزید وضاحت کی ضرورت تھی جو نہیں کی گئی۔

ہمارا ملک پاکستان تین عظیم بلند ترین پہاڑی سلسلوں ہمالیہ، ہندوکش اور قراقرم کے سنگم کا حامل ہے۔ لہذا قطبین کے بعد سب سے زیادہ گلیشیرز ہمارے اِنہی سلسلوں میں پائے جاتے ہیں۔ ہمارے اِن پہاڑی سلسلوں میں موجود گلیشیرز کی کل تعداد 7,253 ہے۔

ماہرین متفق ہیں کہ اِن تینوں سلسلوں کے گلیشیرز گلوبل وارمنگ کے باعث تیزی سے پگھل رہے ہیں۔ لیکن ایک حالیہ تحقیق کے مطابق قراقرم سلسلے میں موجود کچھ گلیشیرز بڑھ رہے ہیں یعنی کچھ گلیشیرز ایسے بھی دیکھے گئے جن کا بی ہیوئیر ایڈوانسنگ ہے۔ اِن کو ’قراقرم اناملی‘ کا نام دیا گیا ہے۔ یعنی ہندو کش، ہمالیہ اور قراقرم کے دیگر گلیشیرز تو تیزی سے پگھل رہے ہیں لیکن سلسلہءِ قراقرم میں موجود کچھ گلیشیرز بڑھ رہے ہیں۔ اِن بے قاعدہ طرزِ عمل رکھنے والے گلیشیرز کی تعداد صرف 123 ہیں اور یہ گلیشیرز کی کل تعداد کا صرف 1 فیصد ہیں۔

محکمہءِ موسمیات کے ایک اہلکار پسو گلیشیئر پر موجود ہیں۔ — فوٹو اے ایف پی۔
محکمہءِ موسمیات کے ایک اہلکار پسو گلیشیئر پر موجود ہیں۔ — فوٹو اے ایف پی۔

اِس سے قبل یورپی اور کینیڈین سائنس دانوں نے سیٹلائٹ کی مدد سے تحقیق کی تھی اور گلیشیرز کے تیزی سے پگھلنے کے بارے میں بتایا تھا مگر اِس تحقیق کو مستند نہیں مانا گیا۔ لیکن حال ہی میں ایریزونا یونیورسٹی میں پاکستانی گلیشیروں پر سائنس دانوں کے ایک گروپ نے بھی تحقیق کی ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستانی موسموں کا بگڑتا ہوا مزاج

اِس گروپ میں ایک پاکستانی اور تین امریکی سائنس دان شامل تھے۔ اِس تحقیق کی بنیاد پاکستان کے 13 میٹرولوجیکل اسٹیشن کے 50 سال کے ڈیٹا پر رکھی گئی، جس کے مطابق قراقرم اناملی موجود تو ہے لیکن صرف ایک فیصد گلیشیرز میں اور وہ بھی بہت بلندی پر موجود ہیں۔

اِس حوالے سے دوسری بات پانی کی کمی کی گئی ہے کہ دریاؤں میں7 فیصد پانی کم ہوجائے گا۔ قراقرم اناملی کے یہ گلیشیرز دریائے ہنزہ کو پانی فراہم کرتے ہیں جو دریائے سندھ کا ایک معاون دریا ہے اور یہ دریا گلگت کے پاس دریائے سندھ میں مل جاتا ہے۔ اِس کے پانی میں اگر 7 فیصد کمی ہوجاتی ہے تو ہمارے بڑے دریاؤں کے بہاؤ میں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

اب چونکہ درجہءِ حرارت بڑھ جانے کے باعث ہندوکش اور ہمالیہ سلسلے کے گلیشیرز تیزی سے پگھل رہے ہیں، جن کا پانی بھی معاون دریاؤں سے دریائے سندھ کے پانی میں شامل ہوتا ہے۔ خود دریائے سندھ جس کی لمبائی 2,900 کلو میٹر ہے جو تبت میں جھیل مانسرور سے 30 میل دور کیلاش کے برفانی پانیوں سے شروع ہوتا ہے۔

چین سے یہ دریا ہمالیہ کے دامن سے گزرتا ہے جہاں کے گلیشیرز کا پانی اِسے سیراب کرتا ہے۔ لہذا یہ کہا جاسکتا ہے کہ دریائے سندھ یا دیگر بڑے دریاؤں میں پانی کی کمی نہیں ہوگی۔

بات گلیشیرز کی ہورہی ہے تو گلیشیائی جھیلوں کا بھی کچھ تذکرہ ہوجائے، بلکہ دیکھا جائے تو ہمیں اصل خطرہ اِن گلیشیائی جھیلوں سے ہے جو ہماری آبادی اور دریاؤں کے لیے خطرہ بن رہے ہیں۔

جیسا کہ پہلے بتایا جاچکا کہ پاکستان تین پہاڑی سلسلوں یعنی ہمالیہ، ہندوکش اور قراقرم کے سنگم کا حامل ہے، چنانچہ ہمارے پہاڑی علاقوں میں ایسی کئی جھیلیں واقع ہیں جو گلیشیرز سے پانی کے اخراج کے نتیجے میں قدرتی طور پر وجود میں آئی ہیں۔ ہمارے اِن گلیشیروں اور اِن جھیلوں سے اِس قدر پانی دستیاب ہوتا ہے جو دریائے سندھ کے کل بہاؤ کے نصف کے قریب ہے اور یہ پانی ملک کی زرعی، صنعتی اور بجلی کی ضروریات کو پورا کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔

پاکستان کی وادیءِ گوجال میں واقع پسو گلیشیئر۔ فوٹو اے ایف پی۔
پاکستان کی وادیءِ گوجال میں واقع پسو گلیشیئر۔ فوٹو اے ایف پی۔

ماحولیاتی ماہرین کے مطابق اِن پہاڑی علاقوں میں ایسی 52 جھیلوں کی نشاندہی ہوئی ہے جو گلیشیرز سے زائد پانی کی آمد کے سبب پاکستان کے پہاڑی علاقوں (ہمالیہ، قراقرم اور ہندوکش کے علاقوں) میں سیلاب لاسکتی ہیں۔ گلیشیروں سے رستے اور بہتے پانی نے اِس علاقے میں چھوٹی بڑی کئی جھیلیں بنا رکھی ہیں جن میں پانی کی روانی کا یہ سلسلہ گلیشیروں پر مسلسل برف باری اور اِس پانی کے جمنے اور پھر پگھلنے کا یہ عمل ہزارہا سال سے فطری انداز میں جاری ہے۔

مگر اب گلوبل وارمنگ یعنی بڑھتی ہوئی حدت اِن گلیشیروں پر بھی اثر انداز ہونا شروع ہوچکی ہے۔ گرمی سے گلیشیرز کے پگھلنے کی رفتار پہلے سے بڑھ چکی ہے۔ لہذا اِن سے رسنے والا پانی بھی بڑھ چکا ہے جس کے باعث قرب و جوار میں واقع کئی گلیشیائی جھیلوں میں پانی کی زیادتی ہو رہی ہے۔

مزید پڑھیں: ہر سال پچھلے سال سے گرم کیوں؟

بڑھتے ہوئے پانی کا یہ زور بعض اوقات اِن جھیلوں کے کناروں میں شگاف ڈالنے لگا ہے اور یہ جھیلیں چھلکنے لگی ہیں اور اگر پانی کا بہاؤ تیز ہو تو اِس پانی کے ساتھ برفانی تودے اور پتھر بھی لڑھکنے لگتے ہیں جو نشیب کے علاقوں کے لیے انتہائی تباہ کن ثابت ہوسکتے ہیں۔ اِس عمل کو گلیشیائی جھیلوں میں سیلاب یعنی (Glacial lake outburst flood) یا GLOF کہا جاتا ہے۔

بدلتے موسم یعنی کلائمیٹ چینج کے منفی اثرات دریاؤں کے نشیبی علاقوں پر بہت زیادہ پڑتے ہیں۔ تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ اِن تبدیلیوں کی وجہ سے پچھلی پانچ دہائیوں میں ایسی جھیلوں کے سیلابی پانی سے خاصا نقصان ہوا ہے۔ ہمالیہ کے علاقے میں تقریباً ہر تین سے دس سال کے دوران پاکستانی حدود میں گلیشیرز کی اِن جھیلوں سے سیلاب کی نشان دہی ہوتی ہے۔

دریاؤں میں بہاؤ کے بڑھنے سے نشیبی علاقوں پر تباہ کن اثرات رونما ہوئے ہیں اور بے شمار جانی اور مالی نقصانات ہوئے ہیں جن میں مکانوں، سڑکوں، پلوں، جنگلات، فصلوں کی تباہی، زرعی زمینوں میں خرابی اور کئی ایسے نقصانات شامل ہیں جن کی وجہ سے سماجی اور اقتصادی کیفیات تبدیل ہوگئی ہیں۔ (پچھلے چند سالوں میں گلگت اور چترال میں ایسے کئی سیلاب دیکھے گئے۔)

اِنہی گلیشیائی جھیلوں کے ٹوٹنے کے خطرے کے سدِباب کے لیے حکومتِ پاکستان نے اِن علاقوں میں ایک منصوبہ شروع کیا جس نے اِن علاقوں میں بہت اچھے اثرات مرتب کیے (ہمیں یہ پروجیکٹ دیکھنے کا اتفاق ہوا ہے۔)

یہ پاکستان گلوف پروجیکٹ کلائمیٹ چینج ڈیویژن حکومت پاکستان، UNDP اور ایڈاپٹیشن فنڈ کا ایک مشترکہ پروجیکٹ تھا جس کا دورانیہ 2011 سے 2015 پر مشتمل تھا۔ منصوبے کا مقصد پاکستان کے شمالی علاقوں (گلگت بلتستان، چترال) میں موسمیاتی تغیرات سے پیدا ہونے والی تباہ کاریوں سے مقامی آبادی کو محفوظ رکھنا تھا۔

پاکستان گلوف پروجیکٹ کو ٹیکنیکل سپورٹ محکمہءِ موسمیات کی تھی۔ محکمہءِ موسمیات پاکستان نے پاکستان گلوف پروجیکٹ کی مالی مدد سے یہاں مختلف اہم مقامات پر Automatic weather station, rain / snow guage اور river guage تنصیب کیے ہیں جو وادی میں بدلتے موسموں کے رویے اور زرعی مشاورت کے علاوہ کسی ممکنہ خطرے سے پیشگی آگاہ کرنے میں نہایت اہم ثابت ہوتے ہیں۔

محکمہءِ موسمیات پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر غلام رسول کے مطابق گلگت بلتستان میں 7 ہزار سے زائد گلیشیرز ہیں جن کے ساتھ 3044 گلیشیرز جھیلیں موجود ہیں۔ اِن جھیلوں میں سے 36 جھیلوں کو انتہائی خطرناک قرار دیا گیا ہے۔ زمین میں درجہ حرارت میں اضافے کے باعث گلیشیرز کے پگھلاؤ کی رفتار میں تیزی آگئی ہے نتیجتاً گلشیرز کی سطح پر اور اِس کے اندر بننے والی جھیلیں انسانی آبادی کے لئے خطرے کا باعث بن چکی ہیں۔

محکمہءِ موسمیات پاکستان نے اِس ضمن میں گلگت اور چترال میں مختلف مقامات پر موسمی پیشگوئی کے مراکز قائم کئے جہاں سے موسم کی تازہ ترین صورتِ حال معلوم کی جاسکتی ہے۔ گلگت میں خصوصی طور پر گلوف کے خطرے سے نمٹنے کے لئے پیشگی اطلاع کا مرکز بگروٹ میں قائم کیا گیا۔

گلیشیرز آؤٹ لیک برسٹ فلڈ (گلوف) کے پروگرام منیجر زاہد حسین کے مطابق یہ پروجیکٹ چار سال بگروٹ میں کام کرتا رہا۔ بگروٹ 10 گاؤں کے 16 ہزار نفوس پر مشتمل علاقہ ہے۔ اِس پروجیکٹ کے تحت سیلاب سے خطرے والے مقامات پر حفاظتی بند باندھے گئے اور آبادی کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔ جبکہ محکمہءِ موسمیات کی جانب سے پیشگی وارننگ جاری کی گئی تھی۔ بگروٹ میں 10 مقامات پر پیشگی سیلاب کی اطلاع موصول ہوئی جس پر گلوف نے اِن مقامات کو خطرناک قرار دے کر وہاں جانے سے منع کیا، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہاں سیلاب تو آیا مگر کوئی بھی جانی و مالی نقصان نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ارلی وارننگ سسٹم نہایت ہی سود مند اور بہترین اقدام ہے جس کے فنکشنل ہونے کے بعد سیلاب کی تباہ کاریوں سے بچنے میں مدد ملی۔

مزید پڑھیں: جب بگروٹ وادی نے سیلاب کا مقابلہ کیا

ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں ہر سال 7 لاکھ 15 ہزار لوگ سیلاب سے متاثر ہوتے ہیں جس کے نتیجے میں ملک کو جو نقصان پہنچتا ہے وہ 2.7 ارب امریکی ڈالر کے برابر ہوتا ہے۔ ورلڈ ریسورسز انسٹیٹیوٹ کے مطابق سیلابی اثرات کے باعث 2030 تک پاکستان میں دریائی سیلابوں سے ہر سال 27 لاکھ لوگوں کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے جبکہ زراعت اور رہائش کی غرض سے دریائے سندھ کے بیشتر نشیبی میدانوں پر قبضہ ہوچکا ہے لیکن بعض ماہرین کے خیال میں پانی ذخیرہ ہونے والی 50 فیصد جگہوں پر اب بھی بہت سی ایسی زمین موجود ہے جہاں دریائے سندھ کا سیلابی پانی نکالا جاسکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ لال سونہارا نیشنل پارک اور صوبہ سندھ میں گدو اور سکھر بیراج کو بھی پانی کی ذخیرہ گاہ کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔

اِس پورے معاملے کو سمجھنے کے یہ بعد یہ کہنا ٹھیک ہے کہ اگرچہ موسمی تبدیلیوں کی وجہ سے گلیشئیرز کے پگھلنے کا خطرہ اب بھی موجود ہے، مگر برطانوی نشریاتی ادارے کی خبر کے بعد جو خوف پھیلا اُس میں مکمل حقیقت نہیں، لیکن اچھی بات یہ کہ محکمہءِ موسمیات نہ صرف اِس مسئلے سے آگاہ ہے بلکہ اِس سے نمٹنے کے لیے بھرپور کوشش بھی کررہی ہے۔