سینیٹرز کی امریکا کی نئی جنوبی ایشیا پالیسی کی سخت مذمت

31 اکتوبر 2017

اسلام آباد: سینیٹ ارکان نے جنوبی ایشیا سے متعلق امریکا کی نئی پالیسی، حالیہ ڈرون حملوں اور امریکی وزیر خارجہ کے دورہ پاکستان پر سخت تحفظات کا اظہار کردیا۔

جنوبی ایشیا سے متعلق امریکا کی نئی پالیسی اور امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن کے حالیہ دورہ پاکستان پر سینیٹ میں بحث کی گئی۔

ارکان نے کہا کہ امریکا نے پالیسیوں کا تسلسل برقرار رکھنے کے لیے ہر جگہ انتہا پسندوں سے اتحاد کیا، امریکا کا بھارت میں مذہبی انتہا پسندوں سے گٹھ جوڑ ہے، جبکہ امریکا خطے کے امن کے لیے خطرہ ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے سینیٹر تاج حیدر کا کہنا تھا کہ ’امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دیواریں بنا کر لوگوں کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں، امریکا کی معیشت جنگ پر چل رہی ہے، تاہم پاکستان کسی پراکسی وار کا حصہ نہیں بنے گا۔‘

یہ بھی پڑھیں: دہشت گرد پاکستان کے استحکام کیلئے خطرہ ہیں، ریکس ٹلرسن

سینیٹر فرحت اللہ بابر نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پہلے ڈرون حملے نہیں ہوتے تھے لیکن موجودہ حکومت کے دور میں ڈرون حملے ہونا شروع ہوگئے۔

انہوں نے کہا کہ ’ملک کی خارجہ پالیسی شاید وزیر خارجہ کے کنٹرول میں نہیں، خواجہ آصف نے ایک موقع پر کہا کہ امریکا کو جن لوگوں پر اعتراض ہے ہمیں بتائے ہم ان کے خلاف کارروائی کریں گے، یہ وہی بیان ہے جو پرویز مشرف دیا کرتے تھے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’تشویش ہے کہ خارجہ پالیسی نہ جانے کہاں بنتی ہے، وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم نے امریکیوں کو کہا ہے کہ آپ کے جرنیل ناکام ہوگئے ہیں انہیں نہ سنیں اور سیاسی حل نکالیں، خواجہ آصف کو یہی پالیسی خود پر بھی اپلائی کرنی چاہیے۔‘

سینیٹ ارکان نے کہا کہ امریکا خطے میں مسائل کو برقرار رکھنا چاہتا ہے، افغان صدر اشرف غنی کے پاس 45 فیصد حکومت کا اختیار ہے، افغانستان میں باقی اختیار نان اسٹیک ایکٹرز کے پاس ہے۔

سینیٹر سحر کامران نے کہا کہ ’امریکا کی اپنی ترجیحات ہیں، ہمیں امریکا سے کوئی توقعات نہیں رکھنی چاہیے اور نہ ہی اس کی دھمکیوں پر دھیان دینا چاہیے، امریکا پاکستان کے بغیر دہشت گردی کو ختم کرنا چاہتا ہے تو ہم خوش آمدید کہتے ہیں، تاہم امریکا کو اپنی ناکامیوں اور افغانستان میں امن کے لیے کیے گئے وعدوں پر نظر ڈالنی چاہیے۔‘

مزید پڑھیں: خطے میں امن کیلئے امریکا کے پاکستان سے مخصوص مطالبات

انہوں نے کہا کہ ’امریکا کو چین کی ترقی پر تشویش ہے اور وہ بھارت کے ساتھ اس لیے بھی کھڑا ہوگا تاکہ بھارت کو چین کے خلاف استعمال کیا جاسکے۔‘

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیٹر اعظم سواتی کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کو کسی پراکسی وار کا حصہ نہیں بننا چاہیے، امریکا خطے کے امن کو تباہ کرنا اور ہمارے جوہری اثاثوں تک دسترس حاصل کرنا چاہتا ہے۔‘

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے سینیٹر طاہر حسین مشہدی نے کہا کہ ’پاکستان پرامن ملک ہے، ہم امریکا کے دباؤ میں نہیں آئیں گے، جبکہ افغانستان میں امن پاکستان کے بغیر ممکن نہیں۔‘

میاں عتیق نے کہا کہ ’امریکا سے جس نے بھی دوستی کی اسے کچھ نہیں ملا، بھارت کو بھی اس بات کا جلد اندازہ ہوجائے گا۔‘

چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے وزیر خارجہ خواجہ آصف کو بحث سمیٹنے کے لیے بدھ کو طلب کرلیا۔

تبصرے (1) بند ہیں

زولفی گوندل Oct 31, 2017 11:50pm
انڈیا بھی مفاد پرست ہے ہم ہی پاگل تھے جن کا آج بھی کام کرنے پر یقین نہیں گھر بیٹھے پیسے چاہے امریکہ اور یورپ میں نوکری کرنے کا شوق ہے ابھی بھی ۱۰% لوگ ہیں جو کاروباری سوچ رکھتے ہیں میری ڈان نیوز سے اپیل ہے لوگوں میں شعور پیدا کریں چائنہ کی مثال لے لو پاکستانی افریقہ میں کاروبار کریں جس سے پاکستان کی انڈسٹری خود بہ خود ترقی کرے گی امریکہ ،یورپ،چائنہ افریقہ میں کاروبار کر رہے ہیں ہم بڑے شوق سے ویلڈنگ،یا رنگ کا کام کرتے ہیں جدا کے لیے افریقہ میں تھوڑا پیسہ لگا کر بہت زیادہ منافع کمایا جا سکتا ہے خاص کر پراپرٹی ڈویلپمینٹ میں