ملک کے مختلف حصوں میں بارش کی پیش گوئی، اسموگ ختم ہونے کا امکان

11 نومبر 2017

لاہور: محکمہ موسمیات نے ملک کے مختلف حصوں میں آئندہ ہفتے سے بارش کی پیش گوئی کردی، جس کے بعد آلودہ دھند (اسموگ) ختم ہونے کا امکان ہے۔

واضح رہے کہ اسموگ کے باعث معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہے، جبکہ شہریوں کو صحت کے مسائل کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ اتوار کی رات سے بارش کا سسٹم پاکستان میں داخل ہوگا جس کے بعد پیر اور منگل کو ملک کے مختلف حصوں میں بارش کا امکان ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان کے بیشتر شہروں میں اسموگ سے زندگی مفلوج

محکمہ موسمیات کے مطابق بلوچستان کے بالائی علاقوں کوئٹہ، قلات، سبی، نصیرآباد، ژوب اور مکران جبکہ سندھ کے مختلف حصوں میں اتوار کی رات اور پیر کے دن تیز ہواؤں کے ساتھ بارش متوقع ہے۔

پیر سے بدھ تک خیبرپختونخوا، فاٹا، اسلام آباد اور پنجاب کے بالائی حصوں راولپنڈی، سرگودھا، گجرانوالہ، لاہور، فیصل آباد، ساہیوال ڈویژن، جنوبی پنجاب، کشمیر اور گلگت بلتستان کے بالائی علاقوں سمیت مختلف پہاڑی مقامات پرتیز ہواؤں، بارش اور برف باری کا بھی امکان ہے۔

محکمہ موسمیات کا کہنا تھا کہ آئندہ ہفتے میں متوقع بارش کے باعث درجہ حرارت میں کمی ہوگی جس کے باعث شہری علاقوں میں اسموگ کا خاتمہ ہوگا۔

خیال رہے کہ بدترین دھند کے باعث حد نگاہ کم ہونے سے پشاور سے سبی، پنڈی بھٹیاں سے فیصل آباد، لاہور سے کوٹ مومن تک موٹرویز کو مختلف مقامات سے بند کرنا پڑا تھا۔

حدنگاہ کم ہونے کے باعث شہریوں کو جی ٹی روڈ، نیشنل ہائی وے پشاور سے سکھر سفر میں مشکلات کا سامنا رہا، جس کے باعث حادثات سے بچنے کے لیے شہریوں نے سفر کے دوران احتیاط کا مظاہرہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں: اسموگ کیا ہے اور اس سے بچنا کیسے ممکن؟

لاہور میں دن 11 بجے اسوگ سے کم ہونے والی حد نگاہ بہتر ہوجاتی ہے، اس کے باوجود پورا دن دھند برقرار رہتی ہے، اسموگ میں آلودہ ہوا کے باعث شہری آنکھوں کے جلنے، گلے میں خراش، دمے اور دیگر مختلف بیماریوں کا شکار ہورہے ہیں۔

واضح رہے اسموگ کے باعث لاہور سمیت صوبے کے دیگر ہوائی اڈوں پر پروازوں کا شیڈول بری طرح متاثر ہوا، مختلف پروازوں میں تاخیر اور ملتوی ہونے سے شہریوں کو پریشانی کا سامنا رہا۔

محکمہ ماحولیات حکام کا کہنا تھا کہ ہوا اسموگ کے اثرات کو ختم کرسکتی ہے لیکن اس کے لیے آئندہ ہفتے تک انتظار کرنا پڑے گا۔


یہ خبر 11 نومبر 2017 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں