پشاور پولیس نے عاشق آباد کے علاقے سے ایک خواجہ سرا کی تشدد زدہ لاش برآمد کرلی جن کو تین روز قبل قتل کردیا گیا۔

سینیئرسپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) سجاد خان کا کہنا تھا کہ خواجہ سرا کی شدید تشدد زدہ لاش پشاور کے وارسک روڑ کے نزدیک عاشق آباد سے برآمد ہوئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ لاش تین روزہ پرانی تھی اور تشدد کے نشانات واضح تھے جبکہ اس کی شناخت تاحال نہیں ہوسکی ہے۔

ایس ایس پی کا کہنا تھا کہ لاش کی شناخت کے لیے ڈی این اے نمونے حاصل کرلیے گئے ہیں۔

مزید پڑھیں:صوابی میں خواجہ سرا کا گینگ ریپ، دو ہلاک

پولیس نے خواجہ سراؤں کی مقامی تنظیم سے ان کی شناخت کے لیے رابطہ کیا ہے تاہم ان میں سے کوئی بھی لاش کی شناخت نہیں کرپایا۔

خواجہ سرا ایسوسی ایشن کی سربراہ لائلہ خان کا کہنا تھا کہ مقتول کا تعلق پشاور سے نہیں تھا۔

پولیس نے نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے۔

پشاور میں انسانی حقوق کی ایک تنظیم ٹرانس ایکشن کی صدر فرزانہ کا کہنا تھا کہ 2015 اور 2016 میں 50 سے زائد خواجہ سراؤں کو قتل کردیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:کراچی: ڈیفنس فیز 6 میں فائرنگ سے خواجہ سرا قتل

ان کا کہنا تھا کہ ایک تحقیق کے مطابق پورے ملک میں خواجہ سراؤں کی تعداد 5 لاکھ کے قریب ہے لیکن ملک میں ان کی شناخت بھی مبہم نام سے ہے۔

یاد رہے کہ رواں سال اگست میں کراچی کے علاقے ڈیفنس میں نامعلوم افراد فائرنگ کرکے ایک خواجہ سرا کو قتل کردیا تھا۔

ایس ایس پی انویسٹی گیشن فیض اللہ کوریجو کا کہنا تھا کہ ڈیفنس فیز 6 میں شہباز کمرشل کے علاقے میں ایک ڈبل کیبن میں سوار نامعلوم افراد نے 28 سالہ خواجہ سرا ندیم عرف چندا پر فائرنگ کردی۔