اسلام آباد: قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے شریف خاندان کے خلاف اسلام آباد کی احتساب عدالت میں دائر 3 ریفرنسز میں سابق وزیراعظم نواز شریف کے صاحبزادوں حسن اور حسین نواز کی گرفتاری دینے کے عدالتی احکامات کی مقررہ مدت ختم ہونے کے بعد ملزمان کو اشتہاری قرار دینے کی تعمیلی رپورٹ اسلام آباد کے احتساب عدالت میں پیش کردی گئی۔

تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان کے اثاثوں سے متعلق تمام اداروں کو خطوط لکھے گئے تھے تاہم ایل ڈی اے اور ڈی ایچ اے میں ملزمان کی کوئی جائیداد نہیں جبکہ بحریہ ٹاؤن سے جواب آنے کا انتظار ہے۔

رپورٹ میں فلیگ شپ ریفرنس کے تفتیشی افسر محمد کامران کا بیان بھی قلمبند کیا گیا۔

نیب رپورٹ میں بتایا گیا کہ حسن اور حسین نواز جان بوجھ کر مفرور ہیں۔

مزید پڑھیں: حسن نواز اور حسین نواز کے کمپنی شیئرز منجمد کرنے کی تیاری

سماعت کے دوران حسین نواز کے چار بنک اکاؤنٹس کی تفصیلات بھی عدالت میں پیش کی گئیں۔

ڈپٹی پروسیکیوٹر جنرل نیب نے عدالت کو بتایا کہ حسین نواز کے اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک میں چار اکاؤنٹس ہیں جن میں رقم بھی موجود ہے۔

نیب رپورٹ میں بتایا گیا کہ حسین نواز کے ایک بینک اکاؤنٹ میں 3 ہزار 9 سو 91 ڈالرز، دوسرے میں 4 ہزار 2 سو 72 یورو، تیسرے اکاونٹ میں 2 سو 7 پاؤنڈز اور چوتھے بینک اکاونٹ میں3 لاکھ 82 ہزار 3 سو 81 روپے موجود ہیں۔

تفتیشی افسر کا کہنا تھا کہ دونوں ملزمان کے اشتہارات ان کی رہائش گاہوں کے باہر اور عدالتی نوٹس بورڈ پر آویزاں کردیے گئے ہیں جبکہ رائے ونڈ روڈ پر اعلانات بھی کرائے گئے اور ملزمان کے اشتہاروں کے لیے متعلقہ تھانوں میں اندارج بھی کرادیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ لندن میں ایون فیلڈ پراپرٹیز پر اشتہار آویزاں کرنے کے لیے نوٹس بذریعہ دفتر خارجہ بھجوا دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: حسن اور حسین نواز کی گرفتاری دینے کی مدت ختم

تفتیشی افسر نے بتایا کہ تمام قانونی تقاضے پورے کردیے گئے ہیں اب ملزمان کو اشتہاری قرار دیا جائے۔

خیال رہے کہ نیب نے گزشتہ ماہ 12 اکتوبر کو اسلام آباد کی احتساب عدالت سے ملنے والی ہدایت کے بعد فیڈرل جوڈیشل کمپلیکس (ایف جے سی) کے باہر ان کے اشتہاری قرار دینے کا حکم نامہ آویزاں کیا تھا۔

حکم نامے میں حسن نواز اور حسین نواز کو گرفتاری دینے اور فلیگ شپ انویسٹمنٹ، العزیزیہ اسٹیل ملز اور ایون فیلڈ جائیدادوں کے ریفنسز میں عدالتی کارروائی کا حصہ بننے کا کہا گیا تھا۔

نواز شریف، ان کے دونوں صاحبزادے حسن نواز اور حسین نواز، صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر کے خلاف یہ ریفرنسز سپریم کورٹ کی جانب سے پاناما پیپرز کیس کے حتمی فیصلے کی روشنی میں نیب کی جانب سے احتساب عدالت میں دائر کیے گئے تھے۔

احتساب عدالت کے حکم نامے کے مطابق اگر حسن نواز اور حسین نواز مسلسل عدالت میں سماعت سے غیر حاضر رہے تو ان کی جائیدادیں ضبظ کرلی جائیں گی۔

احتساب عدالت کی اب تک کی کارروائی

یاد رہے کہ احتساب عدالت نے 19 اکتوبر کو سبکدوش ہونے والے وزیراعظم، ان کی صاحبزادی اور داماد کیپٹن (ر) صفدر پر ایون فیلڈ فلیٹ کے حوالے سے دائر ریفرنس میں فرد جرم عائد کی تھی۔

بعد ازاں عدالت نے نواز شریف کو العزیزیہ اسٹیل ملز اور ہل میٹل اسٹیبلشمنٹ کے حوالے سے دائر علیحدہ ریفرنسز میں فرد جرم عائد کی تھی۔

ان تمام کیسز میں ملزمان نے صحت جرم سے انکار کیا تھا، اس کے علاوہ حسن اور حسن نواز بھی اپنے والد کے ہمراہ ریفرنسز میں نامزد ملزمان ہیں۔

نواز شریف پر العزیزیہ اسٹیل ملز اور ہل میٹل اسٹیبلشمنٹ میں فردِ جرم عائد ہونے کے ایک روز بعد (20 اکتوبر) اسلام آباد کی احتساب عدالت نے نیب کی جانب سے دائر فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس میں بھی فردِ جرم عائد کردی تھی۔

خیال رہے کہ اسلام آباد کی احتساب عدالت نے رواں ماہ 2 اکتوبر کو ہونے والی سماعت کے دوران نواز شریف کے صاحبزادوں حسن نواز، حسین نواز اور داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر کے خلاف عدالت میں پیش نہ ہونے پر ناقابلِ ضمانت وارنٹ جبکہ مریم نواز کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: ایون فیلڈ ریفرنس: نواز شریف، مریم اور کیپٹن صفدر پر فردِ جرم عائد

بعد ازاں مریم نواز اپنے شوہر کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کے ہمراہ 9 اکتوبر کو احتساب عدالت میں پیش ہونے کے لیے اسی روز صبح کے وقت لندن سے اسلام آباد کے بینظیر انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچی تھیں جہاں پہلے سے موجود نیب حکام نے کیپٹن (ر) صفدر کو ایئرپورٹ سے گرفتار کر لیا تھا جبکہ مریم نواز کو جانے کی اجازت دے دی تھی۔

کیپٹن (ر) صفدر کو نیب حکام اپنے ساتھ نیب ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد لے گئے تھے جہاں ان کا بیان ریکارڈ کیا گیا اور بعدازاں طبی معائنے کے بعد احتساب عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔

9 اکتوبر کو ہونے والی سماعت کے دوران احتساب عدالت نے 50 لاکھ روپے کے علیحدہ علیحدہ ضمانتی مچلکے جمع کرانے کے بعد مریم نواز اور ان کے شوہر کیپٹن (ر) صفدر کی ضمانت منظور کر لی تھی جبکہ عدالت نے حسن اور حسین نواز کا مقدمہ دیگر ملزمان سے الگ کرکے انہیں اشتہاری قرار دیتے ہوئے ان کے دائمی وارنٹ گرفتاری بھی جاری کر دیئے تھے۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے پاناما پیپرز کیس کے حتمی فیصلے میں دی گئی ہدایات کی روشنی میں قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے نواز شریف اور ان کے صاحبزادوں کے خلاف 3 ریفرنسز دائر کیے گئے تھے جبکہ مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کا نام ایون فیلڈ ایونیو میں موجود فلیٹس سے متعلق ریفرنس میں شامل ہے۔