پاکستانی لڑکی کا کریم بائیک کا منفرد سفر

اپ ڈیٹ 12 نومبر 2017

Email


—فوٹو: لکھاری
—فوٹو: لکھاری

میں ایک 28 سالہ غیر شادی شدہ لڑکی ہوں، میں کراچی کے علاقے گلستان جوہر میں پلی بڑھی ہوں، اس علاقے کو صوبائی دارالحکومت کے متوسط طبقے کے افراد کے علاقے کے طور پر جانا جاتا ہے۔

میرا اپنا خیال ہے کہ جن گھرانوں میں خواتین کو تعلیم دی جاتی ہے، وہاں بھی ان سے عمومی سماجی روایات پر عمل کی توقع ہوتی ہے، تاکہ ان کو غلط نظریے سے نہ دیکھا جائے، مثال کے طور پر خواتین کو کبھی موٹر سائیکل پر اپنے خاندان کے کسی فرد کے ساتھ بھی سفر کرنے کا موقع ملتا ہے، تو وہ روایتی طور پر اس طرح بیٹھتی ہیں جیسے ڈرائنگ روم میں بیٹھی ہوں، حالانکہ سب جانتے ہیں موٹر سائیکل پر اس طرح بیٹھنا خطرناک ہونے کے ساتھ ساتھ کس قدر بے آرامی کا سبب بنتا ہے۔

اور خواتین کے لیے یہ سلسلہ صرف موٹر سائیکل کی سواری تک محدود نہیں، وہ اگر گھر کے ڈرائنگ روم میں بھی کبھی صوفے پر بیٹھیں گی تو وہ ایک مرد کی طرح نہیں بلکہ ایک خاتون کی طرح ہی کے انداز میں بیٹھیں گی۔

یہ بھی پڑھیں: کریم کی بائیک سروس

میں نے آن لائن بائیک رائیڈنگ کی سہولیات فراہم کرنے والی ’کریم رائیڈنگ‘ سروس کو استعمال کرنے کا تجربہ کیا، جو میرے لیے ایک منفرد تجربہ تھا۔

بائیک رائیڈنگ کا پہلا تجربہ

اگرچہ میں کافی عرصے سے کریم کی کار سروس استعمال کر رہی ہوں، لیکن پہلی بار میں نے کریم کی بائیک سروس استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔

بائیک رائیڈنگ کو استعمال کرنے سے قبل میرے ذہن میں یہ سوالات ضرور اٹھے کہ پاکستان جیسے ملک میں ایک تنہا لڑکی کی جانب سے جہاں کار سروس کو اچھا نہیں سمجھا جاتا، وہیں بائیک رائیڈنگ کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

اور خصوصا اس وقت جب بائیک کے سفر کا انتخاب کرنے والی خاتون کے سر پر دوپٹہ بھی نہ ہو، اور اس نے قدرے فیشن ایبل ٹی شرٹ پہن رکھی ہو تو یہ تصور کرنا بھی مشکل ہوتا ہے کہ وہ بائیک سروس استعمال کرے۔

مزید پڑھیں: کریم اور اوبر کے بعد اب بائیکیا

لیکن میں نے ان تمام سوالوں کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنے آفیس آئی آئی چندریگر روڈ سے اپنے گھر گلستان جوہر تک بائیک رائیڈنگ کا فیصلہ کیا، جو میرے علاوہ خود بائیک رائیڈر کیپٹن کے لیے بھی حیران کن تھا۔

کریم کا بائیک رائیڈر کیپٹن جب مجھے لینے پہنچا تو انہوں نے مجھ سے سوال کیا کہ کہیں میں نے غلطی سے بائیک رائیڈر کو تو کال نہیں کی؟

میں نے کیپٹن کے سوال پر دل ہی دل میں مسکرانے کے بعد جواب دیا کہ نہیں، میں نے بائیک رائیڈنگ کے لیے ہی کال کی ہے۔

بہرحال تھوڑی سی بات چیت اور کیپٹن کی جانب سے ہیلمٹ دیے جانے کے بعد میرے پہلے منفرد بائیک کے سفر کا خوشگوار آغاز ہوا۔

بائیک پر بیٹھتے وقت میں لڑکھڑائی اور غلطی سے بائیک کیپٹن کے کندھے پر ہاتھ رکھ لیا, لیکن فوراً معذرت بھی کرلی، بائیک کیپٹن ایک پیشہ ور آدمی تھا، اس نے میری معذرت قبول کرتے ہوئے مجھے تسلی دی، ساتھ ہی پوچھا کہ ’میڈم، آپ آرام سے بیٹھی ہیں نہ؟‘

مجموعی طور پر میرا پہلا موٹر سائیکل کا سفر انتہائی خوشگوار رہا۔

پہلے سفر میں پیش آنے والے خراب تجربات

میں نے جیسے ہی کریم بائیک رائیڈنگ کے سفر کا آغاز کیا تو میں کسی سوچ میں پڑے بغیر دیگر خواتین کے بر عکس محفوظ انداز میں مردوں کی طرح بائیک پر بیٹھ گئی۔

یہ بھی پڑھیں: کریم نے ڈیلیوری چاچا سروس خرید لی

مردوں کی طرح میرے بیٹھنے پر کریم کیپٹن کو تعجب ہوا، اور معترض ہوتے ہوئے تصدیق کرنا چاہی کہ میں ایسے ہی مردوں کی طرح بیٹھوں گی؟ جس پر میں نے جواب دیا، میں اسی طرح بیٹھ کر سفر کروں گی۔

کریم کیپٹن نے دلیل دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح نہیں بلکہ اسی طرح بیٹھیں، جس طرح خواتین بیٹھتی ہیں، لیکن میں بضد رہی۔

بائیک کے کیپٹن نے خواتین کے اس طرح بیٹھنے پر اپنا مسئلہ بیان کرتے ہوئے وضاحت کی کہ ’لوگ دیکھتے ہیں نہ!‘

بہرحال کیپٹن اور میرے درمیان کچھ جملوں کے تبادلوں کے بعد ہمارا سفر شروع ہوا۔

جب میرا سفر ختم ہوا اور میں آفس سے گھر پہنچی تو کیپٹن کریم نے کہا کہ ’آپ آئندہ بائیک رائیڈنگ نہیں بلکہ کار سروس ہی استعمال کرنا‘۔

میں اس بائیک رائیڈ میں بہت بے آرام رہی،بائیک کیپٹن کے رویے سے بھی کافی دل برداشتہ ہوئی، اتنی کہ میں نے اس کے بعد کچھ دن بائیک رائیڈ لی ہی نہیں، حالانکہ موٹر سائیکل سروس سے مجھے 40 فیصد کے قریب بچت ہو چکی تھی.

میں نے بالکل بھی یہ نہیں سوچا کہ میں مردانہ معاشرے میں ایک خاتون کی حیثیت سے بائیک رائیڈنگ سروس استعمال کر رہی ہوں۔

ظاہر ہے خوف کا شکار تو میں بھی ہوئی، اور کسی لمحے ڈر بھی دل سے ہو کر گزرا لیکن میں نے تمام خوف اور سوچوں کو سائیڈ پر رکھ کر اپنی منزل پر پہنچنے کی ٹھانی۔

واضح رہے کہ مختلف وقتوں میں بائیک رائیڈ کے دوران روایات کے برعکس اپنا موبائل فون بھی استعمال کیا، نہ صرف میں نے تصاویر کھینچیں، بلکہ ویڈیو بھی بنائی۔


مکمل مضمون پڑھنے کے لیے اس لنک کو کلک کریں