— فوٹو: اے پی
— فوٹو: اے پی

بغداد: ایران اور عراق کے درمیان سرحدی علاقوں میں 7.3 شدت کے زلزلے کے نتیجے میں دونوں ممالک میں اب تک 415 افراد ہلاک جبکہ ہزاروں زخمی ہوگئے۔

امریکی جیولوجیکل سروے کی رپورٹ کے مطابق زلزلہ عراق اور ایران کی سرحد کے قریب آیا، جس کی شدت سے خطے کے دیگر ممالک میں بھی جھٹکے محسوس کیے گئے۔

امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ نے رپورٹ کیا کہ زلزلے میں 400 زائد افراد کی ہلاکت ہوئی جبکہ 6 ہزار سے زائد زخمی ہوئے۔

مزید پڑھیں: پاکستان میں زلزلوں کی تاریخ

رپورٹس کے مطابق زلزلے کا مرکز ایران کے سرحد کے قریب عراق کا شہر حلبجہ تھا، جس کے بعد 145 کے لگ بھگ ذیلی جھٹکے (آفٹر شاکس) بھی محسوس کیے گئے۔

ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’آئی آر این اے‘ کی رپورٹ میں کہا گیا کہ خوفناک زلزلے میں 407 افراد ہلاک ہوئے۔

ایجنسی کا کہنا تھا کہ زلزلے سے کرمنشاہ، قصر شیریں اور سَرپورلِ زہاب شہروں کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا۔

ایران کے صوبے کرمنشاہ میں لوگ زلزلے کے بعد گھروں سے نکل آئے—فوٹو: اے ایف پی
ایران کے صوبے کرمنشاہ میں لوگ زلزلے کے بعد گھروں سے نکل آئے—فوٹو: اے ایف پی

تاہم فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق اب تک زلزلے میں 415 افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور 6 ہزار 700 افراد زخمی ہیں جبکہ ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔

ایران کے صوبے کرمنشاہ کے ڈپٹی گورنر مجتبیٰ نکردار کا کہنا تھا کہ 'ہم تین ایمرجنسی ریلیف کیمپس قائم کر رہے ہیں'۔

ایران کے ایمرجنسی سروسز کے سربراہ پیر حسین کولی وند نے بتایا کہ 'سڑکوں کے ٹوٹ جانے اور لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے دیہی علاقوں میں ریسکیو کی ٹیمیں بھیجنے میں مشکلات پیش آرہی ہیں'۔

عراقی حکام کا کہنا تھا کہ زلزے کی وجہ سے صوبہ سلیمانیہ میں 8 افراد ہلاک جبکہ سیکڑوں زخمی ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں: میکسیکو میں 8.1 شدت کا زلزلہ، 5 افراد ہلاک

عراق کے محکمہ ارضیات نے فوری طور پر سرکاری ٹی وی پر انتباہ کی خبر جاری کی کہ شہری عمارتوں سے دور رہیں جبکہ لفٹ کے استعمال سے بھی اجتناب کریں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق زلزلے کے جھٹکے ایران، لبنان، کویت، ترکی سمیت پاکستان میں بھی محسوس کیے گئے۔

قبل ازیں 1990 میں ایران کے شمالی علاقے کیسپین سمندر کے قریب 7.4 شدت کے زلزلے نے 40 ہزار افراد کی جان لے لی تھی اور 3 لاکھ افراد زخمی ہوگئے تھے جبکہ 5 لاکھ افراد بے گھر بھی ہوئے تھے۔

بہت تھوڑے ہی وقت میں زلزے نے درجنوں شہر اور 2 ہزار کے قریب گاؤں میں تباہی مچا دی تھی۔

2003 میں جنوب مشرقی ایران کے مٹی کی اینٹوں کے لیے مشہور شہر بام میں خوفناک زلزلے سے 31 ہزار افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

بعد ازاں ایران میں متعدد مرتبہ زلزلے آئے اور 2005 کے زلزلے میں 600 افراد ہلاک ہوئے اور 2012 کے زلزلے میں 300 کے قریب افراد ہلاک ہوئے تھے۔