لاہور: امریکا نے پاکستان کی حکومت سے مطالبہ کیا کہ ہے وہ توہین مذہب کے قوانین کو منسوخ کردے۔

پیر کے روز جنیوا میں منعقدہ اجلاس میں عالمی ادارے یونیورسل پریوڈک رویوی (یو آر پی) کی رپورٹ پیش ہونے کے بعد امریکا کی نمائندگی کرنے والے جیز بریسٹن اسٹریسٹ کا کہنا تھا کہ ’توہین مذہب کے قانون اور سزائیں انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہیں، اس قانون کو جتنی جلدی ہوسکے منسوخ کر کے نیا قانون نافذ کیا جانا چاہیے‘۔

انہوں نے سفارش کی کہ پاکستانی حکومت توہین مذہب کے معاملے میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف تفتیش کرے اور سیکیورٹی ادارے اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔

جیز برسٹین کا کہنا تھا کہ ’ہمیں بین الاقوامی این جی اوز کے حوالے سے بنائی جانے والی پالیسی پر تشویش ہے جس کے ذریعے غیر تشدد پسند فلاحی اداروں کے کاموں پر پابندی عائد کی گئی‘۔

مزید پڑھیں: ختم نبوت کے حوالے سے متنازع ترمیم:تحقیقاتی رپورٹ جمع

برطانیہ کی نمائندگی کرنے والی میرام شارمن کا کہنا تھا کہ ‘ہم اس بات پر متفق ہیں کہ پاکستان میں اقلیتوں کی آزادی کا فقدان ہے اور خواہش کرتے ہیں کہ پاکستان میں موجود دیگر مذاہب کے لوگ بھی امتیازی سلوک کے بغیر انتخابات میں آزادانہ حصہ لے سکیں اور اقلیتوں کے لیے ایک قومی کمیشن تشکیل دیا جائے، جس میں دیگر چھوٹے مذاہب کے لوگوں کی بھی نمائندگی موجود ہو‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کو چاہیے کہ وہ سزائے موت کے قانون پر نظر ثانی کرے اور اسے صرف حساس نوعیت کے جرائم کو مخصوص کرنے کے لیے استعمال کرے‘۔

بھارت کی نمائندگی کرنے والے سمت سیٹھ نے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان، مقبوضہ کشمیر سے غیر قانونی قبضہ ختم کروانے کے لیے کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی حمایت کرتا ہے تاہم اُسے دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں ختم کرنے اور اُن کی معاشی مدد کرنے کے لیے اقدامات کرنے ہوں گے‘۔

بھارتی نمائندے نے پاکستان میں ہونے والی اقلیتوں کی زبردستی شادیوں کو ختم کروانے پر بھی زور دیا۔

پاکستان نے الزام عائد کیا کہ ’بھارت یو آر پی کے پلیٹ فارم کو گمراہ کن باتوں کے ذریعے سبوتاژ کرنا چاہتا ہے‘۔

یہ بھی پڑھیں: ختم نبوت قانون کو متاثر کرنے والی’کتابت کی غلطی‘درست کی جائے گی،ایاز صادق

خواجہ آصف کی نمائندگی میں پاکستانی وفد جبکہ اسپین، سینیگال، کینیڈا، متحدہ عرب امارات، عراق، ایران کے علاوہ دیگر ممالک کے وفود نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔

اگرچہ پاکستان یو آر پی کی سفارشات پر عمل درآمد کرنے کا پابند نہیں ہے تاہم اقوام متحدہ کے اجلاس میں شرکت کرنے کا مقصد دیگر ممالک کے ساتھ باہمی اتفاق کو فروغ دینا ہے۔

خواجہ آصف کا افتتاحی اور اختتامی تقریب میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ’اجلاس میں پیش کی گئی سفارشات قابل قبول ہیں‘۔


یہ خبر 14 نومبر 2017 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی